"aap ke paanv ke niche dil hai ik zara aap ko zahmat hogi"

Siraj Lakhnavi
Siraj Lakhnavi
Siraj Lakhnavi
Sherشعر
See all 55 →aap ke paanv ke niche dil hai
آپ کے پاؤں کے نیچے دل ہے اک ذرا آپ کو زحمت ہوگی
ho gaya a.ina-e-hal bhi gard-aluda
ہو گیا آئنہ حال بھی گرد آلودہ گود میں لاشئہ ماضی کو لیے بیٹھا ہوں
kaise phandega baagh ki divar
کیسے پھاندے گا باغ کی دیوار تو گرفتار رنگ و بو ہے ابھی
ye aadhi raat ye kafir andhera
یہ آدھی رات یہ کافر اندھیرا نہ سوتا ہوں نہ جاگا جا رہا ہے
har nafs utni hi lau dega 'siraj'
ہر نفس اتنی ہی لو دے گا سراجؔ جتنی جس دل میں حرارت ہوگی
ankhen khulin to jaag uThin hasraten tamam
آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تمام اس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں
Popular Sher & Shayari
110 total"ho gaya a.ina-e-hal bhi gard-aluda god men lasha-e-mazi ko liye baiTha huun"
"kaise phandega baagh ki divar tu giraftar-e-rang-o-bu hai abhi"
"ye aadhi raat ye kafir andhera na sota huun na jaaga ja raha hai"
"har nafs utni hi lau dega 'siraj' jitni jis dil men hararat hogi"
"ankhen khulin to jaag uThin hasraten tamam us ko bhi kho diya jise paaya tha khvab men"
kahaan hain aaj vo sham-e-vatan ke parvaane
bane hain aaj haqiqat unhin ke afsaane
aap ke paanv ke niche dil hai
ik zaraa aap ko zahmat hogi
ye aadhi raat ye kaafir andheraa
na sotaa huun na jaagaa jaa rahaa hai
kuchh aur maangnaa mere mashrab mein kufr hai
laa apnaa haath de mire dast-e-savaal mein
is soch mein baiThe hain jhukaae hue sar ham
uTThe tiri mahfil se to jaaeinge kidhar ham
aankhein khulin to jaag uThin hasratein tamaam
us ko bhi kho diyaa jise paayaa thaa khvaab mein
Ghazalغزل
ye vo aazmaaish-e-sakht hai ki baDe baDe bhi nikal gae
یہ وہ آزمائش سخت ہے کہ بڑے بڑے بھی نکل گئے یہ انہیں پتنگوں کا ظرف ہے کہ پرائی آگ میں جل گئے تری آستین کی کہکشاں جو نظر پڑی تو مچل گئے جو تری خوشی کا نچوڑ تھے وہی اشک تاروں میں ڈھل گئے ملے سرد آہوں میں اشک غم تو شرار و برق میں ڈھل گئے یہ نہ جانے کیسے چراغ تھے کہ ہوا کے رخ پہ بھی جل گئے کسی کسی پھول پر کسی شاخ پر کہیں اب ٹھہرتی نہیں نظر مرے آشیانے کے ساتھ میں مرے حوصلے بھی تو جل گئے مرے ولولوں کے مزاج بھی بہ لحاظ موسم وقت ہیں کبھی سرد آہ میں جل گئے کبھی اشک بن کے پگھل گئے یہ تو کام ہمت دل کا ہے تری راہ میں پس و پیش کیا جو ٹھہر گئے وہ ٹھہر گئے جو نکل گئے وہ نکل گئے بس اک آنچ سی نظر آئی تھی ہے یہ راز اب بھی ڈھکا ڈھکا وہ تیرا حسین عتاب تھا کہ ہم اپنے تاؤ میں جل گئے جو تراشے فکر نے آئنہ ترا عکس حسن نظر بنا جنہیں تجھ سے کچھ بھی لگاؤ تھا وہ خیال شعر میں ڈھل گئے اٹھا شور محفل ناز سے ہوئیں آب دیدہ مسرتیں لیا کس نے نام سراجؔ کا کہ چراغ اشک کے جل گئے
khayaal-e-dost na main yaad-e-yaar mein gum huun
خیال دوست نہ میں یاد یار میں گم ہوں خود اپنی فکر و نظر کی بہار میں گم ہوں خوشی سے جبر زدہ اختیار میں گم ہوں عجیب دل کشیٔ ناگوار میں گم ہوں خود اپنی یاد فراموش کار میں گم ہوں بہانہ یہ ہے ترے انتظار میں گم ہوں نہ محتسب کی خوشامد نہ میکدے کا طواف خودی میں مست ہوں اپنی بہار میں گم ہوں ترا جمال بھی دیکھوں گا وقت آنے دے ابھی تو اپنے ہی آئینہ زار میں گم ہوں تو ہی پکار مرا نام لے کے اے غم عشق پڑا ہے وقت غم روزگار میں گم ہوں نہ شام کی ہے خبر اور نہ صبح کی پہچان سراجؔ گردش لیل و نہار میں گم ہوں
'ajab surat se dil ghabraa rahaa hai
عجب صورت سے دل گھبرا رہا ہے ہنسی کے ساتھ رونا آ رہا ہے مجھے دل سے بھلایا جا رہا ہے پسینے پر پسینا آ رہا ہے مروت شرط ہے اے یاد جاناں تمناؤں کا جی گھبرا رہا ہے مری نیندیں تو آنکھوں سے اڑا دیں مگر خود وقت سویا جا رہا ہے ادب کر اے غم دوراں ادب کر کسی کی یاد میں فرق آ رہا ہے یہ آدھی رات یہ کافر اندھیرا نہ سوتا ہوں نہ جاگا جا رہا ہے ذرا دیکھو یہ سرکش ذرۂ خاک فلک کا چاند بنتا جا رہا ہے سراجؔ اب دل کشی کیا زندگی میں بہ مشکل وقت کاٹا جا رہا ہے
aankhon mein aaj aansu phir DabDabaa rahe hain
آنکھوں میں آج آنسو پھر ڈبڈبا رہے ہیں ہم کل کی آستینیں اب تک سکھا رہے ہیں احساں جتا جتا کر نشتر لگا رہے ہیں میری کہانیاں سب مجھ کو سنا رہے ہیں آنسو غم و خوشی کے جلوے دکھا رہے ہیں کچھ جگمگا رہے ہیں کچھ جھلملا رہے ہیں ساقی کے روٹھنے پر رندوں میں برہمی ہے ساغر سے آج ساغر ٹکرائے جا رہے ہیں اب چاہے شکل فردا جتنی حسین تر ہو جو دن گزر گئے ہیں وہ یاد آ رہے ہیں ہمت نہ ہار دینا اے حسرت نظارہ اک آفتاب سے ہم آنکھیں لڑا رہے ہیں وحشی ہیں کس کے کتنا ستھرا مذاق غم ہے شبنم سے آنسوؤں کے قطرے ملا رہے ہیں آنکھوں پر اپنی رکھ کر ساحل کی آستیں کو ہم دل کے ڈوبنے پر آنسو بہا رہے ہیں کھلتا سراجؔ کچھ تو یہ راز زندگی کا یہ ہر نفس میں کس کے پیغام آ رہے ہیں





