meraa karb miri tanhaai ki zinat
main chehron ke jangal kaa sannaaTaa huun

Ambar Bahraichi
Ambar Bahraichi
Ambar Bahraichi
Popular Shayari
18 totaljaan dene kaa hunar har shakhs ko aataa nahin
sohni ke haath mein kachchaa ghaDaa thaa dekhte
ham pi bhi gae aur salaamat bhi hain 'ambar'
paani ki har ik buund mein hiire ki kani thi
aam ke peDon ke saare phal sunahre ho gae
is baras bhi raasta kyuun ro rahaa thaa dekhte
jaane kyaa barsaa thaa raat charaaghon se
bhor samay suraj bhi paani paani hai
ik shaffaaf tabiat vaalaa sahraai
shahr mein rah kar kis darja chaalaak huaa
ye sach hai rang badaltaa thaa vo har ik lamha
magar vahi to bahut kaamyaab chehraa thaa
har ik nadi se kaDi pyaas le ke vo guzraa
ye aur baat ki vo khud bhi ek dariyaa thaa
roz ham jalti hui ret pe chalte hi na the
ham ne saae mein khajuron ke bhi aaraam kiyaa
gae the ham bhi bahr ki tahon mein jhumte hue
har ek siip ke labon mein sirf regzaar thaa
ek sannaaTaa bichhaa hai is jahaan mein har taraf
aasmaan-dar-aasmaan-dar-aasmaan kyuun rat-jage hain
har phuul pe us shakhs ko patthar the chalaane
ashkon se har ik barg ko bharnaa thaa hamein bhi
Ghazalغزل
وہ لمحہ مجھ کو ششدر کر گیا تھا مرے اندر بھی لاوا بھر گیا تھا ہے دونوں سمت ویرانی کا عالم اسی رستے سے وہ لشکر گیا تھا گزاری تھی بھنور میں اس نے لیکن وہ مانجھی ساحلوں سے ڈر گیا تھا قلندر مطمئن تھا جھونپڑے میں عبث اس کے لیے محضر گیا تھا نہ جانے کیسی آہٹ تھی فضا میں وہ دن ڈھلتے ہی اپنے گھر گیا تھا ابھی تک بام و در ہیں پھول جیسے مرے گھر بھی وہ خوش منظر گیا تھا ستارے با ادب ٹھہرے ہوئے تھے خلا میں ایک خوش پیکر گیا تھا ادھر آنکھوں میں میری دھول ٹھہری ادھر شبنم سے منظر بھر گیا تھا مگر تشنہ لبی ٹھہری مقدر ندی کے پاس بھی عنبرؔ گیا تھا
vo lamha mujh ko shashdar kar gayaa thaa
5 views
شب خواب کے جزیروں میں ہنس کر گزر گئی آنکھوں میں وقت صبح مگر دھول بھر گئی پچھلی رتوں میں سارے شجر بارور تو تھے اب کے ہر ایک شاخ مگر بے ثمر گئی ہم بھی بڑھے تھے وادئ اظہار میں مگر لہجے کے انتشار سے آواز مر گئی تجھ پھول کے حصار میں اک لطف ہے عجب چھو کر جسے ہوائے طرب معتبر گئی دل میں عجب سا تیر ترازو ہے ان دنوں ہاں اے نگاہ ناز بتا تو کدھر گئی مقصد صلائے عام ہے پھر احتیاط کیوں بے رنگ روزنوں سے جو خوشبو گزر گئی اس کے دیار میں کئی مہتاب بھیج کر وادئ دل میں اک اماوس ٹھہر گئی اب کے قفس سے دور رہی موسمی ہوا آزاد طائروں کے پروں کو کتر گئی آندھی نے صرف مجھ کو مسخر نہیں کیا اک دشت بے دلی بھی مرے نام کر گئی پھر چار سو کثیف دھوئیں پھیلنے لگے پھر شہر کی نگاہ تیرے قصر پر گئی الفاظ کے طلسم سے عنبرؔ کو ہے شغف اس کی حیات کیسے بھلا بے ہنر گئی
shab khvaab ke jaziron mein hans kar guzar gai
3 views
