SHAWORDS
Ajmal Siddiqui

Ajmal Siddiqui

Ajmal Siddiqui

Ajmal Siddiqui

poet
13Sher
13Shayari
12Ghazal

Sherشعر

See all 13

Popular Sher & Shayari

26 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

khul ke barasnaa aur baras kar phir khul jaanaa dekhaa hai

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے ہم سے پوچھو!! ان آنکھوں کا ایک زمانہ دیکھا ہے تم نے کیسے مان لیا وہ تھک کر بیٹھ گیا ہوگا تم نے تو خود اپنی آنکھوں سے وہ دیوانا دیکھا ہے منزل تک پہنچیں کہ نہ پہنچیں راہ مگر اپنی ہوگی تو رہنے دے واعظ تیرا راہ بتانا دیکھا ہے دھول کا اک ذرہ نہ اڑے آواز کرے پرچھائیں بھی موت بھی آ کر مرتی نہیں تھی وہ ویرانہ دیکھا ہے گلشن سے ہم سیکھ نہ پائے وقتی خوشیوں کو جینا جبکہ ہم نے فصل گل کا آنا جانا دیکھا ہے دل تو سادہ ہے تیری ہر بات کو سچا مانتا ہے عقل نے باتیں کرتے تیرا آنکھ چرانا دیکھا ہے لفظ دوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ پرہیز بھی ہے لفظ کے باعث پل میں کھونا پل میں پانا دیکھا ہے

غزل · Ghazal

na nazar se koi guzar sakaa na hi dil se malba haTaa sakaa

نہ نظر سے کوئی گزر سکا نہ ہی دل سے ملبہ ہٹا سکا نہ وہ در بچا نہ وہ گھر بچا تیرے بعد کوئی نہ آ سکا نہ وہ حس کسی میں نہ تاب ہے مرا غم تو خیر اٹھائے کون وہ جو مصرعہ غم کا تھا ترجماں کوئی اس کو بھی نہ اٹھا سکا کبھی خوف تھا ترے ہجر کا کبھی آرزو کے زوال کا رہا ہجر و وصل کے درمیاں تجھے کھو سکا نہ میں پا سکا مرے دل میں تخم یقین رکھ دے لچک تو شاخ مزاج کو وہ چمن کھلا مرے باغباں جو چمن کوئی نہ کھلا سکا مرے ساتھ سوئے جنون چل مرے زخم کھا مرا رقص کر مرے شعر پڑھ کے ملے گا کیا پتا پڑھ کے گھر کوئی پا سکا؟ جو لکھو عبارت عشق تم تو انا کا کوئی نہ پیچ ہو جو لب دوات پہ جھک گیا وہ قلم ہی نقش بنا سکا

غزل · Ghazal

zindagi roz banaati hai bahaane kyaa kyaa

زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی خامشی نے ہیں دئے سب کو فسانے کیا کیا شہر میں رنگ جما گاؤں میں فصلیں اجڑیں حشر اٹھایا بنا موسم کی گھٹا نے کیا کیا خواب و امید کا حق، آہ کا فریاد کا حق تجھ پہ وار آئے ہیں یہ تیرے دوانے کیا کیا

غزل · Ghazal

dukhe dilon pe jo paD jaae vo tabib nazar

دکھے دلوں پہ جو پڑ جائے وہ طبیب نظر تو باغ دل میں بھی آ جائیں عندلیب نظر ہر ایک صبح وضو کرتی ہیں مری آنکھیں کہ شاید آج تو آ جائے وہ حبیب نظر اسی طرح سے رہ یار کو تکے جانا حد نظر کو گرا دے گی عن قریب نظر تو انتظار سے چھٹ کر ہے خوش مگر مجھ کو گھڑی جدائی کی آنے لگی قریب نظر بجھا دو شمع محبت جلا دو گلشن عشق ڈرا سکے گی نہ عاشق کو یہ مہیب نظر جمال و حسن کے قائل ہیں اس کے سب اجملؔ بس ایک تم ہی یہاں رکھتے ہو عجیب نظر

غزل · Ghazal

itraataa garebaan par thaa bahut, rah-e-ishq mein kab kaa chaak huaa

اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس درجہ ورق نمناک ہوا خوش رہیو سن اے باد صبا کہیں اور تو اپنے ناز دکھا تو جس کے بال اڑاتی تھی وہ شخص تو کب کا خاک ہوا

غزل · Ghazal

ro ro ke bayaan karte phiro ranj-o-alam khuub

رو رو کے بیاں کرتے پھرو رنج و الم خوب حاصل نہیں کچھ بھی جو نہ ہو رنگ قلم خوب بازار میں اک چیز نہیں کام کی میرے یہ شہر مری جیب کا رکھتا ہے بھرم خوب منزل تو کسی خاص کو ہی ملتی ہے، ورنہ دیکھے تو سبھی نے ہیں مرے نقش قدم خوب یہ ٹھیک ہے رشتے میں بندھا رہتا ہے اب دل اس کعبے میں ہوتا تھا کبھی جشن صنم خوب

Similar Poets