SHAWORDS
Zafar Sahbai

Zafar Sahbai

Zafar Sahbai

Zafar Sahbai

poet
7Sher
7Shayari
3Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

shab ke gham din ke azaabon se alag rakhtaa huun

شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں ساری تعبیروں کو خوابوں سے الگ رکھتا ہوں جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں اس کی تقدیس پہ دھبہ نہیں لگنے دیتا دامن دل کو حسابوں سے الگ رکھتا ہوں یہ عمل ریت کو پانی نہیں بننے دیتا پیاس کو اپنی سرابوں سے الگ رکھتا ہوں اس کے در پر نہیں لکھتا میں حساب دنیا دل کی مسجد کو خرابوں سے الگ رکھتا ہوں

غزل · Ghazal

amir-e-shahr is ik baat se khafaa hai bahut

امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت کہ شہر بھر میں سگ‌ درد چیختا ہے بہت ہر ایک زخم سے زخموں کی کونپلیں پھوٹیں جو باغ تم نے لگایا تھا اب ہرا ہے بہت ذرا سی نرم روی سے پہنچ گئے دل تک تناؤ تھا تو سمجھتے تھے فاصلہ ہے بہت جو دم گھٹے تو شکایت نہ کیجیئے صاحب کہ سانس لینے کو زہروں بھری ہوا ہے بہت چراغ لاکھوں ہوں روشن نظر نہیں آتے یہاں تو چہرہ پرستوں کو اک دیا ہے بہت یہ طے ہے مجھ سے کبھی ترک حق نہیں ہوگا کہ میری خاک میں یہ کیمیا ملا ہے بہت مماثلت کے حوالوں میں مت تلاش کرو عمومیت سے ہماری غزل جدا ہے بہت

غزل · Ghazal

aks zakhmon kaa jabin par nahin aane detaa

عکس زخموں کا جبیں پر نہیں آنے دیتا میں خراش اپنے یقیں پر نہیں آنے دیتا اس لیے میں نے خطا کی تھی کہ دنیا دیکھوں ورنہ وہ مجھ کو زمیں پر نہیں آنے دیتا عمر بھر سینچتے رہنے کی سزا پائی ہے پیڑ اب چھاؤں ہمیں پر نہیں آنے دیتا جھوٹ بھی سچ کی طرح بولنا آتا ہے اسے کوئی لکنت بھی کہیں پر نہیں آنے دیتا اپنے اس عہد کا انصاف ہے طاقت کا غلام آنچ بھی کرسی نشیں پر نہیں آنے دیتا چاہتا ہوں کہ اسے پوجنا چھوڑوں لیکن کفر جو خوں میں ہے دیں پر نہیں آنے دیتا

Similar Poets