SHAWORDS
Siraj Lakhnavi

Siraj Lakhnavi

Siraj Lakhnavi

Siraj Lakhnavi

poet
55Sher
55Shayari
4Ghazal

Sherشعر

See all 55

Popular Sher & Shayari

110 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ye vo aazmaaish-e-sakht hai ki baDe baDe bhi nikal gae

یہ وہ آزمائش سخت ہے کہ بڑے بڑے بھی نکل گئے یہ انہیں پتنگوں کا ظرف ہے کہ پرائی آگ میں جل گئے تری آستین کی کہکشاں جو نظر پڑی تو مچل گئے جو تری خوشی کا نچوڑ تھے وہی اشک تاروں میں ڈھل گئے ملے سرد آہوں میں اشک غم تو شرار و برق میں ڈھل گئے یہ نہ جانے کیسے چراغ تھے کہ ہوا کے رخ پہ بھی جل گئے کسی کسی پھول پر کسی شاخ پر کہیں اب ٹھہرتی نہیں نظر مرے آشیانے کے ساتھ میں مرے حوصلے بھی تو جل گئے مرے ولولوں کے مزاج بھی بہ لحاظ موسم وقت ہیں کبھی سرد آہ میں جل گئے کبھی اشک بن کے پگھل گئے یہ تو کام ہمت دل کا ہے تری راہ میں پس و پیش کیا جو ٹھہر گئے وہ ٹھہر گئے جو نکل گئے وہ نکل گئے بس اک آنچ سی نظر آئی تھی ہے یہ راز اب بھی ڈھکا ڈھکا وہ تیرا حسین عتاب تھا کہ ہم اپنے تاؤ میں جل گئے جو تراشے فکر نے آئنہ ترا عکس حسن نظر بنا جنہیں تجھ سے کچھ بھی لگاؤ تھا وہ خیال شعر میں ڈھل گئے اٹھا شور محفل ناز سے ہوئیں آب دیدہ مسرتیں لیا کس نے نام سراجؔ کا کہ چراغ اشک کے جل گئے

غزل · Ghazal

khayaal-e-dost na main yaad-e-yaar mein gum huun

خیال دوست نہ میں یاد یار میں گم ہوں خود اپنی فکر و نظر کی بہار میں گم ہوں خوشی سے جبر زدہ اختیار میں گم ہوں عجیب دل کشیٔ ناگوار میں گم ہوں خود اپنی یاد فراموش کار میں گم ہوں بہانہ یہ ہے ترے انتظار میں گم ہوں نہ محتسب کی خوشامد نہ میکدے کا طواف خودی میں مست ہوں اپنی بہار میں گم ہوں ترا جمال بھی دیکھوں گا وقت آنے دے ابھی تو اپنے ہی آئینہ زار میں گم ہوں تو ہی پکار مرا نام لے کے اے غم عشق پڑا ہے وقت غم روزگار میں گم ہوں نہ شام کی ہے خبر اور نہ صبح کی پہچان سراجؔ گردش لیل و نہار میں گم ہوں

غزل · Ghazal

'ajab surat se dil ghabraa rahaa hai

عجب صورت سے دل گھبرا رہا ہے ہنسی کے ساتھ رونا آ رہا ہے مجھے دل سے بھلایا جا رہا ہے پسینے پر پسینا آ رہا ہے مروت شرط ہے اے یاد جاناں تمناؤں کا جی گھبرا رہا ہے مری نیندیں تو آنکھوں سے اڑا دیں مگر خود وقت سویا جا رہا ہے ادب کر اے غم دوراں ادب کر کسی کی یاد میں فرق آ رہا ہے یہ آدھی رات یہ کافر اندھیرا نہ سوتا ہوں نہ جاگا جا رہا ہے ذرا دیکھو یہ سرکش ذرۂ خاک فلک کا چاند بنتا جا رہا ہے سراجؔ اب دل کشی کیا زندگی میں بہ مشکل وقت کاٹا جا رہا ہے

غزل · Ghazal

aankhon mein aaj aansu phir DabDabaa rahe hain

آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں ہم کل کی آستینیں اب تک سکھا رہے ہیں احساں جتا جتا کر نشتر لگا رہے ہیں میری کہانیاں سب مجھ کو سنا رہے ہیں آنسو غم و خوشی کے جلوے دکھا رہے ہیں کچھ جگمگا رہے ہیں کچھ جھلملا رہے ہیں ساقی کے روٹھنے پر رندوں میں برہمی ہے ساغر سے آج ساغر ٹکرائے جا رہے ہیں اب چاہے شکل فردا جتنی حسین تر ہو جو دن گزر گئے ہیں وہ یاد آ رہے ہیں ہمت نہ ہار دینا اے حسرت نظارہ اک آفتاب سے ہم آنکھیں لڑا رہے ہیں وحشی ہیں کس کے کتنا ستھرا مذاق غم ہے شبنم سے آنسوؤں کے قطرے ملا رہے ہیں آنکھوں پر اپنی رکھ کر ساحل کی آستیں کو ہم دل کے ڈوبنے پر آنسو بہا رہے ہیں کھلتا سراجؔ کچھ تو یہ راز زندگی کا یہ ہر نفس میں کس کے پیغام آ رہے ہیں

Similar Poets