SHAWORDS
A

Ashraf Ali Fughan

Ashraf Ali Fughan

Ashraf Ali Fughan

poet
6Sher
6Shayari
14Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

dil dhaDaktaa hai ki tu yaar hai saudaai kaa

دل دھڑکتا ہے کہ تو یار ہے سودائی کا تیرے مجنوں کو کہاں پاس ہے رسوائی کا برگ گل سے بھی کم اب کوہ غم اس نے جانا یہ بھروسا تو نہ تھا دل کی توانائی کا کیجیے چاک گریباں کو بہار آئی ہے ذکر بے لطف ہے یاں صبر و شکیبائی کا سرو ثابت قدم اس واسطے گلشن میں رہا نہیں دیکھا کبھی جلوہ تری رعنائی کا زور منظور نظر تو تو فغاںؔ رکھتا ہے میں تو بندہ ہوں تری چشم کی بینائی کا

غزل · Ghazal

bas-ki didaar tiraa jalva-e-quddusi hai

بسکہ دیدار ترا جلوۂ قدوسی ہے دامن وصل بھی آلودۂ مایوسی ہے ہے کہاں بوئے وفا اس دہن شیریں میں غنچہ لب تیری زباں ہم نے بہت چوسی ہے یار گو خون مرا مثل حنا ہو پامال لیکن اپنے تئیں منظور قدم بوسی ہے دل مرا خاک شگفتہ ہو چمن میں جا کر گل میں یہ رنگ کہاں ایک تری بو سی ہے ایک دن زلف کے منہ پر نہ چڑھی یہ کافر یاد کاکل کو فقط شیوۂ جاسوسی ہے وہ سجی تیغ کہ دم میں کرے لاکھوں کو قتل کون کہتا ہے میاں تیری کمر مو سی ہے شیخ روتا ہے اسے سن کے برہمن یکسو پر اثر بس کہ مرا نالۂ ناقوسی ہے چشم نمناک نے از بسکہ بجھایا اس کو آتش عشق کہاں دل میں مگر لو سی ہے اے فغاںؔ عشق کہاں دل میں بقول منتؔ ہاں یہ سچ ملنے کی خوباں سے تو اک خو سی ہے

غزل · Ghazal

aks bhi kab shab-e-hijraan kaa tamaashaai hai

عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے ایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہے دل تو رکتا ہے اگر بند قبا باز نہ ہو چاک کرتا ہوں گریباں کو تو رسوائی ہے طاقت ضبط کہاں اب تو جگر جلتا ہے آہ سینہ سے نکل لب پہ مرے آئی ہے میں تو وہ ہوں کہ مرے لاکھ خریدار ہیں اب لیک اس دل سے دھڑکتا ہوں کہ سودائی ہے دل بیتاب فغاںؔ امت ایوب نہیں نہ اسے صبر ہے ہرگز نہ شکیبائی ہے

غزل · Ghazal

uTh chukaa dil miraa zamaane se

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے اڑ گیا مرغ آشیانے سے دیکھ کر دل کو مڑ گئی مژگاں تیر خالی پڑا نشانے سے چشم کو نقش پا کروں کیونکر دور ہو خاک آستانے سے ہم نے پایا تو یہ صنم پایا اس خدائی کے کارخانے سے تیری زنجیر زلف سے نکلے یہ توقع نہ تھی دوانے سے اے فغاںؔ درد دل سنوں کب تک اڑ گئی نیند اس فسانے سے

غزل · Ghazal

khuun aankhon se nikaltaa hi rahaa

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا کاروان اشک چلتا ہی رہا اس کف پا پر ترے رنگ حنا جن نے دیکھا ہاتھ ملتا ہی رہا صبح ہوتے بجھ گئے سارے چراغ داغ دل تا شام جلتا ہی رہا کب ہوا بیکار پتلا خاک کا یہ تو سو قالب میں ڈھلتا ہی رہا بہ ہوئے کب داغ میرے جسم کے یہ شجر ہر وقت پھلتا ہی رہا کب تھما آنکھوں سے میری خون دل جوش کھا کھا کر ابلتا ہی رہا کیا ہوا مرہم لگانے سے فغاںؔ زخم دل سینہ میں سلتا ہی رہا

غزل · Ghazal

ai tajalli kyaa huaa sheva tiri takraar kaa

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا مر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کا کیا بنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے ڈھل گیا سر سے مرے سایہ تری دیوار کا روز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخم دل دیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا نو ملازم لعل لب کو لے گئے تنخواہ میں بے طلب رہتا ہے یہ نوکر تری سرکار کا دیکھ نئیں سکتا فغاںؔ شادی دل آفت طلب یہ کہاں سے ہو گیا مالک مرے گھر بار کا

Similar Poets