faasle aise bhi honge ye kabhi sochaa na thaa
saamne baiThaa thaa mere aur vo meraa na thaa

Adeem Hashmi
Adeem Hashmi
Adeem Hashmi
Popular Shayari
19 totalmire hamraah garche duur tak logon ki raunaq hai
magar jaise koi kam hai kabhi milne chale aao
ik khilaunaa TuuT jaaegaa nayaa mil jaaegaa
main nahin to koi tujh ko dusraa mil jaaegaa
kyuun parakhte ho savaalon se javaabon ko 'adim'
honT achchhe hon to samjho ki savaal achchhaa hai
bichhaD ke tujh se na dekhaa gayaa kisi kaa milaap
uDaa diye hain parinde shajar pe baiThe hue
huaa hai jo sadaa us ko nasibon kaa likhaa samjhaa
'adim' apne kiye par mujh ko pachhtaanaa nahin aataa
yaad kar ke aur bhi taklif hoti thi 'adim'
bhuul jaane ke sivaa ab koi bhi chaaraa na thaa
vo ki khushbu ki tarah phailaa thaa mere chaar-su
main use mahsus kar saktaa thaa chhu saktaa na thaa
maah achchhaa hai bahut hi na ye saal achchhaa hai
phir bhi har ek se kahtaa huun ki haal achchhaa hai
ham bahar haal dil o jaan se tumhaare hote
tum bhi ik-aadh ghaDi kaash hamaare hote
kaTi hui hai zamin koh se samundar tak
milaa hai ghaao ye dariyaa ko raasta de kar
sadaaein ek si yaksaaniyat mein Duub jaati hain
zaraa saa mukhtalif jis ne pukaaraa yaad rahtaa hai
Ghazalغزل
تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے مگر یہ کیا کہ ترے قرب سے فرار بھی ہے کرید اور زمیں موسموں کے متلاشی! یہیں کہیں مری کھوئی ہوئی بہار بھی ہے یہی نہ ہو تری منزل ذرا ٹھہر اے دل وہی مکاں ہے دیوں کی وہی قطار بھی ہے یوں ہی تو روح نہیں توڑتی حصار بدن ضرور اپنا کوئی بادلوں کے پار بھی ہے میں پتھروں سے ہی سر کو پٹخ کے لوٹ آیا چٹان کہتی رہی مجھ میں شاہکار بھی ہے یہ کیا کہ روک کے بیٹھا ہوا ہوں سیل ہوس مچان پر بھی ہوں اور سامنے شکار بھی ہے چھپا ہوا بھی ہوں جینے کی آرزو لے کے پناہ گاہ مری شیر کی کچھار بھی ہے
taalluq apni jagah tujh se barqaraar bhi hai
41 views
میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں مجھے سمجھ تو سہی میں تری زبان میں ہوں خود اپنی سانس کہ رکتی ہے اپنے چلنے سے یہ کیا گھٹن ہے میں کس تنگ سے مکان میں ہوں جلا رہا ہے مرے جسم کو مرا ہی کمال میں ایک تیر ہوں ٹوٹی ہوئی کمان میں ہوں گزر رہی ہے مرے سر سے گاہکوں کی نگاہ ذرا سی چیز ہوں لیکن بڑی دکان میں ہوں مرے قریب سے گزرا نہیں ہے سنگ تراش مجسمہ ہوں میں اب تک مگر چٹان میں ہوں مجھی میں گونج رہی ہے مرے سخن کی صدا نوائے گرم ہوں میں دشت بے زبان میں ہوں عدیمؔ بیٹھا ہوا ہوں پروں کے ڈھیر پہ میں خوش اس طرح ہوں کہ جیسے کسی اڑان میں ہوں
main guftugu huun ki tahrir ke jahaan mein huun
41 views
کوئی محشر بھی ہوتا کوئی پل تلوار ہو جاتا میں تیرا نام لیتا پاؤں رکھتا پار ہو جاتا اگر سورج اتر آتا سوا نیزے کی دوری پر وہاں بھی نام تیرا سایۂ دیوار ہو جاتا ادھر دیکھا نہیں آقا نے تو کچھ بھید ہے ورنہ جہنم پر نظر پڑتی تو وہ گلزار ہو جاتا ترے آنے سے پہلے اس لیے سب انبیا آئے زمانہ تیری آمد کے لیے تیار ہو جاتا ذرا سے دو جہاں کیسے ترا رتبہ بیاں کرتے کسی سے کس طرح اتنا بڑا اظہار ہو جاتا جب آئے تھے مرے آقا ادھر سے بھی گزر جاتے یہ خطہ بھی ذرا سا صاحب کردار ہو جاتا
koi mahshar bhi hotaa koi pul talvaar ho jaataa
41 views
دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں اتنا ویراں تو مزاروں کا مقدر بھی نہیں ڈوبتی جاتی ہیں مٹی میں بدن کی کشتیاں دیکھنے میں یہ زمیں کوئی سمندر بھی نہیں جتنے ہنگامے تھے سوکھی ٹہنیوں سے جھڑ گئے پیڑ پر پھل بھی نہیں آنگن میں پتھر بھی نہیں خشک ٹہنی پر پرندہ ہے کہ پتا ہے عدیمؔ آشیانہ بھی نہیں جس کا کوئی پر بھی نہیں جتنی پیاری ہیں مری دھرتی کو زنجیریں عدیمؔ اتنا پیارا تو کسی دلہن کو زیور بھی نہیں
dil ajab gumbad ki jis mein ik kabutar bhi nahin
41 views
رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو رستہ ہے دھوپ کا کوئی دیوار لے چلو طاقت نہیں زباں میں تو لکھ ہی لو دل کی بات کوئی تو ساتھ صورت اظہار لے چلو دیکھوں تو وہ بدل کے بھلا کیسا ہو گیا مجھ کو بھی اس کے سامنے اس بار لے چلو کب تک ندی کی تہہ میں اتاروگے کشتیاں اب کے تو ہاتھ میں کوئی پتوار لے چلو پڑتی ہیں دل پہ غم کی اگر سلوٹیں تو کیا چہرے پہ تو خوشی کے کچھ آثار لے چلو جتنے بھنور کہو گے پہن لوں گا جسم پر اک بار تو ندی کے مجھے پار لے چلو کچھ بھی نہیں اگر تو ہتھیلی پہ جاں سہی تحفہ کوئی تو اس کے لئے یار لے چلو
rakht-e-safar yunhi to na bekaar le chalo
41 views
غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا دریا ٹھہر گیا ہے کنارہ گزر گیا بس یہ سفر حیات کا اتنی سی زندگی کیوں اتنی جلدی راستہ سارا گزر گیا وہ جس کی روشنی سے چمکنا تھا بخت کو کس آسمان سے وہ ستارہ گزر گیا کیا ذکر اس گھڑی کا کڑی تھی کہ سہل تھی جو وقت جس طرح بھی گزارا گزر گیا تفہیم دوستی میں بڑی بھول ہو گئی پھر دور سے ہی دوست ہمارا گزر گیا کر کے یقین پھر سے کہ میں مشکلوں میں ہوں ٹھہرا نہیں وہ شخص دوبارہ گزر گیا اک وقت خوش نصیب سا آیا تو تھا عدیمؔ مدھم سی اک صدا میں پکارا گزر گیا مجرم ہوا تھا آنکھ جھپکنے کا میں عدیمؔ جو ذہن میں بسا تھا نظارہ گزر گیا
gham hai vahin pa gham kaa sahaaraa guzar gayaa
41 views





