us ke baa'd agli qayaamat kyaa hai kis ko hosh hai
zakhm sahlaataa thaa aur ab daagh dikhlaataa huun main

Shaheen Abbas
Shaheen Abbas
Shaheen Abbas
Popular Shayari
7 totalye din aur raat kis jaanib uDe jaate hain sadiyon se
kahin rukte to main bhi shaamil-e-parvaaz ho saktaa
apni si khaak uDaa ke baiTh rahe
apnaa saa qaafila banaate hue
ik zamaane tak badan be-khvaab be-aadaab the
phir achaanak apni uryaani kaa andaaza huaa
harf ke aavaaza-e-aakhir ko kar detaa huun nazm
sher kyaa kahtaa huun khaamoshi ko phailtaa huun main
ab khulaa khvaab mein kuchh khvaab milaataa thaa main
khaak uDaataa thaa main sayyaaron ki sayyaaron par
lahu ke kinaare bhi zad par hain donon
ye kyaa zakhm hai mundamil hone vaalaa
Ghazalغزل
تم مرے اندر تھے اور بنتا رہا باہر سے میں باز آیا زندگی اور موت کے چکر سے میں وقت نامی غم مرے رستے کا پتھر تھا کبھی اب یہ پتھر بھاگتا ہے مجھ سے اور پتھر سے میں پھر مجھے رک رک کے کہنا پڑ رہا ہے ماجرا پھر نمٹ کر آ رہا ہوں خاک و خاکستر سے میں کھو بھی سکتا ہے توازن ڈھ بھی سکتا ہے وجود وقت ہوں باہر سے میں نا وقت ہوں اندر سے میں اب تماشہ طے سمجھیے ہر گلی کے موڑ پر شام تک کے خواب لے کر چل پڑا ہوں گھر سے میں باہر آیا ہوں یہ ہجرت عام ہجرت تو نہیں رات دن اپنے اٹھا لایا ہوں سب اندر سے میں خاک میں دھنستے ہوئے اور خواب میں پھنستے ہوے آسماں کو ان دنوں روکے ہوے ہوں سر سے میں سارے دروازے مرے ہیں ساری دیواریں مری ایک منظر کھولتا ہوں دوسرے منظر سے میں
tum mire andar the aur bantaa rahaa baahar se main
شب گزاری کا مجھے بھی ہنر آیا ہے کوئی میرے ماتھے پہ ستارہ ابھر آیا ہے کوئی جیسے اس قافلۂ نم سے کوئی رہ گیا ہو رنج کرتا ہوا دریا ادھر آیا ہے کوئی میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کوئی اپنے مہمان کی خاموشی بھی اب توڑ ذرا دیکھ دنیا تری آواز پر آیا ہے کوئی یہ بتانا ذرا مشکل ہے کہ دیکھا کیوں ہے میں نے دیکھا ہے جہاں تک نظر آیا ہے کوئی میں بھی خوش ہوں مرے شعلے میں تماشہ تو ہوا روشنی دیکھ کے مجھ میں اتر آیا ہے کوئی
shab-guzaari kaa mujhe bhi hunar aayaa hai koi
دیا جلتا نہ تھا تو شام بھی ہوتی نہیں تھی وہی رہتی تھی خاموشی نئی ہوتی نہیں تھی اچانک مصرعۂ جاں سے بر آمد ہونے والے کہاں ہوتا تھا تو جب شاعری ہوتی نہیں تھی ہم ایسی روشنی میں رہ چکے ہیں جو سرا سر تمہاری ہوتی تھی پر تم نے کی ہوتی نہیں تھی کہو تو گفتگو سناؤں تم کو ان دنوں کی ہمارے درمیاں جب بات بھی ہوتی نہیں تھی ہنسی ہوتی تھی پر کرنے کو گریے کی جگہ بھی ہنسی ہوتی تھی یا شاید ہنسی ہوتی نہیں تھی دکھانا پڑتا تھا شعلہ اسے جب تو نہیں تھا دیے کو دیکھنے سے روشنی ہوتی نہیں تھی گھروں سے ہو کے آتے جاتے تھے ہم اپنے گھر میں گلی کا پوچھتے کیا ہو گلی ہوتی نہیں تھی
diyaa jaltaa na thaa to shaam bhi hoti nahin thi
غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا یہ آخری حجاب تھا جو ہٹ گیا حضوری و غیاب میں پڑا نہیں مجھے پلٹنا آتا تھا پلٹ گیا تری گلی کا اپنا ایک وقت تھا اسی میں میرا سارا وقت کٹ گیا خیال خام تھا سو چیخ اٹھا ہوں پھر مرا خیال تھا کہ میں نمٹ گیا ہمارے انہماک کا اڑا مذاق وہی ہوا نہ پھر ورق الٹ گیا بجا کہ دونوں وقت پھر سے آ ملے مگر جو وقت درمیاں سے ہٹ گیا
ghubaar shaam-e-vasl kaa bhi chhaT gayaa
چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر تیر کب لوٹ کے آئیں گے کماں داروں پر صبح اٹھے تو قدم کوئلہ تھے اور ہم تھے نیند میں چلتے رہے ہجر کے انگاروں پر داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہوتا تھا اب وہاں شام اتر آتی ہے کرداروں پر نقش عبرت کا سب اسباب اٹھایا خود ہی ہم نے یہ کام بھی چھوڑا انہیں دیواروں پر سایہ داری کی روایت بھی کہاں آ پہنچی موج خوں چھاؤں کئے رکھتی ہے تلواروں پر اب کھلا خواب میں کچھ خواب ملاتا تھا میں خاک اڑاتا تھا میں سیاروں کی سیاروں پر رات کے ٹوٹتے تاروں میں ہمیں رکھا گیا ہمیں پرکھا گیا گرتے ہوئے معیاروں پر
chaar samton mein nazar rakhtaa huun main chaaron par
چلتے میں قیام چل رہا ہے سب دانہ و دام چل رہا ہے دروازے بڑھا دئے گئے ہیں دیوار سے کام چل رہا ہے اک عشق چلا رہا ہے دل کو اور دل کا نظام چل رہا ہے ہم تم ہیں جو چل رہے ہیں تہ میں دریا کا تو نام چل رہا ہے تنہائی ہے سربراہ ایسی ویرانہ تمام چل رہا ہے اس باغ میں خامشی بہت ہے پھولوں سے کلام چل رہا ہے
chalte mein qayaam chal rahaa hai





