SHAWORDS
Arman Khan Arman

Arman Khan Arman

Arman Khan Arman

Arman Khan Arman

poet
9Sher
9Shayari
11Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

tamaam 'umr kisi pesh-o-pas mein rahnaa paDaa

تمام عمر کسی پیش و پس میں رہنا پڑا ترے بغیر تری دسترس میں رہنا پڑا کبھی فرات کی زد میں کبھی پہاڑوں پر سلگتی ریت کبھی خار و خس میں رہنا پڑا بوقت نزع یہ اسرار کھل گیا کہ ہمیں تمام عمر مسلسل قفس میں رہنا پڑا نئے مزاج کے لوگوں کو کس لیے آخر قدیم طور‌ طریقوں کے بس میں رہنا پڑا پکارنا تھا اسے عمر بھر مجھے ارمانؔ تو ساز بن کے صدائے جرس میں رہنا پڑا

غزل · Ghazal

'aql-o-daanish ko yaqinan maat honi chaahiye

عقل و دانش کو یقیناً مات ہونی چاہئے عشق واحد میں یہی خیرات ہونی چاہئے سر قلم کر دے ستم گر دست و بازو کاٹ دے بے تکلف حق بہ جانب بات ہونی چاہئے پڑھ سکیں نا آفریدہ گلشنوں کے عندلیب بے بسی صفحات در صفحات ہونی چاہئے چار سو مقتل ہی مقتل دشت و صحرا کربلا گر یہی دن ہے تو پھر اب رات ہونی چاہئے

غزل · Ghazal

sad bahaaron se laala-zaar hai dil

صد بہاروں سے لالہ زار ہے دل فصل گل ہے کہ خار خار ہے دل شام در شام اک نئے ڈھب سے زخم جویائے نو بہار ہے دل خوب واقف ہے راز ہستی سے سب کے سینوں میں بے قرار ہے دل حوصلہ چاہئے رفوگر میں ریزہ ریزہ ہے تار تار ہے دل کتنے ارمانؔ دفن ہیں اس میں نقش فانی میں اک مزار ہے دل

غزل · Ghazal

vaqf kar di zindagi sab ne zamaane ke liye

وقف کر دی زندگی سب نے زمانے کے لیے اب کسے فرصت کسی سے دل لگانے کے لئے تلخیاں خون جگر کی شاعری میں گھول کر چند مصرعے لائیں ہیں ہم بھی سنانے کے لئے بھاپ بن کر اڑ گئے جو لوگ پانی کی طرح آگ سے کھیلا کئے تھے آشیانے کے لئے کچھ تو میری چاہتوں کا وہ بھرم رکھتا بھلا ایک رستہ چھوڑ دیتا آنے جانے کے لیے

غزل · Ghazal

pahle vo parindon ko ham-zabaan banaataa hai

پہلے وہ پرندوں کو ہم زباں بناتا ہے بعد جال بننے کو رسیاں بناتا ہے آج اک سمندر نے جس سے دشمنی کر لی وہ تو صرف ساحل پر کشتیاں بناتا ہے جس پہ درس ہستی کا امتحان گزرا ہو وہ قلم سے کاغذ پر تلخیاں بناتا ہے صبح ہونے سے پہلے شور پھیل جاتا ہے کون رات بھر اتنی سسکیاں بناتا ہے دل تو خیر دل ٹھہرا بے بسی میں کس کس پر راز کھول دیتا ہے رازداں بناتا ہے خاک دشت امکاں سے اک دیا بنا کر کے وحشت و تذبذب کی آندھیاں بناتا ہے

غزل · Ghazal

bichhaD ke us se agarche mujhe qaraar nahin

بچھڑ کے اس سے اگرچہ مجھے قرار نہیں یہ اور بات مجھے اس کا انتظار نہیں نظر تو پھیر مرے کاغذی بدن کی طرف ابھی یہ ضرب مسلسل سے تار تار نہیں عجیب شہر تمنا کے راستے ہیں یہاں ہر ایک سمت لکھا ہے کہ سازگار نہیں نشاط فصل بہاراں کی ہو گئی آمد شکوہ چشم گراں بار تابدار نہیں وہ منزلیں ہیں عبث جن کے راستے ہیں تمام وہ راہ راہ نہیں جو کہ خار خار نہیں

Similar Poets