SHAWORDS
Aslam Kolsarii

Aslam Kolsarii

Aslam Kolsarii

Aslam Kolsarii

poet
9Sher
9Shayari
20Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

har-chand be-navaa hai kore ghaDe kaa paani

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی دیوان میرؔ کا ہے کورے گھڑے کا پانی اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے اپنی یہی صدا ہے کورے گھڑے کا پانی کاغذ پہ کیسے ٹھہریں مصرعے مری غزل کے لفظوں میں بہہ رہا ہے کورے گھڑے کا پانی خانہ بدوش چھوری تکتی ہے چوری چوری اس کا تو آئنہ ہے کورے گھڑے کا پانی چڑیوں سی چہچہائیں پنگھٹ پہ جب بھی سکھیاں چپ چاپ رو دیا ہے کورے گھڑے کا پانی اس کے لہو میں شاید تاثیر ہو وفا کی جس نے کبھی پیا ہے کورے گھڑے کا پانی عزت ضمیر محنت دانش ہنر محبت لیکن کبھی بکا ہے کورے گھڑے کا پانی دیکھوں جو چاندنی میں لگتا ہے مجھ کو اسلمؔ پگھلی ہوئی دعا ہے کورے گھڑے کا پانی

غزل · Ghazal

soch ki uljhi hui jhaaDi ki jaanib jo gai

سوچ کی الجھی ہوئی جھاڑی کی جانب جو گئی آس کی رنگین تتلی خوں کا چھینٹا ہو گئی اس کی خوشبو تھی مری آواز تھی کیا چیز تھی جو دریچہ توڑ کر نکلی فضا میں کھو گئی آخر شب دور کہساروں سے برفانی ہوا شہر میں آئی مرے کمرے میں آ کر سو گئی چند چھلکوں اور اک بوڑھی بھکارن کے سوا ریل گاڑی آخری منزل پہ خالی ہو گئی اس قدر میلا نہ تھا جس پر کسی کا نام تھا پھر بھی اسلمؔ آنکھ چھلکی اور کاغذ دھو گئی

غزل · Ghazal

zalzale kaa khauf taari hai dar-o-divaar par

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر جبکہ میں بیٹھا ہوا ہوں کانپتے مینار پر ہاں اسی رستے میں ہے شہر نگار آرزو آپ چلتے جائیے میرے لہو کی دھار پر پھر اڑا لائی ہوا مجھ کو جلانے کے لیے زرد پتے چند سوکھی ٹہنیاں دو چار پر طائر تخئیل کا سارا بدن آزاد ہے صرف اک پتھر پڑا ہے شیشۂ منقار پر وقت کا دریا تو ان آنکھوں سے ٹکراتا رہا اپنے حصے میں نہ آیا لمحۂ دیدار پر سارا پانی چھاگلوں سے آبلوں میں آ گیا چلچلاتی دھوپ کے جلتے ہوئے اصرار پر

غزل · Ghazal

hamaari jiit hui hai ki donon haare hain

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں ہنوز سینے کی چھوٹی سی قبر خالی ہے اگرچہ اس میں جنازے کئی اتارے ہیں وہ کوئلے سے مرا نام لکھ چکا تو اسے سنا ہے دیکھنے والوں نے پھول مارے ہیں یہ کس بلا کی زباں آسماں کو چاٹ گئی کہ چاند ہے نہ کہیں کہکشاں نہ تارے ہیں مجھے بھی خود سے عداوت ہوئی تو ظاہر ہے کہ اپنے دوست مجھے زندگی سے پیارے ہیں نہیں کہ عرصۂ گرداب ہی غنیمت تھا مگر یقیں تو دلاؤ یہی کنارے ہیں غلط کہ کوئی شریک سفر نہیں اسلمؔ سلگتے عکس ہیں جلتے ہوئے اشارے ہیں

غزل · Ghazal

yaar ko dida-e-khun-baar se ojhal kar ke

یار کو دیدۂ خوں بار سے اوجھل کر کے مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے جانب شہر فقیروں کی طرح کوہ گراں پھینک دیتا ہے بخارات کو بادل کر کے جل اٹھیں روح کے گھاؤ تو چھڑک دیتا ہوں چاندنی میں تری یادوں کی مہک حل کر کے دل وہ مجذوب مغنی کہ جلا دیتا ہے ایک ہی آہ سے ہر خواب کو جل تھل کر کے جانے کس لمحۂ وحشی کی طلب ہے کہ فلک دیکھنا چاہے مرے شہر کو جنگل کر کے یعنی ترتیب کرم کا بھی سلیقہ تھا اسے اس نے پتھر بھی اٹھایا مجھے پاگل کر کے عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

غزل · Ghazal

nazar ko vaqf-e-hairat kar diyaa hai

نظر کو وقف حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمام حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم نکل آئے ہیں جب سے زباں کو صرف غیبت کر دیا ہے سخن کے باب میں بھی ہم نے اسلمؔ جو کرنا تھا بہ عجلت کر دیا ہے

Similar Poets