muddat hui us ko ki miri khalvat-e-shab mein
paighaam jo laai thi sabaa yaad hai ab tak

Sardar Khan Soz
Sardar Khan Soz
Sardar Khan Soz
Popular Shayari
3 totalkahne pe mire aao mire paas to baiTho
vo un ke bigaDne ki adaa yaad hai ab tak
shaanon pe mire vasl ki shab khaas adaa se
rahti thi tiri zulf-e-rasaa yaad hai ab tak
Ghazalغزل
ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی دل کے اجڑے ہوئے گلشن پہ جوانی آئی پیاس کیا اس کی بجھائیں گے کوئی عارض و لب لب دریا نہ جسے پیاس بجھانی آئی گرمیٔ رنج و الم ہی میں بسر کی ہم نے زندگی میں تو کوئی رت نہ سہانی آئی اس کا عنوان ترا نام ہی رکھا ہم نے بھولی بسری جو کوئی یاد کہانی آئی ہم محبت کا بھی مینار بنا سکتے تھے ہم کو نفرت کی نہ دیوار گرانی آئی دیکھ کر اس گل شاداب کو اک محفل میں بعد مدت کے پھر اک یاد پرانی آئی آرزو دل کو تھی اے سوزؔ غزل خوانی کی راس آئی تو ہمیں مرثیہ خوانی آئی
un ko dekhaa to tabiat mein ravaani aai
تیرا وہ کرم تیری جفا یاد ہے اب تک سب کچھ مجھے اے جان حیا یاد ہے اب تک آیا تھا زباں پر مری کیوں حرف تمنا کیوں ہو گیا تھا کوئی خفا یاد ہے اب تک شانوں پہ مرے وصل کی شب خاص ادا سے رہتی تھی تری زلف رسا یاد ہے اب تک کہنے پہ مرے آؤ مرے پاس تو بیٹھو وہ ان کے بگڑنے کی ادا یاد ہے اب تک آ جاؤ اگر تم تو تمہیں سے کبھی پوچھوں کیا بھول گیا ہوں مجھے کیا یاد ہے اب تک برسی تھی جو پیمانہ اٹھاتے ہی ہمارے کیا تم کو بھی وہ مست گھٹا یاد ہے اب تک رہتا تھا مرے ہاتھ میں جو دست حنائی اس ہاتھ کی خوشبوئے حنا یاد ہے اب تک مدت ہوئی اس کو کہ مری خلوت شب میں پیغام جو لائی تھی صبا یاد ہے اب تک تائید میں جس کے تھے دھڑکتے ہوئے دو دل کیا تم کو وہ پیمان وفا یاد ہے اب تک تھا سوزؔ سر میکدہ جب کوئی ہم آغوش وہ صحبت رنگیں بخدا یاد ہے اب تک
teraa vo karam teri jafaa yaad hai ab tak
میرے افکار و خیالات کا محور تم ہو الغرض میری ہر اک بات کا محور تم ہو میرے دن رات ہیں منسوب تمہیں سے بخدا دن کا محور بھی ہو تم رات کا محور تم ہو کیوں نہ مقبول زمانہ ہوں حکایات مری میری تابندہ حکایات کا محور تم ہو یہ حقیقت وہی سمجھیں گے جو ہیں اہل نظر میرے سب کشف و کرامات کا محور تم ہو کیوں نہ پر سوز ہوں اشعار غزل کے میری میرے اشعار مری ذات کا محور تم ہو
mere afkaar-o-khayaalaat kaa mehvar tum ho
مرحلے آسان سارے ہو گئے تم ہمارے ہم تمہارے ہو گئے آپ سے ملنا خوشی کی بات ہے آپ تو آنکھوں کے تارے ہو گئے مٹ گئیں محرومیاں اور فاصلے سب سے چھٹ کر وہ ہمارے ہو گئے آپ کے آتے ہی تاریکی گئی دل میں روشن چاند تارے ہو گئے آئی جب گرداب میں کشتی مری دور نظروں سے کنارے ہو گئے اشک تھے آنکھوں میں تھے جب تک مری آ کے پلکوں پر شرارے ہو گئے وہ جو آئے تو مری قسمت کے سوزؔ کس قدر اونچے ستارے ہو گئے
marhale aasaan saare ho gae
یہ کوئی بات ہوئی مل کے جدا ہو جانا کاش آئے تمہیں پابند وفا ہو جانا اس تصور ہی سے دل کانپ رہا ہے میرا میرے محبوب کا اور مجھ سے جدا ہو جانا یہ سر عرش معلیٰ بھی پہنچ جائے تو کیا نہیں ممکن کبھی انساں کا خدا ہو جانا اہل محفل نے تو سمجھا تھا حقیقت اس کو اک دکھاوا تھا ترا مجھ سے خفا ہو جانا آرزو ہے مری تقدیر میں لکھا ہوتا رہ گزر میں تری نقش کف پا ہو جانا حاصل عمر رواں اس کے سوا کچھ بھی نہیں سوزؔ اس جان تمنا پہ فدا جانا
ye koi baat hui mil ke judaa ho jaanaa
آنکھ میں آنسو لبوں پر آہ دل میں درد ہے تیرے سودائی کی نظروں میں تو دنیا گرد ہے اک جھلک دیکھی تھی اس نے ان کی اوج چرخ پر رشک سے مہتاب کا چہرہ ابھی تک زرد ہے خوش نصیبان رہ الفت تو منزل پا گئے اپنے حصے میں جو آئی وہ سفر کی گرد ہے میری بربادی نے ان کو اور رسوا کر دیا اب تو دنیا کہہ رہی ہے وہ بڑا بے درد ہے ابتدائے عشق کی وہ گرمیٔ لذت کہاں اک زمانہ ہو گیا یہ آگ بالکل سرد ہے اس کی چھوڑو تم نہ بھٹکو ملکوں ملکوں پیار میں سوزؔ تو رسوا ہے دیوانہ ہے کوچہ گرد ہے
aankh mein aansu labon par aah dil mein dard hai





