tum bahr-e-mohabbat ke kinaare pe khaDe the
tum ne miri aankhon mein samundar nahin dekhaa

Azhar Naiyyar
Azhar Naiyyar
Azhar Naiyyar
Popular Shayari
5 totalba-vaqt-e-shaam samundar mein gir gayaa suraj
tamaam din ki thakan se niDhaal aisaa thaa
thi us ki band muTThi mein chiTThi dabi hui
jo shakhs thaa train ke niche kaTaa huaa
chaahaa hai jis kaa saaya shajar vo babul hai
qismat mein mere aaj bhi saDkon ki dhuul hai
dil khaak huaa pyaar ki is aag mein jal kar
aur jhaank ke us ne kabhi andar nahin dekhaa
Ghazalغزل
ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظر کھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصت پلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنو ہر ایک شے کا نگاہوں سے رشتہ ٹوٹ گیا اٹھی جو صحن میں دیوار اختلاف بڑھے زمیں کے واسطے اپنوں سے رشتہ ٹوٹ گیا کتاب زیست کا ہر صفحہ سادہ ہے نیرؔ قلم کی نوک کا لفظوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
hare darakht kaa shaakhon se rishta TuuT gayaa
سچ بولنا چاہیں بھی تو بولا نہیں جاتا جھوٹوں کے لئے شہر بھی چھوڑا نہیں جاتا تم کتنا ہی عہدوں سے نوازو ہمیں لیکن نفرت کا شجر ہم سے تو بویا نہیں جاتا سوچو تو جوانی کبھی واپس نہیں آتی دیکھو تو کبھی آ کے بڑھاپا نہیں جاتا دل پر تو بہت زخم زمانے کے لگے ہیں خود داری سے لیکن کبھی رویا نہیں جاتا دنیا بھی سکوں سے کبھی رہنے نہیں دیتی نوحہ بھی کبھی اپنوں کا لکھا نہیں جاتا پہرے مرے ہونٹوں پہ لگا رکھے ہیں اس نے چاہوں میں گلا کرنا تو بولا نہیں جاتا تنکے بھی نہیں چھوڑے ہیں نیرؔ کسی گھر کے سیلاب وہ آیا ہے کہ دیکھا نہیں جاتا
sach bolnaa chaahein bhi to bolaa nahin jaataa
میں اپنے شہر میں اپنا ہی چہرہ کھو بیٹھا یہ واقعہ جو سنایا تو وہ بھی رو بیٹھا تمہاری آس میں آنکھوں کو میں بھگو بیٹھا کہ دل میں یاس کے کانٹے کئی چبھو بیٹھا متاع حال نہ ماضی کا کوئی سرمایہ ندی میں وقت کی ہر چیز کو ڈبو بیٹھا سنہرے وقت کی تحریریں جن میں تھیں محفوظ میں ان صحیفوں کو اشکوں سے اپنے دھو بیٹھا میں سنتا رہتا تھا جس آئنے کی سرگوشی وہ شہر سنگ میں اپنی جلا بھی کھو بیٹھا کسی ببول کے سائے تلے ملی جو اماں تو اپنے پاؤں میں کانٹے بھی میں چبھو بیٹھا وہی رہا ہے بہر طور شادماں نیرؔ جو اپنے غم میں غم دیگراں سمو بیٹھا
main apne shahr mein apnaa hi chehra kho baiThaa
میں محل ریت کے صحرا میں بنانے بیٹھا چند الفاظ کو ماضی کے بھلانے بیٹھا حادثے سے ہی ہوا غم کا مداوا میرے فلسفہ صبر کا لوگوں کو پڑھانے بیٹھا تھک کے سائے میں ببولوں کے سکوں جب چاہا اس کا ہر پتہ مجھے کانٹے لگانے بیٹھا جس نے توڑا سبھی ناطوں سبھی رشتوں کو مرے عمر بھر کا وہی اب قرض چکانے بیٹھا اس کے تلخاب سے کب پیاس مری بجھ پائی گھر سمندر کے کنارے ہی بسانے بیٹھا جسم کے بخیے جو ادھڑے تو ادھڑتے ہی رہے جامہ ریشم کا پہنے کو سلانے بیٹھا لوگ تھے گرد الاؤ کے مگر میں نیرؔ جسم کی آگ کو پانی سے بجھانے بیٹھا
main mahal ret ke sahraa mein banaane baiThaa
حیران ہوں کہ آج یہ کیا حادثہ ہوا ہے آگ سرد دل بھی ہے میرا بجھا ہوا منزل پہ پہلے میری رسائی ہوئی تو پھر ہر نقش پا سے آگے مرا نقش پا ہوا ریکھائیں ہاتھ کی تو سوا جاگتی رہیں اے کاش میرا بخت رہے جاگتا ہوا تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا نیرؔ کہانی یاد ہے پریوں کے دیش کی میں اس طلسم سے نہ ابھی تک رہا ہوا
hairaan huun ki aaj ye kyaa haadisa huaa
ہر ایک راہ میں امکان حادثہ ہے ابھی کہ کھو نہ جاؤں اندھیرے میں سوچنا ہے ابھی تمام عمر وہ چلتا رہا ہے صحرا میں گھنے درخت کے سائے میں جو کھڑا ہے ابھی سکون تیرے تصور سے جس کو ملتا ہے وہ تیری دید کو لیکن تڑپ رہا ہے ابھی ہر ایک شخص کے چہرے پہ خوف طاری ہے نہ جانے کون اندھیرے میں چیختا ہے ابھی وہ کھو گیا ہے کہیں بھیڑ میں تو کیا کیجئے جو دکھ ہے اس کے نہ ملنے کا وہ جدا ہے ابھی ٹھہر گئے ہو سر راہ کس لئے آخر چلے بھی جاؤ کہ کوئی بلا رہا ہے ابھی دریچہ کھول کے نیرؔ نہ دیکھیے باہر لہولہان مناظر کا سلسلہ ہے ابھی
har ek raah mein imkaan-e-haadisa hai abhi





