maanus baam-o-dar se nazar puchhti rahi
un mein base vo log puraane kahaan gae

Ambareen Haseeb Ambar
Ambareen Haseeb ambar
Ambareen Haseeb ambar
Popular Shayari
30 totalduniyaa to ham se haath milaane ko aai thi
ham ne hi eatibaar dobaara nahin kiyaa
is aarzi duniyaa mein har baat adhuri hai
har jiit hai laa-haasil har maat adhuri hai
ham to sunte the ki mil jaate hain bichhDe hue log
tu jo bichhDaa hai to kyaa vaqt ne gardish nahin ki
faisla bichhaDne kaa kar liyaa hai jab tum ne
phir miri tamannaa kyaa phir miri ijaazat kyuun
uD gae saare parinde mausamon ki chaah mein
intizaar un kaa magar buDhe shajar karte rahe
mujh mein ab main nahin rahi baaqi
main ne chaahaa hai is qadar tum ko
ab ke ham ne bhi diyaa tark-e-taalluq kaa javaab
honT khaamosh rahe aankh ne baarish nahin ki
taalluq jo bhi rakkho soch lenaa
ki ham rishta nibhaanaa jaante hain
umr-bhar ke sajdon se mil nahin saki jannat
khuld se nikalne ko ik gunaah kaafi hai
mohabbat aur qurbaani mein hi taamir muzmar hai
dar-o-divaar se ban jaae ghar aisaa nahin hotaa
ban ke hansi honTon par bhi rahte ho
ashkon mein bhi tum bahte ho tum bhi naan
Ghazalغزل
ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا ہر اک امید بر آئے مگر ایسا نہیں ہوتا محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا سبھی کے ہاتھ میں مثل سفال نم نہیں رہنا جو مل جائے وہی ہو کوزہ گر ایسا نہیں ہوتا کہا جلتا ہوا گھر دیکھ کر اہل تماشا نے دھواں ایسے نہیں اٹھتا شرر ایسا نہیں ہوتا کسی کی مہرباں دستک نے زندہ کر دیا مجھ کو میں پتھر ہو گئی ہوتی اگر ایسا نہیں ہوتا کسی جذبے کی شدت منحصر تکمیل پر بھی تھی نہ پایا ہو تو کھونے کا بھی ڈر ایسا نہیں ہوتا
sitaara-baar ban jaae nazar aisaa nahin hotaa
زندگی بھر ایک ہی کار ہنر کرتے رہے اک گھروندا ریت کا تھا جس کو گھر کرتے رہے ہم کو بھی معلوم تھا انجام کیا ہوگا مگر شہر کوفہ کی طرف ہم بھی سفر کرتے رہے اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے یوں تو ہم بھی کون سا زندہ رہے اس شہر میں زندہ ہونے کی اداکاری مگر کرتے رہے آنکھ رہ تکتی رہی دل اس کو سمجھاتا رہا اپنا اپنا کام دونوں عمر بھر کرتے رہے اک نہیں کا خوف تھا سو ہم نے پوچھا ہی نہیں یاد کیا ہم کو بھی وہ دیوار و در کرتے رہے
zindagi-bhar ek hi kaar-e-hunar karte rahe
زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے پہلے عجیب سی دوڑ میں سب ایسے لگے ہوئے تھے مکاں مکینوں کو ڈھونڈھتا تھا وبا سے پہلے ہم آج خلوت میں اس زمانے کو رو رہے ہیں وہ جس سے سب کو بہت گلہ تھا وبا سے پہلے نہ جانے کیوں آ گیا دعا میں مری وہ بچہ سڑک پہ جو پھول بیچتا تھا وبا سے پہلے دعا کو اٹھے ہیں ہاتھ عنبرؔ تو دھیان آیا یہ آسماں سرخ ہو چکا تھا وبا سے پہلے
zamin pe insaan khudaa banaa thaa vabaa se pahle
خوشی کا لمحہ ریت تھا سو ہاتھ سے نکل گیا وہ چودھویں کا چاند تھا اندھیری شب میں ڈھل گیا ہے وصف اس کے پاس یہ بدل سکے ہر ایک شے سو مجھ کو بھی بدل دیا اور آپ بھی بدل گیا مچل رہا تھا دل بہت سو دل کی بات مان لی سمجھ رہا ہے نا سمجھ کی داؤ اس کا چل گیا یہ دوڑ بھی عجیب سی ہے فیصلہ عجیب تر کی فاتح حیات وہ جو گر کے پھر سنبھل گیا سمجھ لیا اہم نہیں میں اس کے واسطے مگر نظر پھر اس سے مل گئی یہ دل کی پھر بہل گیا عجیب میرا عکس تھا اتر کے اس کی آنکھ میں سنوارا مجھ کو اس طرح کی آئنہ ہی جل گیا
khushi kaa lamha ret thaa so haath se nikal gayaa
عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے طلسماتی کوئی قصہ ہے دنیا یہاں ہر دن نئی اک داستاں ہے جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے سروں پر آسماں ہوتے ہوئے بھی جسے دیکھو وحی بے سائباں ہے کسی دھرتی کی شاید ریت ہوگی ہمارے واسطے جو کہکشاں ہے اگر تھا چند روزہ موسم گل تو پھر دو چار ہی دن کی خزاں ہے جسے عمر رواں کہتے ہیں عنبرؔ چلو دیکھیں کہاں تک رائیگاں ہے
ayaan donon se takmil-e-jahaan hai
جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا روز بڑھ جاتا ہے اک حلقہ مری زنجیر کا میرے حصہ میں کہاں تھیں عجلتوں کی منزلیں میرے قدموں کو سدا رستہ ملا تاخیر سے کس لیے بربادیوں کا دل کو ہے اتنا ملال اور کیا اندازہ ہو خمیازۂ تعمیر کا خون دل جن کی گواہی میں ہوا نذر وفا رنگ تو وہ اڑ گئے اب کیا کروں تصویر کا میں نے سمجھا تیری چاہت کو فقط انعام زیست مجھ کو اندازہ نہ تھا اس جرم اس تعزیر کا ایک لب تک ہی نہ پہنچی جو دعا تھی مستجاب کس قدر چرچا ہوا ہے آہ بے تاثیر کا لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھے سچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا
jab se zindagi huaa dil gardish-e-taqdir kaa





