"kaun deta hai sada.en mujh ko kis ke honTon ka asar baaqi hai"

Amber Shameem
Amber Shameem
Amber Shameem
Sherشعر
kaun deta hai sada.en mujh ko
کون دیتا ہے صدائیں مجھ کو کس کے ہونٹوں کا اثر باقی ہے
khvab aansu ehtajaji zindagi
خواب آنسو احتجاجی زندگی پوچھیے مت شہر کلکتہ ہے کیا
dhuup kaafi duur tak thi raah men
دھوپ کافی دور تک تھی راہ میں لمحہ لمحہ ہو گیا پیکر سیاہ
sa.eban kya abr ka TukDa hai kya
سائباں کیا ابر کا ٹکڑا ہے کیا دھوپ تو معلوم ہے سایا ہے کیا
Popular Sher & Shayari
8 total"khvab aansu ehtajaji zindagi puchhiye mat shahr-e-kalkatta hai kya"
"dhuup kaafi duur tak thi raah men lamha lamha ho gaya paikar siyah"
"sa.eban kya abr ka TukDa hai kya dhuup to ma.alum hai saaya hai kya"
khvaab aansu ehtajaaji zindagi
puchhiye mat shahr-e-kalkatta hai kyaa
dhuup kaafi duur tak thi raah mein
lamha lamha ho gayaa paikar siyaah
saaebaan kyaa abr kaa TukDaa hai kyaa
dhuup to maalum hai saayaa hai kyaa
kaun detaa hai sadaaein mujh ko
kis ke honTon kaa asar baaqi hai
Ghazalغزل
dasht-dar-dasht raasta ho jaaun
دشت در دشت راستہ ہو جاؤں اپنے قد سے میں کچھ بڑا ہو جاؤں یاس کی تیرگی ہے چاروں اور اس اندھیرے میں اک دیا ہو جاؤں مشکلوں میں گھرا رہوں لیکن کوئی دیکھے تو میں ہرا ہو جاؤں وہ اچھالے مری طرف پتھر میں کسی طور آئنہ ہو جاؤں کوئی پوچھے اگر پتا میرا خوشبوؤں کی طرح ہوا ہو جاؤں خامشی ہو محیط عالم پر اور جنگل کی میں صدا ہو جاؤں سر جھکا کر چلوں زمانے میں دشمنوں کے لیے بلا ہو جاؤں رند ہو جاؤں مے گساروں میں پارساؤں میں پارسا ہو جاؤں بند ہے در یقین کا میرے کوئی آئے ادھر تو وا ہو جاؤں رنگ دے دھوپ سے بدن میرا تاکہ کچھ اور میں نیا ہو جاؤں زندگی میں کشش تو ہو عنبرؔ کوئی شعلہ یا برف سا ہو جاؤں
baat 'ambar' vahi hai Dhab ki baat
بات عنبرؔ وہی ہے ڈھب کی بات کیجیے اپنی ہووے سب کی بات بات میں بات ہو تو قیمت ہے خامشی ورنہ ہے غضب کی بات فاصلے ہیں نہ رابطے باقی عہد نو ہے گئی وہ تب کی بات روشنی کھا گئی کتابوں کو بے ادب ہو گئی ادب کی بات آدمی آدمی سے برگشتہ اور لب پر ہے سب کے رب کی بات ہم سمندر پرست لوگوں میں کون کرتا ہے تشنہ لب کی بات بادشاہی کہاں سمجھتی ہے فاقہ مستی میں بھی طرب کی بات اتنا آساں نہ تھا سخن عنبرؔ تب کی بات اور یہ ہے اب کی بات
dukh kaa suraj Dhal jaae to achchhaa lagtaa hai
دکھ کا سورج ڈھل جائے تو اچھا لگتا ہے ہنسنے کا موسم آئے تو اچھا لگتا ہے حیرانی کے جنگل میں جب تھام کے میرا ہاتھ رستہ کوئی دکھلائے تو اچھا لگتا ہے لکھنا پڑھنا کھیل تماشے بے فکری کے دن بچپن اپنا یاد آئے تو اچھا لگتا ہے دھوپ کی چادر اوڑھے جب میں لوٹوں دفتر سے اس کا آنچل لہرائے تو اچھا لگتا ہے تنہائی کے گھور اندھیرے میں جب اس کی یاد بجلی بن کر لہرائے تو اچھا لگتا ہے دن بھر اس کا چہرہ دیکھوں سو جاؤں جب میں خواب میں بھی وہ آ جائے تو اچھا لگتا ہے
'ajab lamha thaa vo jab ye tahayya kar liyaa main ne
عجب لمحہ تھا وہ جب یہ تہیہ کر لیا میں نے بھرے گھر میں ہوں لیکن خود کو تنہا کر لیا میں نے اگر جھونکا ہے راحت کا تو آندھی کی علامت بھی ہوا کی بات پر کیسے بھروسہ کر لیا میں نے خدا ہی جانتا ہے حشر کیا ہوگا مرے دل کا کہ اک پتھر سے آئینے کا سودا کر لیا میں نے کسی سے کچھ نہ کہنا اندر اندر ٹوٹتے رہنا یہیں سے راستہ جینے کا پیدا کر لیا میں نے نہ تنہائی ستاتی ہے نہ خوف آتا ہے اشکوں سے انہیں کو زندگی کا استعارہ کر لیا میں نے تری یادوں نے جب بھی ساتھ میرا چھوڑنا چاہا کھرچ کر دل کا اک اک زخم تازہ کر لیا میں نے
shab-e-gham se guzarne ki shahaadat ham samajhte hain
شب غم سے گزرنے کی شہادت ہم سمجھتے ہیں سر مژگاں جو آنسو ہیں انہیں شبنم سمجھتے ہیں اسی کے دم سے آیا ہے تڑپنے کا ہنر دل کو ستم گر کو بھی ہم اپنا شریک غم سمجھتے ہیں ذرا سی روشنی بھی نرغۂ شب توڑ دیتی ہے یہ وہ نکتہ ہے جس کو اہل دانش کم سمجھتے ہیں نکل آئے ہیں تارے آسماں پر میں سمجھتا ہوں مرے احباب لیکن اس کو چشم نم سمجھتے ہیں میاں رستہ بدلنا تو کوئی معنی نہیں رکھتا تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو ہم سمجھتے ہیں
ik dil-e-daaghdaar rakhte hain
اک دل داغ دار رکھتے ہیں ہم بھی زخم بہار رکھتے ہیں گفتگو میں کبھی نہیں آتی شعر میں جتنی دھار رکھتے ہیں ہم سجاتے نہیں کبھی رخ پر زخم تو بے شمار رکھتے ہیں کوئی چہرہ دکھائی دے کیسے آئنے جب غبار رکھتے ہیں آتش نیم شب میں جل کر بھی اشک پر اختیار رکھتے ہیں سر جھکاتے نہیں ہر اک در پر خود کو ہم با وقار رکھتے ہیں ہے بری چیز مصلحت لیکن نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں میری خاطر بھی کچھ وفاداری سب مرے غم گسار رکھتے ہیں





