SHAWORDS
Ali Raza Aseer

Ali Raza Aseer

Ali Raza Aseer

Ali Raza Aseer

poet
5Shayari
17Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

پرانے جتنے بچے تھے بہا دئے آنسو نئے ہیں غم ہیں نئے زخم ہیں نئے آنسو جو دل پہ ظلم کی حد ہو نکل پڑے آنسو پلک پہ بوجھ جو بڑھ جائے تب گرے آنسو پھر آ گئے ہیں جو آنکھوں میں تو کریں گے ہی تمام زخم مرے دل کے پھر ہرے آنسو مرے لئے وہ کم از گوہر نشاط نہیں مرے لئے ہو تو بے کار کیوں بہے آنسو نہ تیرے جیسی دلہن ہوگی پھر رمانے میں جو تیری پلکوں پہ آ جائے اور سجے آنسو مسافروں کی تھکن کے لئے تھے خانۂ چشم مسافروں کی طرح آئے اور گئے آنسو نظر جمائے ہوئے ہے وہ تیری آنکھوں پر تو اپنی آنکھ کے اندر سمیٹ لے آنسو ہنسی وہ شے کہ لبوں میں دبے تو چھپ جائے ابل کے آتا ہے آنکھوں میں گر دبے آنسو جدا ہو خار سے گل یا ہو گل سے خار جدا نکال پھینکو اگر آنکھ میں چبھے آنسو

puraane jitne bache the bahaa diye aansu

1 views

غزل · Ghazal

پھر اپنے دل کو بہت بے دلی سے صاف کیا گراں بہت تھا مگر پھر اسے معاف کیا قبول حق نہ ہوئی وہ کہ قبلۂ دل کا جس آرزو نے کئی سال تک طواف کیا نہ آیا دوست کو جس بات پر یقیں اس کا عدو نے سر کو جھکایا اور اعتراف کیا خدا کی سمت مجھے لے گئی ہے دربدری ملا نہ کوئی ٹھکانہ تب اعتکاف کیا ہر ایک بات سے جب خود کی متفق ہوئے ہم ہر ایک بات سے خود کی پھر اختلاف کیا

phir apne dil ko bahut be-dili se saaf kiyaa

1 views

غزل · Ghazal

آنکھ میں آنسو نہ اظہار پشیمانی کے ساتھ معذرت وہ کر رہا ہے کتنی آسانی کے ساتھ مشورہ ہر صاحب عقل و خرد کو ہے مرا عشق کرنا ہو تو کرنا دل کی نادانی کے ساتھ زور بازوئے غلامان حکم محدود ہے پیش سلطاں دل نہیں جھکتا ہے پیشانی کے ساتھ تم چلو آگے کہ تھوڑی دیر میں آتا ہوں میں دشت میں کچھ دیر بیٹھوں گا میں ویرانی کے ساتھ خود بھی حیرت میں ہوں جیسے دوست سے ملتا ہوں میں ہے وہی برتاؤ میرا دشمن جانی کے ساتھ ساتھ ہی جنت کے آ جاتا ہے دوزخ کا خیال آگ بھی مشہور ہوتی جاتی ہے پانی کے ساتھ موت تو آئی مگر اک بار میں آئی نہیں مشکلیں آساں ہوئیں کتنی پریشانی کے ساتھ ہے یہ اک سنگیں علامت بھول جانے کی تجھے یاد کرتا ہے تجھے دل جس فراوانی کے ساتھ شاخ چندن سے لپٹتے ناگ کی یاد آ گئی مصرع اولی جو مہکا مصرع ثانی کے ساتھ

aankh mein aansu na izhaar-e-pashemaani ke saath

1 views

غزل · Ghazal

مسرتوں کا سماں برقرار رکھنا ہے ترے بدن کا گماں برقرار رکھنا ہے لہو کی سرخی کو آنکھوں میں قید کر لینا جلے جو دل تو دھواں برقرار کھنا ہے دل و دماغ میں ان بن ہے شہر جسم میں پھر مزاج امن و اماں برقرار رکھنا ہے اے حسن تجھ کو سحر تک مری ان آنکھوں پر طلسم خواب بتاں برقرار رکھنا ہے ہے بے قرار مرا دل تو کیا خبر اس کو قرار اس کو کہاں برقرار رکھنا ہے زمانہ وجہ ہے ہم مل نہیں سکے تو ہمیں بس ایک ربط نہاں برقرار رکھنا ہے بدن پہ ضعف اگر ہو تو سینے میں مجھ کو مروں تو قلب جواں برقرار رکھنا ہے اسیرؔ شعر تمہارے گراں زمانے پر تمہیں یہ طرز بیاں برقرار رکھنا ہے

masarraton kaa samaan barqaraar rakhnaa hai

1 views

غزل · Ghazal

تو آپ اپنی زبانی سنائیں بسم اللہ اسیر اپنی کہانی سنائیں بسم اللہ اسیرؔ آپ کی کس طرح کی جوانی تھی تھی کیسی اس کی جوانی سنائیں بسم اللہ دہن سے بوئے چمن آتی ہے تو آنے دیں گلوں کی شعلہ بیانی سنائیں بسم اللہ رباب نظم ہے یا پھر معانیٔ الفت وہ نظم پھر بمعانی سنائیں بسم اللہ پرانے زخموں کو تازہ کریں کہ ہم کو غزل نئی کے بعد پرانی سنائیں بسم اللہ خیال ہجر سے جس کو تھی بے پنہ تکلیف کیوں اس نے ہجر کی ٹھانی سنائیں بسم اللہ سوال عشق و جنوں پر زباں سے آپ اپنی جواب حسن و جوانی سنائیں بسم اللہ تمام عمر جو نازل ہوئے ہیں آپ پہ وہ صحیفہ ہائے گرانی سنائیں بسم اللہ لبوں کو پیاس کے کانوں پہ رکھ دیں اور پڑھ کر کتاب تشنہ دہانی سنائیں بسم اللہ رکی ہیں مصرع اولیٰ پہ دھڑکنیں سب کی اسیرؔ مصرع ثانی سانی سنائیں اللہ

to aap apni zabaani sunaaein bismillaah

1 views

غزل · Ghazal

ہے شکریہ مری جانب سے بے حساب ترا ہر اک سوال کو میرے ملا جواب ترا وہ اک کتاب جسے تو نے بس چھوا بھر تھا ہے ذکر مجھ سے کیا کرتی وہ کتاب ترا نہ ہوتا میں نہ کلیجہ مرا بھی ہوتا راکھ نہ کرتی آتش یک طرفہ دل کباب ترا بھٹکتی شب کو ملی صبح یوں ہوا جس دم سر حیات نمو دار آفتاب ترا بروز حشر جو ملنے کی بات کی میں نے حسین یاد رہے گا مجھے جواب ترا

hai shukriya miri jaanib se be-hisaab tiraa

1 views

Similar Poets