bas main maayus hone vaalaa thaa
aur maulaa ne tujh ko bhej diyaa

Zubair Ali Tabish
Zubair Ali Tabish
Zubair Ali Tabish
Popular Shayari
16 totalbichhaD kar bhi huun zinda rahne vaalaa
tu hotaa kaun hai ye kahne vaalaa
is dar kaa ho yaa us dar kaa har patthar patthar hai lekin
kuchh ne meraa sar phoDaa hain kuchh par main ne sar phoDaa hai
us ke khat raat bhar yuun paDhtaa huun
jaise kal imtihaan ho meraa
apnaa kangan samajh rahe ho kyaa
aur kitnaa ghumaaoge mujh ko
aaj to dil ke dard par hans kar
dard kaa dil dukhaa diyaa main ne
Ghazalغزل
ab us kaa vasl mahngaa chal rahaa hai
اب اس کا وصل مہنگا چل رہا ہے تو بس یادوں پہ خرچہ چل رہا ہے محبت دو قدم پر تھک گئی تھی مگر یہ ہجر کتنا چل رہا ہے بہت ہی دھیرے دھیرے چل رہے ہو تمہارے ذہن میں کیا چل رہا ہے بس اک ہی دوست ہے دنیا میں اپنا مگر اس سے بھی جھگڑا چل رہا ہے دلوں کو توڑنے کا فن ہے تم میں تمہارا کام کیسا چل رہا ہے سبھی یاروں کے مقطع ہو چکے ہیں ہمارا پہلا مصرعہ چل رہا ہے یہ تابشؔ کیا ہے بس اک کھوٹا سکہ مگر یہ کھوٹا سکہ چل رہا ہے
bhare hue jaam par suraahi kaa sar jhukaa to buraa lagegaa
بھرے ہوئے جام پر صراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا جسے تیری آرزو نہیں تو اسے ملا تو برا لگے گا یہ ایسا رستہ ہے جس پہ ہر کوئی بارہا لڑکھڑا رہا ہے میں پہلی ٹھوکر کے باد ہی گر سنبھل گیا تو برا لگے گا میں خوش ہوں اس کے نکالنے پر اور اتنا آگے نکل چکا ہوں کے اب اچانک سے اس نے واپس بلا لیا تو برا لگے گا یہ آخری کنپکنپاتا جملہ کہ اس تعلق کو ختم کر دو بڑے جتن سے کہا ہے اس نے نہیں کیا تو برا لگے گا نہ جانے کتنے غموں کو پینے کے بعد تابش چڑھی اداسی کسی نے ایسے میں آ کے ہم کو ہنسا دیا تو برا لگے گا
vo paas kyaa zaraa saa muskuraa ke baiTh gayaa
وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا میں اس مذاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا جب اس کی بزم میں دار و رسن کی بات چلی میں جھٹ سے اٹھ گیا اور آگے آ کے بیٹھ گیا درخت کاٹ کے جب تھک گیا لکڑ ہارا تو اک درخت کے سائے میں جا کے بیٹھ گیا تمہارے در سے میں کب اٹھنا چاہتا تھا مگر یہ میرا دل ہے کہ مجھ کو اٹھا کے بیٹھ گیا جو میرے واسطے کرسی لگایا کرتا تھا وہ میری کرسی سے کرسی لگا کے بیٹھ گیا پھر اس کے بعد کئی لوگ اٹھ کے جانے لگے میں اٹھ کے جانے کا نسخہ بتا کے بیٹھ گیا
raaste jo bhi chamak-daar nazar aate hain
راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے آپ تو خیر سمجھ دار نظر آتے ہیں میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے پھر ملاقات کے آثار نظر آتے ہیں ایک ہی بار نظر پڑتی ہے ان پر تابشؔ اور پھر وہ ہی لگاتار نظر آتے ہیں
pahle muft mein pyaas baTegi
پہلے مفت میں پیاس بٹے گی بعد میں اک اک بوند بکے گی کتنے حسیں ہو ماشاء اللہ تم پہ محبت خوب جچے گی ظالم بس اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملے گی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھر بھوک لگے گی میں بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمے گی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑے گی دنیا کو ایسے بھولوں گا دنیا مجھ کو یاد کرے گی





