SHAWORDS
Ali Sardar Jafri

Ali Sardar Jafri

Ali Sardar Jafri

Ali Sardar Jafri

poet
21Sher
21Shayari
41Ghazal

Sherشعر

See all 21

Popular Sher & Shayari

42 total

Ghazalغزل

See all 41
غزل · Ghazal

khule hain mashriq-o-maghrib ki god mein gulzaar

کھلے ہیں مشرق و مغرب کی گود میں گلزار مگر خزاں کو میسر نہیں یقین بہار خبر نہیں ہے بموں کے بنانے والوں کو تمیز ہو تو مہ و مہر و کہکشاں ہیں شکار اسی سے تیغ نگہ آب دار ہوتی ہے تجھے بتاؤں بڑی شے ہے جرأت انکار کیے ہیں شوق نے پیدا ہزار ویرانے اک آرزو نے بسائے ہیں لاکھ شہر دیار نشاط صبح بہاراں تجھے نصیب نہیں ترے نگہ میں ہے بیتی ہوئی شبوں کا خمار فروخت ہوتی ہے انسانیت سی جنس گراں جہاں کو پھونک نہ دے گی یہ گرمئ بازار یہی ہے زینت و آرائش عروس سخن مگر فریب بھی دیتی ہے شوخئ گفتار

غزل · Ghazal

vufur-e-shauq ki rangin hikaayatein mat puchh

وفور شوق کی رنگیں حکایتیں مت پوچھ لبوں کا پیار نگہ کی شکایتیں مت پوچھ کسی نگاہ کی نس نس میں تیرتے نشتر وہ ابتدائے محبت کی راحتیں مت پوچھ وہ نیم شب وہ جواں حسن وہ وفور نیاز نگاہ و دل نے جو کی ہیں عبادتیں مت پوچھ ہجوم غم میں بھی جینا سکھا دیا ہم کو غم جہاں کی ہیں کیا کیا عنایتیں مت پوچھ یہ صرف ایک قیامت ہے چین کی کروٹ دبی ہیں دل میں ہزاروں قیامتیں مت پوچھ بس ایک حرف بغاوت زباں سے نکلا تھا شہید ہو گئیں کتنی روایتیں مت پوچھ اب آج قصۂ دارا و جم کا کیا ہوگا ہمارے پاس ہیں اپنی حکایتیں مت پوچھ نشان ہٹلری و قیصری نہیں ملتا جو عبرتوں نے لکھی ہیں عبارتیں مت پوچھ نشاط زیست فقط اہل غم کی ہے میراث ملیں گی اور ابھی کتنی دولتیں مت پوچھ

غزل · Ghazal

baiThe hain jahaan saaqi paimaana-e-zar le kar

بیٹھے ہیں جہاں ساقی پیمانۂ زر لے کر اس بزم سے اٹھ آئے ہم دیدۂ تر لے کر یادوں سے تری روشن محراب شب ہجراں ڈھونڈھیں گے تجھے کب تک قندیل قمر لے کر کیا حسن ہے دنیا میں کیا لطف ہے جینے میں دیکھے تو کوئی میرا انداز نظر لے کر ہوتی ہے زمانے میں کس طرح پذیرائی نکلو تو ذرا گھر سے اک ذوق سفر لے کر راہیں چمک اٹھیں گی خورشید کی مشعل سے ہم راہ صبا ہوگی خوشبوئے سحر لے کر مخمل سی بچھا دیں گے قدموں کے تلے ساحل دریا ابل آئیں گے صد موج گہر لے کر پنہائیں گے تاج اپنا پیڑوں کے گھنے سائے نکلیں گے شجر اپنے خوش رنگ ثمر لے کر لپکیں گے گلے ملنے سرو اور صنوبر سب اٹھیں گے گلستاں بھی شاخ گل تر لے کر ہنستے ہوئے شہروں کی آواز بلائے گی لب جام کے چمکیں گے سو شعلۂ تر لے کر افلاک بجائیں گے ساز اپنے ستاروں کا گائیں گے بہت لمحے انفاس شرر لے کر یہ عالم خاکی اک سیارۂ روشن ہے افلاک سے ٹکرا دو تقدیر بشر لے کر

