SHAWORDS
Asar Sahbai

Asar Sahbai

Asar Sahbai

Asar Sahbai

poet
13Sher
13Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 13

Popular Sher & Shayari

26 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ravaani huun ravaani ko Thahar jaanaa nahin aataa

روانی ہوں روانی کو ٹھہر جانا نہیں آتا سراپا زندگی ہوں مجھ کو مر جانا نہیں آتا دو عالم کو ابد تک اپنی خوشبو سے بساؤں گا مجھے ٹہنی پہ مرجھا کر بکھر جانا نہیں آتا ہر افسردہ کلی کو گدگداؤں گا ہنساؤں گا مجھے مثل صبا سن سے گزر جانا نہیں آتا میں گردابوں میں گھوموں گا میں طوفانوں سے کھیلوں گا لب دریا مجھے ڈر ڈر کے مر جانا نہیں آتا نہیں جاتا غم الفت نہیں جاتا نہیں جاتا اسے آنا تو آتا ہے مگر جانا نہیں آتا

غزل · Ghazal

zulmat-e-dasht-e-adam mein bhi agar jaaungaa

ظلمت دشت عدم میں بھی اگر جاؤں گا لے کے ہمراہ مہ داغ جگر جاؤں گا عارض گل ہوں نہ میں دیدۂ بلبل گلچیں ایک جھونکا ہوں فقط سن سے گزر جاؤں گا اے فنا ٹوٹ سکے گی نہ کبھی کشتی عمر میں کسی اور سمندر میں اتر جاؤں گا دیکھ جی بھر کے مگر توڑ نہ مجھ کو گلچیں ہاتھ بھی تو نے لگایا تو بکھر جاؤں گا ایک قطرہ ہوں مگر سیل محبت سے ترے ہو سکے جو نہ سمندر سے بھی کر جاؤں گا دور گلشن سے کسی دشت میں لے جا صیاد ہم صفیروں کے ترانوں میں تو مر جاؤں گا صحن گلشن میں کئی دام بچھے ہیں اے اثرؔ اڑ کے جاؤں بھی اگر میں تو کدھر جاؤں گا

غزل · Ghazal

tumhaari furqat mein meri aankhon se khuun ke aansu Tapak rahe hain

تمہاری فرقت میں میری آنکھوں سے خوں کے آنسو ٹپک رہے ہیں سپہر الفت کے ہیں ستارے کہ شام غم میں چمک رہے ہیں عجیب ہے سوز و ساز الفت طرب فزا ہے گداز الفت یہ دل میں شعلے بھڑک رہے ہیں کہ لالہ و گل مہک رہے ہیں بہار ہے یا شراب رنگیں نشاط افروز کیف آگیں گلوں کے ساغر چھلک رہے ہیں گلوں پہ بلبل چہک رہے ہیں جہاں پہ چھایا سحاب مستی برس رہی ہے شراب مستی غضب ہے رنگ شباب مستی کہ رند و زاہد بہک رہے ہیں مگر اثرؔ ہے خموش و حیراں حواس گم چاک داماں لبوں پہ آئیں نظر پریشاں تو رخ پہ آنسو ٹپک رہے ہیں

غزل · Ghazal

miri har saans ko sab naghma-e-mahfil samajhte hain

مری ہر سانس کو سب نغمۂ محفل سمجھتے ہیں مگر اہل دل آواز شکست دل سمجھتے ہیں گماں کاشانۂ رنگیں کا ہے جس پر نگاہوں کو اسے اہل نظر گرد رہ منزل سمجھتے ہیں الٰہی کشتئ دل بہہ رہی ہے کس سمندر میں نکل آتی ہیں موجیں ہم جسے ساحل سمجھتے ہیں طرب انگیز ہیں رنگینیاں فصل بہاری کی مگر بلبل انہیں خون رگ بسمل سمجھتے ہیں پگھل کر دل لہو ہو ہو کے بہہ جاتا ہے آنکھوں سے ستم ہے شمع کو جو زینت محفل سمجھتے ہیں کہاں ہوگا ٹھکانا برق رفتاری ان کی وحشت کا کہ وہ منزل کو بھی سنگ رہ منزل سمجھتے ہیں بگولے اڑ رہے ہیں جو ہمارے دشت وحشت میں انہیں کو اے اثرؔ ہم پردۂ محمل سمجھتے ہیں

غزل · Ghazal

lutf gunaah mein milaa aur na maza savaab mein

لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں قلب تڑپ تڑپ اٹھا روح لرز لرز گئی بجلیاں تھیں بھری ہوئی زمزمۂ رباب میں چرخ بھی مے پرست ہے بزم زمیں بھی مست ہے غرق بلند و پست ہے جلوۂ ماہتاب میں میرے لیے عجیب ہیں تیری یہ مسکراہٹیں جاگ رہا ہوں یا تجھے دیکھ رہا ہوں خواب میں میرے سکوت میں نہاں ہے مرے دل کی داستاں جھک گئی چشم فتنہ زا ڈوب گئی حجاب میں لذت جام جم کبھی تلخی زہر غم کبھی عشرت زیست ہے اثرؔ گردش انقلاب میں

غزل · Ghazal

tumhaari yaad mein duniyaa ko huun bhulaae hue

تمہاری یاد میں دنیا کو ہوں بھلائے ہوئے تمہارے درد کو سینے سے ہوں لگائے ہوئے عجیب سوز سے لبریز ہیں مرے نغمے کہ ساز دل ہے محبت کی چوٹ کھائے ہوئے جو تجھ سے کچھ بھی نہ ملنے پہ خوش ہیں اے ساقی کچھ ایسے رند بھی ہیں مے کدے میں آئے ہوئے تمہارے ایک تبسم نے دل کو لوٹ لیا رہے لبوں پہ ہی شکوے لبوں پہ آئے ہوئے اثرؔ بھی راہرو دشت زندگانی ہے پہاڑ غم کا دل زار پر اٹھائے ہوئے

Similar Poets