ho na paae jab mukammal ishq kaa qissa to phir
shohratein rahne do ab gum-naamiyaan hi Thiik hain

A.R. Sahil 'Aleeg'
A.R. Sahil 'Aleeg'
A.R. Sahil 'Aleeg'
Popular Shayari
9 totalpiine paDte hain sainkaDon aansu
dard khud to davaa nahin hotaa
kyaa bataaun main ki tum ne kis ko saunpi hai hayaa
is liye sochaa miri khaamoshiyaan hi Thiik hain
is qadar mujh pe marti hai pagli koi
rone lagti hai d p haTaane ke baad
shaam ke tan par saji jo surmai poshaak hai
ham charaaghon ki faqat ye raushni poshaak hai
sab ki taqriron mein vaise hai khudaa sab kaa hi ik
haan magar har dil ki apni mazhabi poshaak hai
uThaa ke haath duaa maangne lage hain charaagh
to kar rahi hai bhalaa kaisi rahnumaai sabaa
aankhon mein laal Dore se paDte chale gae
aansu ye kis hunar se pirotaa rahaa ghazaal
gulaab khvaab sitaare dhanak udaas charaagh
paDi hai fasl-e-mohabbat kaTi-kaTaai sabaa
Ghazalغزل
یوں تو ہونے کو کیا نہیں ہوتا آدمی بس خدا نہیں ہوتا درد دل ٹوٹنے کا جان من یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا فاعلاتن فعلاتن فعلن اس سے مصرع روا نہیں ہوتا پینے پڑتے ہیں سینکڑوں آنسو درد خود تو دوا نہیں ہوتا جو بھی انساں ہے یار انساں ہے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا ویسے رشتہ بہت سے ہیں ساحلؔ درد سا اک سگا نہیں ہوتا
yuun to hone ko kyaa nahin hotaa
41 views
شام کے تن پر سجی جو سرمئی پوشاک ہے ہم چراغوں کی فقط یہ روشنی پوشاک ہے چاند پیشانی کا ٹیکا چاندنی پوشاک ہے رات نے پہنی ہے جو وہ ساحری پوشاک ہے خاک کا یہ جسم ہے اور خاک ہی پوشاک ہے زندگی کی یہ نہیں یہ روح کی پوشاک ہے اس کو جنت میں قدم رکھنے پے ہے پابندیاں جس کسی بد ذہن کی بھی کافری پوشاک ہے ہر گلی نکڑ نگر اب بن چکا مقتل یہاں بے گناہوں کی لہو تر چیختی پوشاک ہے سب کی تقریروں میں ویسے ہے خدا سب کا ہی اک ہاں مگر ہر دل کی اپنی مذہبی پوشاک ہے اس غزل کے حرف ساحلؔ مسکرائے کس قدر مدتوں سے جس نے پہنی ماتمی پوشاک ہے
shaam ke tan par saji jo surmai poshaak hai
41 views
ڈھلی جو رات بہت دیر مسکرائی صبا فضا کو دے کے گئی آج پھر بدھائی صبا بھلے ہی آج چمن کو تو راس آئی صبا گلوں کے لب پہ مگر ہے تری برائی صبا اٹھا کے ہاتھ دعا مانگنے لگے ہیں چراغ تو کر رہی ہے بھلا کیسی رہنمائی صبا چڑھی جو دھوپ تو دامن جھٹک دیا اس نے افق سے کرنے لگی کھل کے بے وفائی صبا مہک اٹھی ہے تمنا بھی زخم کھانے کی کٹار ہاتھ میں لے کر گلی میں آئی صبا غبار ذہن جگر میں اٹھا دیا غم کا ستم کے شہر سے سیدھے ہی دل میں آئی صبا عجیب ڈھنگ کی مستی ہے ان پہاڑوں کی بدن پر اوڑھ لی ہنس کر کبھی بچھائی صبا گلاب خواب ستارے دھنک اداس چراغ پڑی ہے فصل محبت کٹی کٹائی صبا نہ جانے کس کے اشارے پہ رات دن ساحلؔ سنا رہی ہے کہانی سنی سنائی صبا
Dhali jo raat bahut der muskuraai sabaa
41 views
سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک بھگو کر شاہ رکھے گا لہو میں آستیں کب تک کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں ابھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا کسی کے جھوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک رکھے گا وقت ان کے روبرو بھی آئنہ اک دن جہاں کے عیب ہی دیکھا کریں گے نکتہ چیں کب تک نگاہوں سے ہی وہ ہر شخص کو کافر بنا دے گا بچے گی یہ ہوس کے سائے سے روئے زمیں کب تک نہ جانے کب رہا اس قید سے ہم ہوں گے اے ساحلؔ ستائیں گے ہماری زیست کو یہ کفر و دیں کب تک
siyaasi nafraton ki zad mein aaeinge hamin kab tak
41 views
اشکوں سے اپنی آنکھیں بھگوتا رہا غزال بیٹھا ندی کے تیر پہ روتا رہا غزال افسوس یہ ہے اس کو غزالہ نہ مل سکی خود کو غموں میں خوب ڈبوتا رہا غزال صحرا نوردیوں اسے راس آئی اس قدر شانوں پہ خاک عشق بھی ڈھوتا رہا غزال وحشت کا احترام جنوں میں کیا بہ چشم ماضی کے خار دل میں چبھوتا رہا غزال رنج و سرور و کیف جوانی کے چار دن کیا کیا تمہارے عشق میں کھوتا رہا غزال آنکھوں میں لال ڈورے سے پڑتے چلے گئے آنسو یہ کس ہنر سے پروتا رہا غزال ساحل تمام روز غموں کے عذاب میں بے خوف جسم و جان سے ہوتا رہا غزال
ashkon se apni aankhein bhigotaa rahaa ghazaal
41 views
لبوں پہ مسکان دل میں دہشت عجیب خلقت مری غزالہ خطا پہ اپنے نہیں کرے ہے کبھی ندامت مری غزالہ سو جیسا چاہا بنایا رب نے بدن کا خاکہ یہ اس کی مرضی ہر ایک ڈھب میں ہیں اپنے اپنے کساؤ کثرت مری غزالہ قرار دے دے مجھے تو کافر نہ چھوٹ پائے گی یہ عبادت رہے گی قدموں میں صرف تیرے یہ میری جنت مری غزالہ نہیں ہے ممکن کہ کٹ سکے یہ خدا کا لکھا یہ سوچتا ہوں وہ مل کہے مجھ سے کچھ تو میری بدل دے قسمت مری غزالہ انا سے مانگوں جہاں سے مانگوں میں تجھ کو کس کس خدا سے مانگوں بنی ہے میرے ہی جان و جی کی تو سخت آفت مری غزالہ میں چاہتا ہوں بنا لے ساحلؔ مجھے تو اپنی ہی زندگی کا نہیں ہے مجھ کو زمانے بھر سے کوئی بھی حاجت مری غزالہ
labon pe muskaan dil mein dahshat ajiib khilqat miri ghazaala
41 views





