SHAWORDS
Afzal Ahmad Syed

Afzal Ahmad Syed

Afzal Ahmad Syed

Afzal Ahmad Syed

poet
10Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

سحاب سبز نہ طاؤس نیلمیں لایا وہ شخص لوٹ کے اک اور سر زمیں لایا عطا اسی کی ہے یہ شہد و شور کی توفیق وہی گلیم میں یہ نان بے جویں لایا اسی کی چاپ ہے اکھڑے ہوئے کھڑنجے پر وہ خشت و خواب کو بیرون ازمگیں لایا وہ پیش برش شمشیر بھی گواہی میں کف بلند میں اک شاخ یاسمیں لایا کتاب خاک پڑھی زلزلے کی رات اس نے شگفت گل کے زمانے میں وہ یقیں لایا

sahaab-e-sabz na taaus-e-nilmin laayaa

41 views

غزل · Ghazal

ہوا ہے قطع مرا دست معجزہ تجھ پہ گیاہ زرد بہت ہے یہ سانحہ تجھ پہ میں چاہتا ہوں مجھے مشعلوں کے ساتھ جلا کشادہ تر ہے اگر خیمۂ ہوا تجھ پہ میں اپنے کشتہ چراغوں کا پل بنا دیتا کسی بھی شام مری نہر پیش پا تجھ پہ یہ کوئی کم ہے کہ اے ریگ شیشۂ ساعت اگا رہا ہوں میں اک نخل آئینہ تجھ پہ کہ اجنبی ہوں بہت سایۂ شجر کے لیے سو ریگ زرد میں ہوتا ہوں رونما تجھ پہ پکارتی ہے مجھے خاک خشت پیوستہ یہ نصب ہونے کا ہے ختم سلسلہ تجھ پہ

huaa hai qata miraa dast-e-mojaza tujh pe

41 views

غزل · Ghazal

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا جو حشر مجھ پہ بپا ہے وہ اہتمام اس کا سپاہ تازہ بھی اس کی صف نگاہ سے ہے صفائے سینۂ شمشیر پر ہے نام اس کا امان خیمۂ رم خوردگاں میں باقی ہے کہ نا تمام ہے اک شوق قتل عام اس کا کتاب عمر سے سب حرف اڑ گئے میرے کہ مجھ اسیر کو ہونا ہے ہم کلام اس کا دل شکستہ کو لانا ہے رو بہ رو اس کے جو مجھ سے نرم ہوا کوئی بند دام اس کا میں اس کے ہاتھ سے کس زخم میں کمی رکھوں شروع ناز بھی اس کا ہے اختتام اس کا

ye nahr-e-aab bhi us ki hai mulk-e-shaam us kaa

40 views

غزل · Ghazal

دعا کی راکھ پہ مرمر کا عطرداں اس کا گزیدگی کے لیے دست مہرباں اس کا گہن کے روز وہ داغی ہوئی جبیں اس کی شب شکست وہی جسم بے اماں اس کا کمند غیر میں سب اسپ و گوسفند اس کے نشیب خاک میں خفتہ ستارہ داں اس کا تنور یخ میں ٹھٹھرتے ہیں خواب و خوں اس کے لکھا ہے نام سر لوح رفتگاں اس کا چنی ہوئی ہیں تہہ خشت انگلیاں اس کی کھلا ہوا ہے پس ریگ بادباں اس کا وہ اک چراغ ہے دیوار خستگی پہ رکا ہوا ہو تیز تو ہر حال میں زیاں اس کا اسی سے دھوپ ہے انبار دھند ہے روپوش گرفت خواب سے برسر ہے کارواں اس کا

duaa ki raakh pe marmar kaa itr-daan us kaa

40 views

غزل · Ghazal

کچھ اور رنگ میں ترتیب خشک و تر کرتا زمیں بچھا کے ہوا اوڑھ کے بسر کرتا گل و شگفت کو آپس میں دسترس دیتا اور آئنے کے لیے آئنہ سپر کرتا چراغ کہنہ ہٹاتا فصیل مردہ سے گیاہ خام پہ شبنم دبیز تر کرتا وہ نیم نان خنک آب اور سگ ہم نام میں زیر سبز شجر اپنا مستقر کرتا وہ جس سے شہر کی دیوار بے نوشتہ ہے میں اس کی شاخ تہیہ کو بے ثمر کرتا میں چومتا ہوا اک عہد نامۂ منسوخ کسی قدیم سمندر میں رہ گزر کرتا

kuchh aur rang main tartib-e-khushk-o-tar kartaa

40 views

غزل · Ghazal

کبھی نہ خود کو بد اندیش دشت و در رکھا اتر کے چاہ میں پاتال کا سفر رکھا یہی بہت تھے مجھے نان و آب و شمع و گل سفر نژاد تھا اسباب مختصر رکھا ہوائے شام دلآزار کو اسیر کیا اور اس کو دشت میں پن چکیوں کے گھر رکھا وہ ایک ریگ گزیدہ سی نہر چلنے لگی جو میں نے چوم کے پیکاں کمان پر رکھا وہ آئی اور وہیں طاقچوں میں پھول رکھے جو میں نے نذر کے پتھر پہ جانور رکھا جبیں کے زخم پہ مثقال خاک رکھی اور اک الوداع کا شگوں اس کے ہاتھ پر رکھا گرفت تیز رکھی رخش عمر پر میں نے بجائے جنبش مہمیز نیشتر رکھا

kabhi na khud ko bad-andesh-e-dasht-o-dar rakkhaa

40 views

Similar Poets