غزل · Ghazal

aqide bujh rahe hain sham-e-jaan ghul hoti jaati hai

عقیدے بجھ رہے ہیں شمع جاں غل ہوتی جاتی ہے مگر ذوق جنوں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی خدا معلوم کس کس کے لہو کی لالہ کاری ہے زمین کوئے جاناں آج پہچانی نہیں جاتی اگر یوں ہے تو کیوں ہے یوں نہیں تو کیوں نہیں آخر یقیں محکم ہے لیکن ضد کی حیرانی نہیں جاتی لہو جتنا تھا سارا صرف مقتل ہو گیا لیکن شہیدان وفا کے رخ کی تابانی نہیں جاتی پریشاں روزگار آشفتہ حالاں کا مقدر ہے کہ اس زلف پریشاں کی پریشانی نہیں جاتی ہر اک شے اور مہنگی اور مہنگی ہوتی جاتی ہے بس اک خون بشر ہے جس کی ارزانی نہیں جاتی یہ نغمہ نغمۂ بیداریٔ جمہور عالم ہے وہ شمشیر نوا جس کی درخشانی نہیں جاتی نئے خوابوں کے دل میں شعلۂ خورشید محشر ہے ضمیر حضرت انساں کی سلطانی نہیں جاتی لگاتے ہیں لبوں پر مہر ارباب زباں بندی علی سردارؔ کی شان غزل خوانی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

ham jo mahfil mein tiri sina-figaar aate hain

ہم جو محفل میں تری سینہ فگار آتے ہیں رنگ‌ بر دوش گلستاں بہ کنار آتے ہیں چاک دل چاک جگر چاک گریباں والے مثل گل آتے ہیں مانند بہار آتے ہیں کوئی معشوق سزا وار غزل ہے شاید ہم غزل لے کے سوئے شہر نگار آتے ہیں کیا وہاں کوئی دل و جاں کا طلب گار نہیں جا کے ہم کوچۂ قاتل میں پکار آتے ہیں قافلے شوق کے رکتے نہیں دیواروں سے سینکڑوں مجس و زنداں کے دیار آتے ہیں منزلیں دوڑ کے رہرو کے قدم لیتی ہیں بوسۂ پا کے لیے راہ گزار آتے ہیں خود کبھی موج و تلاطم سے نہ نکلے باہر پار جو سارے زمانے کو اتار آتے ہیں کم ہو کیوں ابروئے قاتل کی کمانوں کا کھنچاؤ جب سر تیر ستم آپ شکار آتے ہیں

غزل · Ghazal

farogh-e-dida-o-dil laala-e-sahar ki tarah

فروغ دیدہ و دل لالۂ سحر کی طرح اجالا بن کے رہو شمع رہ گزر کی طرح پیمبروں کی طرح سے جیو زمانے میں پیام شوق بنو دولت ہنر کی طرح یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہے ہم نفسو ستارہ بن کے جلے بجھ گئے شرر کی طرح ڈرا سکی نہ مجھے تیرگی زمانے کی اندھیری رات سے گزرا ہوں میں قمر کی طرح سمندروں کے تلاطم نے مجھ کو پالا ہے چمک رہا ہوں اسی واسطے گہر کی طرح تمام کوہ و تل و بحر و بر ہیں زیر نگیں کھلا ہوا ہوں میں شاہیں کے بال و پر کی طرح تمام دولت کونین ہے خراج اس کا یہ دل نہیں کسی لوٹے ہوئے نگر کی طرح گزر کے خار سے غنچے سے گل سے شبنم سے میں شاخ وقت میں آیا ہوں اک ثمر کی طرح میں دل میں تلخیٔ زہراب غم بھی رکھتا ہوں نہ مثل شہد ہوں شیریں نہ میں شکر کی طرح خزاں کے دست ستم نے مجھے چھوا ہے مگر تمام شعلہ و شبنم ہوں کاشمر کی طرح مری نوا میں ہے لطف و سرور صبح نشاط ہر ایک شعر ہے رندوں کی شام تر کی طرح یہ فاتحانہ غزل عصر نو کا ہے آہنگ بلند و پست کو دیکھا ہے دیدہ ور کی طرح

Similar Poets