SHAWORDS
Akhtar Ali Akhtar

Akhtar Ali Akhtar

Akhtar Ali Akhtar

Akhtar Ali Akhtar

poet
5Sher
5Shayari
8Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ujaalon ki numaaish ho rahi hai

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے اندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہے کوئی منصف نہیں شاید میسر ستم گر سے جو نالش ہو رہی ہے وہ مانے یا نہ مانے اس کی مرضی منانے کی تو کاوش ہو رہی ہے ستم گر سے کوئی پوچھے تو اتنا یہ مجھ پر کیوں نوازش ہو رہی ہے ادب کی روک کر تعمیر خود ہی ترقی کی گزارش ہو رہی ہے ہیں چرچے علم کے ہر اک زباں پر مگر کمزور دانش ہو رہی ہے نہیں اخلاص نیت اور اخترؔ عبادت کی نمائش ہو رہی ہے

غزل · Ghazal

zindagi kyaa hai jo dil ho tashna-e-zauq-e-vafaa

زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق وفا یعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھ گفتگوئے صورت و معنی ہے عنوان حیات کھیلتے ہیں وہ مری فطرت کی حیرانی کے ساتھ تم نے ہر ذرے میں برپا کر دیا طوفان شوق اک تبسم اس قدر جلووں کی طغیانی کے ساتھ دل کی آبادی ہے اخترؔ دل کی بربادی کا نام اک تعلق ہے مری ہستی کو ویرانی کے ساتھ

غزل · Ghazal

tum ne divaana kiyaa achchhaa huaa

تم نے دیوانہ کیا اچھا ہوا ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا اب تو دیوانوں کے دل کی ہو گئی موسم گل میں چمن صحرا ہوا جو بھی آیا حسن پنہاں دیکھ کر کوئی اندھا تو کوئی بہرا ہوا دیکھ لو اس میں مری تصویر ہے اشک غم پلکوں پہ ہے ٹھہرا ہوا فتح کیسے پائیں گے کفار پر قوم کا شیرازہ ہے بکھرا ہوا تھا جو اخترؔ زہر سا تیر نظر دن بہ دن زخم جگر گہرا ہوا

غزل · Ghazal

dil ki aarzu thi dard dard-e-be-davaa paayaa

دل کی آرزو تھی درد درد بے دوا پایا کیا سوال تھا میرا اور کیا جواب ان کا عشق کی لطافت کو خاک طور کیا جانے مجھ پہ تھی نظر ان کی مجھ سے تھا خطاب ان کا عالم تمنا ہے خواب کا سا اک عالم شوق نا تمام اپنا عشوہ کامیاب ان کا کم نہ تھی قیامت سے صبح آفرینش بھی میری مضطرب نظریں اور انتخاب ان کا

غزل · Ghazal

harim-kaaba banaa di vo sar-zamin main ne

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے ترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے چٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں سنی ہے پہلے بھی آواز یہ کہیں میں نے رہین منزل وہم و گماں رہا اخترؔ اسی میں ڈھونڈھ لیا جادۂ یقیں میں نے

غزل · Ghazal

fareb-e-jalva kahaan tak ba-ru-e-kaar rahe

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے خراب شوق رہے وقف انتظار رہے اب اور کیا ترے وعدوں کا اعتبار رہے میں راز عشق کو رسوا کروں معاذ اللہ یہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے چمن میں رکھ تو رہا ہوں بنا نشیمن کی خدا کرے کہ زمانہ بھی سازگار رہے جنوں کا رخ ہے حریم حیات کی جانب الٰہی پردۂ اوہام اعتبار رہے

Similar Poets