SHAWORDS
A

Anwar Saharanpuri

Anwar Saharanpuri

Anwar Saharanpuri

poet
6Sher
6Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

jab fasl-e-bahaaraan aati hai shaadaab gulistaan hote hain

جب فصل بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں تکمیل جنوں بھی ہوتی ہے اور چاک گریباں ہوتے ہیں پر کیف فضائیں چلتی ہیں مخمور گھٹائیں چھاتی ہیں جب صحن چمن میں جلوہ نما وہ جان بہاراں ہوتے ہیں ہوتا ہے سکون قلب و جگر ہر زخم میں لذت آتی ہے او ناوک افگن تیر ترے تسکین رگ جاں ہوتے ہیں کیوں منت چارہ گر کیجے کیوں فکر دوائے دل کیجے بیمار محبت کے نالے خود درد کا درماں ہوتے ہیں یہ عہد جوانی شوخئ گل دو دن کی بہاریں ہوتی ہیں دیکھیں تو کبھی وہ رنگ خزاں جو حسن پہ نازاں ہوتے ہیں جب باد بہاری آتی ہے ہر گل پہ جوانی چھاتی ہے کھل جاتے ہیں مرے زخم جگر اور داغ درخشاں ہوتے ہیں گرداب محافظ ہوتا ہے اے بحر حوادث بیکس کا کھنچ آتا ہے ساحل موجوں میں جب جوش پہ طوفاں ہوتے ہیں کیا مجھ کو ضرورت اے انورؔ کیوں ان کے ستم کا شاکی ہوں جب یاد جفائیں آتی ہیں وہ خود ہی پشیماں ہوتے ہیں

غزل · Ghazal

vo parde se nikal kar saamne jab be-hijaab aayaa

وہ پردے سے نکل کر سامنے جب بے حجاب آیا جہان عشق میں یک بارگی اک انقلاب آیا زمیں کے ذرہ ذرہ سے نمایاں ہو گئے جلوے سر گلزار وہ رشک قمر جب بے حجاب آیا مکرر زندگانی کا مزا ہو جائے گا حاصل دم آخر بھی قاصد لے کے گر خط کا جواب آیا مقدر سے مرے دونوں کے دونوں بے وفا نکلے نہ عمر بے وفا پلٹی نہ پھر جا کر شباب آیا وفور شرم سے اس آفتاب حسن کے آگے جہاں کا ہر حسیں ڈالے ہوئے منہ پر نقاب آیا دل‌ بیتاب و طاقت کو تسلی کچھ ہوئی حاصل پیام اس بت کے آنے کا جو وقت اضطراب آیا عجب پر کیف عالم ہے زمانہ مست ہے انورؔ کہ ان کے چودھویں من میں نظر رنگ شراب آیا

غزل · Ghazal

aabaad ab na hogaa mai-khaana zindagi kaa

آباد اب نہ ہوگا مے خانہ زندگی کا لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا آ خواب میں کسی دن اے رشک ماہ تاباں کر دے ذرا منور کاشانہ زندگی کا وہ تازہ داستاں ہوں مرنے کے بعد ان کو آئے گا یاد میرا افسانہ زندگی کا پردہ ذرا اٹھا دے بانکی اداروں والے افسانہ کہنے آیا دیوانہ زندگی کا امیدیں مٹ نہ جائیں نظریں نہ پھیر ظالم برباد کر نہ میرا کاشانہ زندگی کا ہے وقت نزع ظالم بالیں پہ دیکھ کر دم توڑتا ہے کیسے دیوانہ زندگی کا خون جگر بہا کر آنکھوں سے اپنی انورؔ رنگین کر رہا ہوں افسانہ زندگی کا

غزل · Ghazal

rangin banaa ke daaman-e-zakhm-e-jigar ko main

رنگیں بنا کے دامن زخم جگر کو میں گلزار کر رہا ہوں فضائے نظر کو میں گاتا ہوں ساز دل پہ ترانے سحر کو میں بیدار کر رہا ہوں کسی فتنہ گر کو میں ملزم نظر ہے یا سر شوریدہ کا قصور کعبہ سمجھ رہا ہوں ترے سنگ در کو میں چن کر گل نیاز قریب بساط دل باغ ارم بناتا ہوں داغ جگر کو میں وحشی بنا ہوا ہے مری مانتا نہیں اللہ کیا کروں دل شوریدہ سر کو میں اے حسن دل نواز مری ہمتیں تو دیکھ دل دے کے مول لیتا ہوں درد جگر کو میں سنگ در حبیب کو کعبہ بنا نہ لوں جلوہ سمجھ کے حسن فریب نظر کو میں زاہد نماز عشق کی تجدید کے لئے پھر اس کے نقش پا پہ جھکاتا ہوں سر کو میں میری طرح مجھے وہ نظر آئیں بے قرار کرتا ہوں اپنی آہ میں پیدا اثر کو میں شاید نیاز مند کو حاصل نیاز ہو حسرت سے تک رہا ہوں تری رہ گزر کو میں کرتا ہوں ضبط غم کہ نہ کھل جائے راز عشق دل میں چھپا کے رکھتا ہوں تیر نظر کو میں انورؔ گئیں نہ دل کی مرے بدگمانیاں رہزن سمجھ رہا ہوں ہر اک راہ بر کو میں

غزل · Ghazal

jalve dikhaae yaar ne apni harim-e-naaz mein

جلوے دکھائے یار نے اپنی حریم ناز میں سجدے چمک چمک اٹھے میرے سر نیاز میں جلوۂ دید میں تری شعلۂ طور تھا نہاں آگ سی اور لگ گئی میرے دل گداز میں شوق نے کھیچ لی مرے یار کی جب نقاب رخ حسن کی روشنی ہوئی جلوہ گہہ مجاز میں عشق کی بے حجابیاں حسن کی پردہ داریاں ہونے لگی تلاشیاں ناز میں اور نیاز میں دل میں لیا اداؤں نے صبر و قرار بھی لیا لٹ گیا گھر بھرا ہوا جنبش چشم ناز میں میری نظر کے ملتے ہی ان کی نگاہ جھک گئی دل کو جواب مل گیا چشم‌ فسوں طراز میں سحر وہ ہی کشش وہ ہی مستی و بے خودی وہ ہی تیری نظر سما گئی نرگس نیم باز میں پاؤں فگار میں تو ہوں دل تو نہیں فگار‌ غم کوئی صنم نہیں نہ ہو دشت جنوں نواز میں جلوۂ یار دیکھ کر طور پہ غش ہوئے کلیم عقل و خرد کا کام کیا محفل حسن و ناز میں کر لے خدا کی بندگی انورؔ خستہ دل ذرا بھول نہ اپنے رب کو تو نفس کی حرص و آز میں

Similar Poets