ajab kashish hai tire hone yaa na hone mein
gumaan ne mujh ko haqiqat se baandh rakkhaa hai

Arshad Lateef
Arshad Lateef
Arshad Lateef
Popular Shayari
7 totalkhalaa kaa masala hi mukhtalif hai
samundar is qadar gahraa nahin hai
phailti jaa rahi hai ye duniyaa
jashn-e-aavaargi manaane mein
sabhi taabir us ki likh rahe hain
kisi ne bhi use dekhaa nahin hai
jab main us aadmi se duur huaa
gham miri zindagi se duur huaa
kis ke savaal par ye dil rotaa hai saari saari raat
kaun habib hai miraa tere khayaal ke sivaa
koi to moajaza aisaa bhi ho apni mohabbat mein
tire inkaar se iqraar ki surat nikal aae
Ghazalغزل
جب میں اس آدمی سے دور ہوا غم مری زندگی سے دور ہوا میں بھی اس کے مکان سے نکلا وہ بھی میری گلی سے دور ہوا دل سے کانٹا نکالنے کے بعد درد اپنی کمی سے دور ہوا وہ سمجھتا رہا کہ روئے گا میں بڑی خامشی سے دور ہوا راستے میں جو اک سمندر تھا میری تشنہ لبی سے دور ہوا وہ جسے مجھ سے دور ہونا تھا میں تو ارشدؔ اسی سے دور ہوا
jab main us aadmi se duur huaa
ہم وہ پنچھی جن کے گھر سے دور بسیرے ہوتے ہیں رات کو خواب خیال کے لشکر دل کو گھیرے ہوتے ہیں سوچ سوچ کر مر جاتی ہیں خوابوں کی تعبیریں بھی خواب جو تیرے ہوتے ہیں اور خواب جو میرے ہوتے ہیں عشق کا حاصل کچھ بھی ہو اک نسبت بھی کیا کم شے ہے کچھ ناں کچھ تو ہوتے ہیں جو بال بکھیرے ہوتے ہیں دل کی شمعیں جلنے دو ان آنکھوں کو روشن کر لو کہتے ہیں دل جلتے ہیں تو دور اندھیرے ہوتے ہیں قسمت لکھتی جاتی ہے ہم اس کو پڑھتے جاتے ہیں ارشدؔ اب تو یادوں ہی میں گھر کے پھیرے ہوتے ہیں
ham vo panchhi jin ke ghar se duur basere hote hain
ہر اک فسانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے غم زمانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے کسی کو علم نہیں کون کتنا پاگل ہے جنوں دوانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے ذرا سی بات پہ وہ ہم سے روٹھ جاتا ہے اسے منانا ضرورت سے کچھ زیادہ ہے جو ہم نے سیکھا جو مانا وہ کتنا کم نکلا جو ہم نے جانا ضرورت سے کچھ زیادہ ہے ہم ایسے شہر میں ہیں جس میں ملک بستے ہیں یہاں خزانہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہے
har ik fasaana zarurat se kuchh ziyaada hai
ترے خیال سے پھر آنکھ میری پر نم ہے کہ غم زیادہ ہے اور حوصلہ مرا کم ہے بقا کے واسطے صدیوں سے جنگ جاری ہے فنا کے شور شرابے سے ناک میں دم ہے نہیں تو کب کا مکمل میں ہو چکا ہوتا جسے میں اپنا سمجھتا ہوں اس میں کچھ کم ہے عجیب دور ہے یہ دور میری مشکل کا سوال میں ہے نہ کوئی جواب میں دم ہے میں جس کو ڈھونڈ رہا ہوں کئی زمانوں سے مجھے ہو علم کہ وہ میری ذات میں ضم ہے نماز پڑھتا ہوں اور اس کو یاد کرتا ہوں مرے خیال میں اک پانچواں بھی موسم ہے
tire khayaal se phir aankh meri pur-nam hai
ایک صورت تری بنانے میں رنگ مصروف ہیں زمانے میں پھیلتی جا رہی ہے یہ دنیا جشن آوارگی منانے میں قطرہ قطرہ ٹپک رہا ہے دل قصۂ عاشقی سنانے میں کیسے کیسے وجود روشن ہیں وقت کے نیلے شامیانے میں میرا پیکر مجھے عطا کر دے کیا کمی ہے ترے خزانے میں
ek surat tiri banaane mein
سرور عشق نے الفت سے باندھ رکھا ہے تری غرض نے محبت سے باندھ رکھا ہے عجب کشش ہے ترے ہونے یا نہ ہونے میں گماں نے مجھ کو حقیقت سے باندھ رکھا ہے کبھی کبھی تو مجھے ٹوٹتا دکھائی دے جو ایک عہد قیامت سے باندھ رکھا ہے شہ جمال ترے شہر کے فقیروں کو کمال ہجر نے وحشت سے باندھ رکھا ہے بھٹک رہا ہوں میں غار طلسم کے اندر کہ علم تو نے جہالت سے باندھ رکھا ہے
surur-e-ishq ne ulfat se baandh rakkhaa hai





