SHAWORDS
Ahmad Nadeem Qasmi

Ahmad Nadeem Qasmi

Ahmad Nadeem Qasmi

Ahmad Nadeem Qasmi

poet
47Sher
47Shayari
63Ghazal

Sherشعر

See all 47

Popular Sher & Shayari

94 total

Ghazalغزل

See all 63
غزل · Ghazal

daavaa to kiyaa husn-e-jahaan-soz kaa sab ne

دعویٰ تو کیا حسن جہاں سوز کا سب نے دنیا کا مگر روپ بڑھایا تری چھب نے تو نیند میں بھی میری طرف دیکھ رہا تھا سونے نہ دیا مجھ کو سیہ چشمئ شب نے ہر زخم پہ دیکھی ہیں ترے پیار کی مہریں یہ گل بھی کھلائے ہیں تیری سرخی لب نے خوشبوئے بدن آئی ہے پھر موج صبا سے پھر کس کو پکارا ہے ترے شہر طرب نے درکار ہے مجھ کو تو فقط اذن تبسم پتھر سے اگر پھول اگائے مرے رب نے وہ حسن ہے انسان کی معراج تصور جس حسن کو پوجا ہے مرے شعر و ادب نے

غزل · Ghazal

miraa ghurur tujhe kho ke haar maan gayaa

مرا غرور تجھے کھو کے ہار مان گیا میں چوٹ کھا کے مگر اپنی قدر جان گیا کہیں افق نہ ملا میری دشت گردی کو میں تیری دھن میں بھری کائنات چھان گیا خدا کے بعد تو بے انتہا اندھیرا ہے تری طلب میں کہاں تک نہ میرا دھیان گیا جبیں پہ بل بھی نہ آتا گنوا کے دونوں جہاں جو تو چھنا تو میں اپنی شکست مان گیا بدلتے رنگ تھے تیری امنگ کے غماز تو مجھ سے بچھڑا تو میں تیرا راز جان گیا خود اپنے آپ سے میں شکوہ سنج آج بھی ہوں ندیمؔ یوں تو مجھے اک جہان مان گیا

غزل · Ghazal

labon pe narm tabassum rachaa ke dhul jaaein

لبوں پہ نرم تبسم رچا کے دھل جائیں خدا کرے مرے آنسو کسی کے کام آئیں جو ابتدائےسفر میں دیے بجھا بیٹھے وہ بد نصیب کسی کا سراغ کیا پائیں تلاش حسن کہاں لے چلی خدا جانے امنگ تھی کہ فقط زندگی کو اپنائیں بلا رہے ہیں افق پر جو زرد رو ٹیلے کہو تو ہم بھی فسانوں کے راز ہو جائیں نہ کر خدا کے لئے بار بار ذکر بہشت ہم آسماں کا مکرر فریب کیوں کھائیں تمام مے کدہ سنسان میگسار اداس لبوں کو کھول کے کچھ سوچتی ہیں مینائیں

غزل · Ghazal

hotaa nahin zauq-e-zindagi kam

ہوتا نہیں ذوق زندگی کم بنیاد حیات ہے ترا غم احساس جمال ابھر رہا ہے جب سے ترا التفات ہے کم تیرے ہی غموں نے مجھ کو بخشی کوندے کی لپک غزال کا رم سامان ثبات ہیں سفر میں امید کی پیچ راہ کے خم شمعوں کی لویں ہیں یا زبانیں آنسو ہیں کہ احتجاج پیہم انجم سے کھلائے گی شگوفے شبنم سے لدی ہوئی شب غم طوفان کا منتظر کھڑا ہے یہ عین سحر کو شب کا عالم

غزل · Ghazal

kisi laa-ilaaj rajaai ne ye khabar chaman mein uDaai hai

کسی لا علاج رجائی نے یہ خبر چمن میں اڑائی ہے کوئی پتہ جب نہ ہو پیڑ پر تو سمجھ لو فصل گل آئی ہے کوئی اشتراک ضرور ہے وہ ہو رنگ کا کہ امنگ کا مرا دل بھی تو گل سرخ ہے ترا ہاتھ بھی تو حنائی ہے وہ کشش کچھ اور ہی چیز ہے جسے حسن کہتے ہیں اہل دل نہ جمال عارض و چشم و لب نہ کمال چست قبائی ہے سفر حیات کے موڑ پر مجھے تو ملا کہ خدا ملا یہی میرا کعبہ جستجو یہی میری حد رسائی ہے میں جھکوں تو چاند جھکا رہے میں رکوں تو وقت رکا رہے میں تری وفا کا جب اہل ہوں مرے بس میں ساری خدائی ہے میں ندیمؔ قریہ سیم و زر سے بھی سر کشیدہ گزر گیا جو مری انا کا غرور ہے مری عمر بھر کی کمائی ہے

غزل · Ghazal

apne maahaul se the qais ke rishte kyaa kyaa

اپنے ماحول سے تھے قیس کے رشتے کیا کیا دشت میں آج بھی اٹھتے ہیں بگولے کیا کیا عشق معیار وفا کو نہیں کرتا نیلام ورنہ ادراک نے دکھلائے تھے رستے کیا کیا یہ الگ بات کہ برسے نہیں گرجے تو بہت ورنہ بادل مرے صحراؤں پہ امڈے کیا کیا آگ بھڑکی تو در و بام ہوئے راکھ کے ڈھیر اور دیتے رہے احباب دلاسے کیا کیا لوگ اشیا کی طرح بک گئے اشیا کے لیے سر بازار تماشے نظر آئے کیا کیا لفظ کس شان سے تخلیق ہوا تھا لیکن اس کا مفہوم بدلتے رہے نقطے کیا کیا اک کرن تک بھی نہ پہنچی مرے باطن میں ندیمؔ سر افلاک دمکتے رہے تارے کیا کیا

Similar Poets