SHAWORDS
Azhar Sajjad

Azhar Sajjad

Azhar Sajjad

Azhar Sajjad

poet
3Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

بول نہ اے مرے بھگوان نہیں ہو سکتا راستہ زیست کا آسان نہیں ہو سکتا جس نے لوٹا ہو غریبوں کو مسیحا بن کر کچھ بھی ہو چاہے وہ انسان نہیں ہو سکتا حاکم شہر کے ہر داؤں سے واقف ہوا میں اب کسی داؤں پہ حیران نہیں ہو سکتا پڑھ کے تم ناد علی وار کرو دشمن پر وار بے کار ہو امکان نہیں ہو سکتا لاکھ تو شعر کہے لاکھ کتابیں چھاپے تو کبھی صاحب دیوان نہیں ہو سکتا

bol na ai mire bhagvaan nahin ho saktaa

غزل · Ghazal

کیا کروں ملتی نہیں مجھ سے طبیعت اس کی لاکھ انکار ہو رہتی ہے ضرورت اس کی آخرش مجھ سے وہ ملنے کے لئے راضی ہوا الغرض ہو ہی گئی مجھ پہ عنایت اس کی تم تو آزاد ہو جو کچھ تمہیں کہنا ہے کہو یار میں کر نہیں سکتا ہوں مذمت اس کی دل کو توڑا مجھے برباد کیا چھوڑ دیا ہائے اظہرؔ میں کروں کس سے شکایت اس کی

kyaa karun milti nahin mujh se tabiat us ki

غزل · Ghazal

اختلافات میں بیمار نظر آتے ہیں مجھ کو یہ سارے ہی بیزار نظر آتے ہیں جتنے جاہل ہیں نکمے ہیں اچکے ہیں یہاں وہی حاکم کے طرف دار نظر آتے ہیں حکم زردار یہ ہے ان کو نظر بند کرو امن کے جو بھی طرف دار نظر آتے ہیں آنسوؤں کی تو ان آنکھوں میں کچھ اوقات نہیں گرچہ آتے ہیں تو بے کار نظر آتے ہیں سارے رنگوں کے گلوں سے ہے چمن کی زینت یہ چمن جو ابھی گلزار نظر آتے ہیں اب جو لکھ دی ہے حقیقت تو ہم اظہرؔ سب کو ہیں تو شاعر پر اداکار نظر آتے ہیں

ikhtilaafaat mein bimaar nazar aate hain

غزل · Ghazal

آؤ اک بار رقص کرتے ہیں ہو کے بیزار رقص کرتے ہیں تیری یادوں کی تک دھنا دھن پر ہم کئی بار رقص کرتے ہیں چھ دنوں کے تھکے ہوئے نوکر پاکے اتوار رقص کرتے ہیں زندگی ایک فلم ہے جس میں سارے کردار رقص کرتے ہیں دیکھ کر مفلسی غریبوں کی اپنے سردار رقص کرتے ہیں بیٹھے بیٹھے یہی خیال آیا کر لیا پیار رقص کرتے ہیں بیعت ظلم کے جواب میں ہم کر کے انکار رقص کرتے ہیں اپنے روضے پے دیکھ لے خواجہ تیرے زوار رقص کرتے ہیں کیا غزل کہہ دی آج اظہرؔ نے سارے اشعار رقص کرتے ہیں

aao ik baar raqs karte hain

غزل · Ghazal

شاید کے کرے وصل ہی بھرپائی ہماری تنہائی ہوئی جاتی ہے شیدائی ہماری ہر گام ہوئی اس لیے رسوائی ہماری بوجہل کیا کرتا تھا اگوائی ہماری یہ ہم کو بزرگوں سے وراثت میں ملی ہے تم کو نظر آتی ہے جو اچھائی ہماری اے جان سخن تو جو مخاطب نہ ہوا تو ڈر ہے کے چلی جائے نہ گویائی ہماری کلکاریاں بچوں کی بزرگوں کی وہ پھٹکار کیا خوب سجی رہتی تھی انگنائی ہماری کل تک تو ہمیں یاد بھی کرنے سے تھا پرہیز اب کس لیے کرتے ہو پذیرائی ہماری

shaayad ke kare vasl hi bharpaai hamaari

غزل · Ghazal

کہانی تو معمائی نہیں ہے تجھے شاید سمجھ آئی نہیں ہے تکے جاتا ہوں اب بھی تیرا رستہ بھلے آنکھوں میں بینائی نہیں ہے ابھی پیسے اکٹھے کر رہا ہوں ابھی تصویر بنوائی نہیں ہے ابھی سے مطمئن ہونا برا ہے ابھی منزل نظر آئی نہیں ہے غزل کہنے کو آمادہ ہیں لیکن ابھی تصویر بن پائی نہیں ہے بروز عید اس کے گھر ہے فاقہ قبا میں نے بھی سلوائی نہیں ہے ابھی اس واسطے خاموش ہوں میں ابھی عزت پہ بن آئی نہیں ہے رہ الفت سے تم گھبرا رہے ہو یہ شوق آبلہ پائی نہیں ہے ہیں کس وہم و گماں میں آپ اظہرؔ محبت الف لیلائی نہیں ہے

kahaani to mu'ammaai nahin hai

Similar Poets