SHAWORDS
Arshi Bhopali

Arshi Bhopali

Arshi Bhopali

Arshi Bhopali

poet
6Sher
6Shayari
14Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

na sahraa hai na ab divaar-o-dar hai

نہ صحرا ہے نہ اب دیوار و در ہے چمن میں نغمہ گر ساز سحر ہے سراغ کاروان رنگ و بو سے صبا آوارۂ گرد سفر ہے اسیرو اب در زنداں کرو باز سر ناخن کوئی عقد گہر ہے ندیمو داد دو اہل جنوں کو نمکداں زخم پا ہے زخم سر ہے

غزل · Ghazal

yaqin-e-subh-e-chaman hai kitnaa shuur-e-abr-e-bahaar kyaa hai

یقین صبح چمن ہے کتنا شعور ابر بہار کیا ہے سوال کرتے ہیں دشت و دریا کہ قافلے کا وقار کیا ہے جو چل پڑے جادۂ وفا پر انہیں غم روزگار کیا ہے صعوبتوں کے پہاڑ کیا ہیں تمازتوں کا غبار کیا ہے یہیں پہ منزل کریں گے راہی یہیں پہ سب قافلے رکیں گے ٹھہر ذرا شوق صبر دشمن یہ درد بے اختیار کیا ہے نصیب فردا پہ شادماں ہیں جنوں کے ماروں سے کوئی پوچھے یہ کیوں گریباں ہے ٹکڑے ٹکڑے یہ دامن تار تار کیا ہے نہ ان کا جادہ نہ کوئی منزل نہ نور و ظلمت کا فرق جانیں انہیں خبر کیا کہ ہے سحر کیا اندھیری شب کا خمار کیا ہے

غزل · Ghazal

nigaah-e-shauq se kab tak muqaabla karte

نگاہ شوق سے کب تک مقابلہ کرتے وہ التفات نہ کرتے تو اور کیا کرتے یہ رسم ترک محبت بھی ہم ادا کرتے تیرے بغیر مگر زندگی کو کیا کرتے غرور حسن کو مانوس التجا کرتے وہ ہم نہیں کہ جو خود داریاں فنا کرتے کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر آ کے ہمیں ہوئی تھی دیر نہ کچھ دل سے مشورا کرتے یہ پوچھو حسن کو الزام دینے والوں سے جو وہ ستم بھی نہ کرتا تو آپ کیا کرتے ستم شعار ازل سے ہے حسن کی فطرت جو میں وفا بھی نہ کرتا تو وہ جفا کرتے ہمیں تو اپنی تباہی کی داد بھی نہ ملی تری نوازش بیجا کا کیا گلا کرتے نگاہ ناز کی معصومیت ارے توبہ جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے نگاہ لطف کی تسکیں کا شکریہ لیکن متاع درد کو کس دل سے ہم جدا کرتے

غزل · Ghazal

ufuq ke khunin dhundlakon kaa subh naam nahin

افق کے خونیں دھندلکوں کا صبح نام نہیں قدم بڑھا کہ یہ ساتھی ترا مقام نہیں ابھی نہ دے مجھے اذن بہار اے ساقی ابھی حیات ستاروں سے ہم کلام نہیں ملا ہے اب کہیں صدیوں کے بعد مستوں کو وہ مے کدہ کہ جہاں کوئی تشنہ کام نہیں نہ عارضوں پہ شفق ہے نہ گیسوؤں میں شکن یہ صبح و شام نہیں میرے صبح و شام نہیں بہار دیر و حرم لے کے کیا کروں ناصح یہ قافلے تو ابھی تک سحر مقام نہیں قدم قدم پہ ہے درکار جہد و فکر و عمل یہ زندگی ہے صدائے شکست جام نہیں ابھی تو دامن شب میں سسک رہی ہے سحر بڑھے چلو کہ ابھی ساعت قیام نہیں

غزل · Ghazal

nashili chhaanv mein biite hue zamaanon ko

نشیلی چھاؤں میں بیتے ہوئے زمانوں کو لگا دو آگ اجل کے نگار خانوں کو بتا رہے ہیں جبین حیات کے تیور پناہ مل نہیں سکتی اب آستانوں کو دیے جلاؤ کہ انسانیت نے توڑ دیا جہان زر کے رو پہلے طلسم خانوں کو ہر ایک گام پہ مشعل دکھا رہی ہے حیات ستم کی آنچ میں نکھرے ہوئے زمانوں کو ہزار دار و رسن ڈگمگا نہیں سکتے اجل کی گود میں کھیلے ہوئے جوانوں کو بہت قریب ہے وہ دور خوش گوار کہ جب نگار امن سجائے گی کارخانوں کو خود آگے بڑھ کے قدم چومتی ہے منزل شوق یہ کس نے راہ دکھائی ہے کاروانوں کو

غزل · Ghazal

shauq-e-aavaara dasht-o-dar se hai

شوق آوارہ دشت و در سے ہے تہمت سنگ زخم سر سے ہے جادہ راہ بہشت ہم کو ندیم یہ ارم گرد رہ گزر سے ہے آبلوں سے نگار صحرا ہے رشتۂ غم پیامبر سے ہے اب خرابی سے ہیں در و دیوار اب جرس جادۂ سفر سے ہے رنج بے چارگی شب غم سے بزم مے مژدۂ سحر سے ہے

Similar Poets