tujhe ham dopahar ki dhuup mein dekheinge ai ghunche
abhi shabnam ke rone par hansi maalum hoti hai

Shafiq Jaunpuri
Shafiq Jaunpuri
Shafiq Jaunpuri
Popular Shayari
5 totalishq ki ibtidaa to jaante hain
ishq ki intihaa nahin maalum
jalaa vo shama ki aandhi jise bujhaa na sake
vo naqsh ban ki zamaana jise miTaa na sake
fareb-e-raushni mein aane vaalo main na kahtaa thaa
ki bijli aashiyaane ki nigahbaan ho nahin sakti
aa gayaa thaa ek din lab par jafaaon kaa gilaa
aaj tak jab un se milte hain to sharmaate hain ham
Ghazalغزل
ایسی نیند آئی کہ پھر موت کو پیار آ ہی گیا رات بھر جاگنے والے کو قرار آ ہی گیا خاک میں یوں نہ ملانا تھا مری جاں تم کو اک وفادار کے دل میں بھی غبار آ ہی گیا یاد گیسو نے تسلی تو بہت دی لیکن سامنے رات مآل دل زار آ ہی گیا کشتۂ ناز کی میت پہ نہ آنے والا پھول دامن میں لیے سوئے مزار آ ہی گیا یہ بیاباں یہ شب ماہ یہ خنکی یہ ہوا اے خزاں تجھ کو بھی انداز بہار آ ہی گیا آفریں اشک ندامت کی درخشانی کو اک سیہ کار کے چہرے پہ نکھار آ ہی گیا بعد منزل بھی نہ محسوس ہوا مجھ کو شفیقؔ مرحبا صل علیٰ کوچۂ یار آ ہی گیا
aisi niind aai ki phir maut ko pyaar aa hi gayaa
کوئی ٹوٹی ہوئی کشتی کا تختہ بھی اگر ہے لا ابھی ساحل پہ ہے تو اور پیش از مرگ واویلا اندھیری رات سے ڈرتا ہے میر کارواں ہو کے اندھیرا ہے تو اپنے داغ دل کی روشنی پھیلا نہ گھبرا تیرگی سے تو قسم ہے سنگ اسود کی کہ تاریکی ہی میں سوئی ہے شام گیسوئے لیلا مذاق شادی و غم تا کجا اے خاک کے پتلے جو ان دونوں سے بالاتر ہوں ایسی بھی کوئی شے لا شراب عصر نو میں بے خودی ہے نے خودی ساقی جو تو نے آج سے پہلے پلائی تھی وہی مے لا من انداز قدت را می شناسم مرد افرنگی کہ کپڑے صاف ہیں لیکن بدن ناپاک دل میلا کسی کا ناز حسن اور اے شفیقؔ اپنا یہ کہہ دینا کہ قیمت میں اگر دل کے برابر ہو کوئی شے لا
koi TuuTi hui kashti kaa takhta bhi agar hai laa
پردہ پڑا ہوا تھا خودی نے اٹھا دیا اپنی ہی معرفت نے تمہارا پتہ دیا در در کی ٹھوکروں نے شرف کو مٹا دیا قدرت نے کیوں غریب کو انساں بنا دیا اپنے وجود کا بھی تو کوئی ثبوت ہو میں تھا کہاں کہ مجھ کو کسی نے مٹا دیا اللہ رے جبہہ سائی خاک حریم دوست بندے کو بندہ سجدے کو سجدا بنا دیا حس مردہ تھی حیات مسلسل میں زیست کی تخریب زندگی نے پیام بقا دیا پھر اس کے گھر میں ہو نہ سکی روشنی کبھی جس کا چراغ تو نے جلا کر بجھا دیا کوئی خوشی خوشی نہیں اپنے لیے شفیقؔ کس کی نگاہ نے سبق غم پڑھا دیا