مرے چہرے پہ جو آنسو گرا تھا نہ جانے کتنے شعلوں میں جلا تھا ہمارے کان بہرے ہو گئے تھے ادھر وہ داستاں گو ہنس رہا تھا اندھیری رات سناٹے کا عالم ندی کے پار اک لپکا جگا تھا بہت آزار تھے رستے میں لیکن لہو میں پھول موسم ہنس رہا تھا ہوائے گرم یوں دل میں چلی تھی مری آنکھوں میں ساون بس گیا تھا اندھیرے دشت سے نکلے کہ دیکھا سوا نیزے پہ سورج آ چکا تھا لبوں پہ تھی مرے صبح تبسم مرے باطن میں کوئی رو رہا تھا بہت دن بعد کھل کر مل رہے تھے مرے بچوں کو جانے کیا ہوا تھا بہت مشتاق تھا شہر خموشاں کہ بستی میں فقط عنبرؔ بچا تھا
mire chehre pe jo aansu giraa thaa
3 views
بریدہ بازوؤں میں وہ پرند لالہ بار تھا شکاریوں کے غول میں عجیب انتشار تھا ہرے پھلوں کو توڑتی ہوئی ہوا گزر گئی بجھی بجھی فضا میں ہر درخت سوگوار تھا سفر کا آخری پڑاؤ آ گیا تھا اور میں جو ہم سفر بچھڑ رہے تھے ان پہ اشک بار تھا گئے تھے ہم بھی بحر کی تہوں میں جھومتے ہوئے ہر ایک سیپ کے لبوں میں صرف ریگزار تھا دھلی دھلی فضا میں ہو گئی عبث وہ جستجو کہ منظر نظر نواز تو پس غبار تھا دم سحر نہ جانے جانے کون آ گیا اسے رواں تھے اشک انکھڑیوں سے ہاتھ میں ستار تھا جو وقت آ گیا تمام تیر ٹوٹتے گئے اسی نئی کماں پہ تو مجھے بھی اعتبار تھا برس رہی تھی آگ اس دیار سنگ میں مگر مرے لہو میں گل فشاں وہ چمپئی عذار تھا عجیب تھی سرشت بھی ہمارے دھان پان کی کبھی تو بحر بیکراں کبھی سراب زار تھا
burida baazuon mein vo parind laala-baar thaa
2 views
میں اپنی وسعتوں کو اس گلی میں بھول جاتا ہوں نہ جانے کون سے جادو کے ہاتھوں میں کھلونا ہوں سفر یہ پانیوں کا جب مجھے بے آب کرتا ہے میں دریا کی روپہلی ریت کو بستر بناتا ہوں سوالوں کے کئی پتھر اٹھائے لوگ بیٹھے ہیں میں اپنا ننھا بچہ قبر میں دفنا کے لوٹا ہوں نہ جانے کس فضا میں کھو گیا وہ دودھیا آنچل کہ جس کے فیض سے میں کتنی آنکھوں کا اجالا ہوں وہ سورج میرے چاروں سمت ہے پھیلا ہوا لیکن میں اکثر اجنبی دھندلاہٹوں میں ڈوب جاتا ہوں لپٹ جاتی ہے میری انگلیوں سے خود شفق آ کر سحر کی سمت جب میں اپنے ہاتھوں کو بڑھاتا ہوں کوئی تو ہے کہ جو مجھ کو اجالے بخش جاتا ہے بظاہر میں کسی تاریک ٹاپو میں اکیلا ہوں مرے سینے میں عنبرؔ اک دھنک سی پھیل جاتی ہے میں اپنے آنسوؤں کی چاندنی میں شعر لکھتا ہوں
main apni vusaton ko us gali mein bhuul jaataa huun
2 views
چہروں پہ زر پوش اندھیرے پھیلے ہیں اب جینے کے ڈھنگ بڑے ہی مہنگے ہیں ہاتھوں میں سورج لے کر کیوں پھرتے ہیں اس بستی میں اب دیدہ ور کتنے ہیں قدروں کی شب ریزی پر حیرانی کیوں ذہنوں میں اب کالے سورج پلتے ہیں ہر بھرے جنگل کٹ کر اب شہر ہوئے بنجارے کی آنکھوں میں سناٹے ہیں پھولوں والے ٹاپو تو غرقاب ہوئے آگ اگلے نئے جزیرے ابھرے ہیں اس کے بوسیدہ کپڑوں پر مت جاؤ مست قلندر کی جھولی میں ہیرے ہیں ذکر کرو ہو مجھ سے کیا طغیانی کا ساحل پر ہی اپنے رین بسیرے ہیں اس وادی کا تو دستور نرالا ہے پھول سروں پر کنکر پتھر ڈھوتے ہیں عنبرؔ لاکھ سوا پنکھی موسم آئیں اولوں کی زد میں انمول پرندے ہیں
chehron pe zar-posh andhere phaile hain
1 views





