"eid ka din hai so kamre men paDa huun 'aslam' apne darvaze ko bahar se muqaffal kar ke"

Aslam Kolsarii
Aslam Kolsarii
Aslam Kolsarii
Sherشعر
See all 9 →eid ka din hai so kamre men paDa huun 'aslam'
عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے
shahr men aa kar paDhne vaale bhuul ga.e
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
kanTe se bhi nichoD li ghairon ne bu-e-gul
کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا دیا
sirf mere liye nahin rahna
صرف میرے لیے نہیں رہنا تم مرے بعد بھی حسیں رہنا
hamari jiit hui hai ki donon haare hain
ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں
'aslam' baDe vaqar se degre vasul ki
اسلمؔ بڑے وقار سے ڈگری وصول کی اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا
Popular Sher & Shayari
18 total"shahr men aa kar paDhne vaale bhuul ga.e kis ki maan ne kitna zevar becha tha"
"kanTe se bhi nichoD li ghairon ne bu-e-gul yaron ne bu-e-gul se bhi kanTa bana diya"
"sirf mere liye nahin rahna tum mire baa'd bhi hasin rahna"
"hamari jiit hui hai ki donon haare hain bichhaD ke ham ne ka.i raat din guzare hain"
"'aslam' baDe vaqar se degre vasul ki aur is ke baa'd shahr men khvancha laga liya"
'aslam' baDe vaqaar se degrē vasul ki
aur is ke baa'd shahr mein khvaancha lagaa liyaa
kaanTe se bhi nichoD li ghairon ne bu-e-gul
yaaron ne bu-e-gul se bhi kaanTaa banaa diyaa
shahr mein aa kar paDhne vaale bhuul gae
kis ki maan ne kitnaa zevar bechaa thaa
eid kaa din hai so kamre mein paDaa huun 'aslam'
apne darvaaze ko baahar se muqaffal kar ke
hamaari jiit hui hai ki donon haare hain
bichhaD ke ham ne kai raat din guzaare hain
qarib aa ke bhi ik shakhs ho sakaa na miraa
yahi hai meri haqiqat yahi fasaana miraa
Ghazalغزل
har-chand be-navaa hai kore ghaDe kaa paani
ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی دیوان میرؔ کا ہے کورے گھڑے کا پانی اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے اپنی یہی صدا ہے کورے گھڑے کا پانی کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے لفظوں میں بہہ رہا ہے کورے گھڑے کا پانی خانہ بدوش چھوری تکتی ہے چوری چوری اس کا تو آئنہ ہے کورے گھڑے کا پانی چڑیوں سی چہچہائیں پنگھٹ پہ جب بھی سکھیاں چپ چاپ رو دیا ہے کورے گھڑے کا پانی اس کے لہو میں شاید تاثیر ہو وفا کی جس نے کبھی پیا ہے کورے گھڑے کا پانی عزت ضمیر محنت دانش ہنر محبت لیکن کبھی بکا ہے کورے گھڑے کا پانی دیکھوں جو چاندنی میں لگتا ہے مجھ کو اسلمؔ پگھلی ہوئی دعا ہے کورے گھڑے کا پانی
soch ki uljhi hui jhaaDi ki jaanib jo gai
سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی آس کی رنگین تتلی خوں کا چھینٹا ہو گئی اس کی خوشبو تھی مری آواز تھی کیا چیز تھی جو دریچہ توڑ کر نکلی فضا میں کھو گئی آخر شب دور کہساروں سے برفانی ہوا شہر میں آئی مرے کمرے میں آ کر سو گئی چند چھلکوں اور اک بوڑھی بھکارن کے سوا ریل گاڑی آخری منزل پہ خالی ہو گئی اس قدر میلا نہ تھا جس پر کسی کا نام تھا پھر بھی اسلمؔ آنکھ چھلکی اور کاغذ دھو گئی
zalzale kaa khauf taari hai dar-o-divaar par
زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر جبکہ میں بیٹھا ہوا ہوں کانپتے مینار پر ہاں اسی رستے میں ہے شہر نگار آرزو آپ چلتے جائیے میرے لہو کی دھار پر پھر اڑا لائی ہوا مجھ کو جلانے کے لیے زرد پتے چند سوکھی ٹہنیاں دو چار پر طائر تخئیل کا سارا بدن آزاد ہے صرف اک پتھر پڑا ہے شیشۂ منقار پر وقت کا دریا تو ان آنکھوں سے ٹکراتا رہا اپنے حصے میں نہ آیا لمحۂ دیدار پر سارا پانی چھاگلوں سے آبلوں میں آ گیا چلچلاتی دھوپ کے جلتے ہوئے اصرار پر
hamaari jiit hui hai ki donon haare hain
ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں ہنوز سینے کی چھوٹی سی قبر خالی ہے اگرچہ اس میں جنازے کئی اتارے ہیں وہ کوئلے سے مرا نام لکھ چکا تو اسے سنا ہے دیکھنے والوں نے پھول مارے ہیں یہ کس بلا کی زباں آسماں کو چاٹ گئی کہ چاند ہے نہ کہیں کہکشاں نہ تارے ہیں مجھے بھی خود سے عداوت ہوئی تو ظاہر ہے کہ اپنے دوست مجھے زندگی سے پیارے ہیں نہیں کہ عرصۂ گرداب ہی غنیمت تھا مگر یقیں تو دلاؤ یہی کنارے ہیں غلط کہ کوئی شریک سفر نہیں اسلمؔ سلگتے عکس ہیں جلتے ہوئے اشارے ہیں
yaar ko dida-e-khun-baar se ojhal kar ke
یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے یعنی ترتیب کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے
nazar ko vaqf-e-hairat kar diyaa hai
نظر کو وقف حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمام حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم نکل آئے ہیں جب سے زباں کو صرف غیبت کر دیا ہے سخن کے باب میں بھی ہم نے اسلمؔ جو کرنا تھا بہ عجلت کر دیا ہے