parda paDaa huaa thaa khudi ne uThaa diyaa
زندگی تجھ سے ہمیں اب کوئی شکوہ ہی نہیں اب تو وہ حال ہے جینے کی تمنا ہی نہیں انتہا عشق کی ہے آئنۂ دل پہ مرے ماسوا اس کے کوئی عکس ابھرتا ہی نہیں میرے افکار کو دیتی ہے جلا اس کی جفا غم نہ ہوتے تو یہ قرطاس سنورتا ہی نہیں مجھ کو حق بات کے کہنے میں تأمل کیوں ہو میں وہ دیوانہ ہوں جو دار سے ڈرتا ہی نہیں ہم کہ خوابوں سے بہل جاتے تھے لیکن افسوس جاگتی آنکھوں سے تو خواب کا رشتہ ہی نہیں میں کہ سورج ہو ادھر ڈوبا ادھر ابھروں گا میں وہ تیراک نہیں ہوں جو ابھرتا ہی نہیں وقت کے ساتھ بدلنے لگا ہر اک شفیقؔ جیسے اب مجھ سے کسی کا کوئی رشتہ ہی نہیں
zindagi tujh se hamein ab koi shikva hi nahin
کلی پر مسکراہٹ آج بھی معلوم ہوتی ہے مگر بیمار ہونٹوں پر ہنسی معلوم ہوتی ہے اسیری کی خوشی کس کو خوشی معلوم ہوتی ہے چراغاں ہو رہا ہے تیرگی معلوم ہوتی ہے بظاہر روئے گل پر تازگی معلوم ہوتی ہے مگر برباد چہرے کی خوشی معلوم ہوتی ہے نسیم صبح تو کیا سونے والوں کو جگائے گی ابھی تو صبح خود سوئی ہوئی معلوم ہوتی ہے چمن کا لطف کھوتا ہے چمن میں اجنبی ہونا خزاں بھی اپنے گلشن کی بھلی معلوم ہوتی ہے تجھے ہم دوپہر کی دھوپ میں دیکھیں گے اے غنچے ابھی شبنم کے رونے پر ہنسی معلوم ہوتی ہے چلیں گرم آندھیاں سورج بھی چمکا خاک مقتل پر وہی خون شہیداں کی نمی معلوم ہوتی ہے ذرا اے مے کشو انجام محفل پر نظر رکھنا کہ دور آخری میں نیند سی معلوم ہوتی ہے مہ و انجم کے خالق کچھ نئے تارے فروزاں کر کہ پھر آفاق میں بے رونقی معلوم ہوتی ہے سمندر بھی ہے دریا بھی ہے چشمے بھی ہیں نہریں بھی اور انساں ہے کہ اب تک تشنگی معلوم ہوتی ہے زمانے کی ترقی تشنۂ تکمیل ہے یا رب ابھی اک مرد مومن کی کمی معلوم ہوتی ہے نہ جاؤ دیکھ لو شمع سحر کا جھلملانا بھی یہ محفل کی بہار آخری معلوم ہوتی ہے تو پھر کرنا ہی پڑتا ہے وہاں اقرار قدرت کا جہاں انسان کو اپنی کمی معلوم ہوتی ہے مری اک آہ پر جو پھول دامن چاک کرتے تھے اب ان کو میرے نالوں پر ہنسی معلوم ہوتی ہے بظاہر چشم ساقی محو خواب ناز ہے لیکن جواب نرگس بیدار بھی معلوم ہوتی ہے ہمیشہ خوش رہے ان کی نگاہوں کی مسیحائی اب اپنی زندگی بھی زندگی معلوم ہوتی ہے محبت ہے ضرور ان سے مگر میری متانت کو نہ جانے کیوں یہ نسبت بھی بری معلوم ہوتی ہے شفیقؔ آثار ہیں مشرق کی جانب تازہ کرنوں کے یہ میری شام نو کی چاندنی معلوم ہوتی ہے
kali par muskuraahaT aaj bhi maalum hoti hai





