SHAWORDS
Shakir Dehlvi

Shakir Dehlvi

Shakir Dehlvi

Shakir Dehlvi

poet
14Sher
14Shayari
5Ghazal

Sherشعر

See all 14

Popular Sher & Shayari

28 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

hanstaa hai to har letaa hai har piir hamaari

ہنستا ہے تو ہر لیتا ہے ہر پیر ہماری اک شخص بدل دیتا ہے تاثیر ہماری آنکھوں کے کناروں پہ وہ کاجل کی لکیریں واپس ہمیں رکھنی پڑی شمشیر ہماری دیدار کی حسرت لئے آنکھوں میں کسی دن دیوار پہ لگ جائے گی تصویر ہماری آنکھوں سے وہ دے دیتا ہے جانے کی اجازت اشکوں کو بنا دیتا ہے زنجیر ہماری باقی یہ ترا جسم تو تجھ کو ہی مبارک ہنستے ہوئے یہ ہونٹ ہیں جاگیر ہماری

غزل · Ghazal

kar ke ik 'umr har ik samt safar dekh liyaa

کر کے اک عمر ہر اک سمت سفر دیکھ لیا چین دیتا ہے فقط اپنا ہی گھر دیکھ لیا دیکھتا ہے جو خدا دیکھ لے ڈر کس کو ہے ڈر ہے اس بات کا لوگوں نے اگر دیکھ لیا عارضی تیری طرح تیری ہر اک شے نکلی زندگی چھوڑ بھی جا تیرا ہنر دیکھ لیا پہلے اسباب تباہی کے بنائے خود ہی اب یہ شکوہ ہے کہ سیلاب نے گھر دیکھ لیا یوں لگا جیسے بزرگوں کی زیارت کر لی جب کبھی گاؤں کے آنگن کا شجر دیکھ لیا

غزل · Ghazal

vaise to ham aksar baatein karte hain

ویسے تو ہم اکثر باتیں کرتے ہیں لیکن سب سے چھپ کر باتیں کرتے ہیں آنکھوں سے سننی ہوں گی ان کی باتیں دیوانے چپ رہ کر باتیں کرتے ہیں جب وہ مجھ سے روٹھ کے بات نہیں کرتی اس کے سارے زیور باتیں کرتے ہیں خالی گھر کی دیواروں پر لکھا ہے آؤ بیٹھو آ کر باتیں کرتے ہیں کاش ہمارا بھی اک گھر ہو چھوٹا سا وہ دیکھو دو بے گھر باتیں کرتے ہیں انسانوں کی پیاس بجھانا مشکل ہے دریا جھیلیں ساگر باتیں کرتے ہیں خاموشی کا شور بہت ہے کمرے میں آؤ چل کر باہر باتیں کرتے ہیں

غزل · Ghazal

hamaaraa haal to vo khair kyaa hi samjhegaa

ہمارا حال تو وہ خیر کیا ہی سمجھے گا ہے بے وفا تو ہمیں بے وفا ہی سمجھے گا ہماری سادہ بیانی سمجھ نہیں پاتا ذہین ہے وہ بہت فلسفہ ہی سمجھے گا ہماری بات نہ سمجھو گے عقل والو تم ہماری بات کوئی سرپھرا ہی سمجھے گا جلا ہوں تیری طرح میں بھی روشنی کے لئے دیے کا درد تو آخر دیا ہی سمجھے گا لبوں پہ تیرتی مسکان کے پس پردہ چھپے ہیں غم یہ کوئی مسخرہ ہی سمجھے گا تری شکایتیں ساری خدا سے کرنی ہیں تو اب یہ جان لے تجھ کو خدا ہی سمجھے گا

غزل · Ghazal

be-gunaahon kaa lahu har samt bikhraa dekh kar

بے گناہوں کا لہو ہر سمت بکھرا دیکھ کر ہنس پڑے ظل الٰہی یہ تماشا دیکھ کر بعد مدت جب ہمارا سامنا خود سے ہوا رو پڑے تھے ہم خوشی سے اپنا چہرہ دیکھ کر عشق کی یہ کون سی منزل ہے جانے پر وہ اب مسکرا دیتا ہے ہم کو مسکراتا دیکھ کر رفتہ رفتہ کھل رہے ہیں ایک دوجے پر ابھی حال دل کہنا ہے اب موقع بھلا سا دیکھ کر ان کی آنکھوں کا اشارہ اور ہماری بے بسی مسکرا رہتے ہیں دل ہاتھوں سے جاتا دیکھ کر صبر کا دامن بھی اب ہونے لگا ہے تار تار آنکھ پتھر ہو گئی رستہ کسی کا دیکھ کر

Similar Poets