"saari duniya ko jitne vaala apne bachchon se haar jaata hai"

Asghar Shamim
Asghar Shamim
Asghar Shamim
Sherشعر
saari duniya ko jitne vaala
ساری دنیا کو جیتنے والا اپنے بچوں سے ہار جاتا ہے
shahr to kab ka jal chuka 'asghar'
شہر تو کب کا جل چکا اصغرؔ اٹھ رہا ہے مگر دھواں اب تک
dil men 'asghar' ke khushiyon ki barsat thi
دل میں اصغرؔ کے خوشیوں کی برسات تھی ہنستے ہنستے وہ کیوں غمزدہ ہو گیا
kahan sar chhupa.en pata hi nahin
کہاں سر چھپائیں پتا ہی نہیں کہ گرنے لگی گھر کی دیوار اب
sar pe dastar jab salamat hai
سر پہ دستار جب سلامت ہے دل میں آتی ہوئی انا سے ڈر
talatum men kabhi utra tha 'asghar'
تلاطم میں کبھی اترا تھا اصغرؔ سمندر آج تک سہما ہوا ہے
Popular Sher & Shayari
12 total"shahr to kab ka jal chuka 'asghar' uTh raha hai magar dhuan ab tak"
"dil men 'asghar' ke khushiyon ki barsat thi hanste hanste vo kyuun gham-zada ho gaya"
"kahan sar chhupa.en pata hi nahin ki girne lagi ghar ki divar ab"
"sar pe dastar jab salamat hai dil men aati hui ana se Dar"
"talatum men kabhi utra tha 'asghar' samundar aaj tak sahma hua hai"
shahr to kab kaa jal chukaa 'asghar'
uTh rahaa hai magar dhuaan ab tak
saari duniyaa ko jitne vaalaa
apne bachchon se haar jaataa hai
kahaan sar chhupaaein pataa hi nahin
ki girne lagi ghar ki divaar ab
sar pe dastaar jab salaamat hai
dil mein aati hui anaa se Dar
talaatum mein kabhi utraa thaa 'asghar'
samundar aaj tak sahmaa huaa hai
dil mein 'asghar' ke khushiyon ki barsaat thi
hanste hanste vo kyuun gham-zada ho gayaa
Ghazalغزل
kahaan kho gae mere gham-khvaar ab
کہاں کھو گئے میرے غم خوار اب کہ تنہا ہوں چلنے کو تیار اب کہاں سر چھپائیں پتا ہی نہیں کہ گرنے لگی گھر کی دیوار اب تو منصف ہے اپنا قلم روک لے بچا لے گا میرا ہی کردار اب کہ آٹھوں پہر مجھ کو فرصت نہیں کہیں کھو گیا میرا اتوار اب مرے خوں میں رنگ وفا دیکھ لے مجھے لے کے چل تو سر دار اب میں اصغرؔ مسافر کڑے کوس کا کہ اپنے ہوئے میرے اغیار اب
chain mujh ko milaa kahaan ab tak
چین مجھ کو ملا کہاں اب تک لے رہا ہے وہ امتحاں اب تک حال مجھ سے نہ پوچھیے میرا اشک آنکھوں سے ہے رواں اب تک بجلیاں تو سکوں سے لوٹ گئیں جل رہا ہے یہ آشیاں اب تک گھر سے نکلا تلاش میں جس کی ڈھونڈ پایا نہ وہ مکاں اب تک شہر تو کب کا جل چکا اصغرؔ اٹھ رہا ہے مگر دھواں اب تک
''khushk pattaa hai to havaa se Dar''
''خشک پتا ہے تو ہوا سے ڈر'' زرد موسم کی بد دعا سے ڈر ہر عمل کا محاسبہ کر لے پاس آتی ہوئی قضا سے ڈر نیک کاروں میں نام ہو تیرا اپنے ہر کاج میں ریا سے ڈر سر پہ دستار جب سلامت ہے دل میں آتی ہوئی انا سے ڈر شہر ویران ہو گیا اصغرؔ سنسناتی ہوئی ہوا سے ڈر
baat kuchh bhi na thi kyuun khafaa ho gayaa
بات کچھ بھی نہ تھی کیوں خفا ہو گیا جو تھا اپنا مرا غیر سا ہو گیا دھوپ شدت کی تھی چل پڑا راہ میں ماں کا آنچل مرا آسرا ہو گیا مجھ کو موج بلا سے کوئی ڈر نہیں جب سہارا مرا ناخدا ہو گیا اب تو آنکھوں سے آنسو بھی بہتے نہیں ظلم جب ان کا حد سے سوا ہو گیا دل میں اصغرؔ کے خوشیوں کی برسات تھی ہنستے ہنستے وہ کیوں غم زدہ ہو گیا





