SHAWORDS
Aziz Warsi

Aziz Warsi

Aziz Warsi

Aziz Warsi

poet
13Shayari
39Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

ہر جگہ آپ نے ممتاز بنایا ہے مجھے واقعی قابل اعزاز بنایا ہے مجھے جس پہ مر مٹنے کی ہر ایک قسم کھاتا ہے وہی شوخی وہی انداز بنایا ہے مجھے واقعی واقف ادراک دو عالم تم ہو تم نے ہی واقف ہر راز بنایا ہے مجھے جس فسانے کا ابھی تک کوئی انجام نہیں اس فسانے کا ہی آغاز بنایا ہے مجھے کبھی نغمہ ہوں کبھی دھن ہوں کبھی لے ہوں عزیزؔ آپ نے کتنا حسیں ساز بنایا ہے مجھے

har jagah aap ne mumtaaz banaayaa hai mujhe

غزل · Ghazal

یہ انکشاف چمن میں ہوا بہار کے بعد اک اور دور بھی ہے دور خوش گوار کے بعد رہا تو ہوں میں نشیمن میں مدتوں لیکن کبھی بہار سے پہلے کبھی بہار کے بعد دل حزیں کو شب غم بہت فریب دیے نہ آئی نیند مگر تیرے انتظار کے بعد جمال غنچہ و گل پر نگاہ کون کرے جمال غنچہ و گل ہے جمال یار کے بعد بہار میں جو مجھے رند کہہ رہے ہیں عزیزؔ وہ پارسا بھی کہیں گے مجھے بہار کے بعد

ye inkishaaf chaman mein huaa bahaar ke baad

غزل · Ghazal

عشق شعلہ نہ حسن شبنم ہے سب طلسم سرشت آدم ہے اب یہ مایوسیوں کا عالم ہے فرط راحت بھی شدت غم ہے آج اس کور دل زمانے میں کون تیری ادا کا محرم ہے کیوں کرے وہ مسرتوں کی تلاش جس کی فطرت ہی خوگر غم ہے اک قیامت ہے تیرا ہر انداز ہر ادا فتنۂ مجسم ہے آنکھ بدلی ہوئی ہے دنیا کی جب سے تیری نگاہ برہم ہے میرے ہی دم سے تیری محفل کا جو بھی ذرہ ہے جان عالم ہے اپنی تقدیر کی شکایت کیا آپ کا التفات ہی کم ہے اپنا سرمایۂ حیات عزیزؔ دامن تر ہے چشم پر نم ہے

'ishq sho'la na husn shabnam hai

غزل · Ghazal

اسے کیوں سحر سے نشاط ہو اسے کیا ملال ہو شام سے جسے عشق ہے ترے ذکر سے جسے انس ہے ترے نام سے وہ تمہارے طور و طریق تھے کہ ہزار رنگ بدل لئے یہ ہمارے دل کا شعور ہے نہ ہٹے ہم اپنے مقام سے مری آرزو کے چراغ پر کوئی تبصرہ بھی کرے تو کیا کبھی جل اٹھا سر شام سے کبھی بجھ گیا سر شام سے جو حیات عشق سنور گئی تو حیات حسن نکھر گئی کبھی تیرے حسن خرام سے کبھی میرے سوز دوام سے جو عزیز وارثیؔ تھا کبھی وہ عزیز وارثیؔ اب نہیں نہ جنون عشق بتاں ہے اب نہ غرض ہے بادہ و جام سے

use kyuun sahar se nashaat ho use kyaa malaal ho shaam se

غزل · Ghazal

جلوۂ دوست کسی وقت بھی روپوش نہیں ہائے محرومیٔ قسمت کہ ہمیں ہوش نہیں آپ احسان کے انداز تو سیکھیں پہلے فطرت عشق بھی احسان فراموش نہیں صرف وہ لوگ ہی دیوانہ سمجھتے ہیں مجھے آج اس دور میں اپنا بھی جنہیں ہوش نہیں وہ مری بادہ پرستی کو ابھی کیا جانے جو مری طرح ابھی میکدہ بر دوش نہیں جام اٹھاتا ہوں ترے حکم سے محفل میں مدام میں بلانوش نہیں ہوں میں بلانوش نہیں ساقیٔ بزم تری مست نگاہوں کا اثر دل پہ کس وقت ہوا تھا یہ مجھے ہوش نہیں وہ بھی کہتے ہیں مجھے میں جنہیں کہتا ہوں عزیزؔ ہوش اب ان کو نہیں ہے کہ مجھے ہوش نہیں

jalva-e-dost kisi vaqt bhi ru-posh nahin

غزل · Ghazal

میں اگر صورت پروانہ فدا ہو جاتا ان کو اندازۂ آئین وفا ہو جاتا اپنی قدرت سے لیا کام الٰہی تو نے ورنہ اس دور کا ہر شخص خدا ہو جاتا ہم نے تقدیر کے مفہوم کو سمجھا ورنہ ہم کو بھی شکوۂ ارباب جفا ہو جاتا تم اگر دیکھنے والے کو نظر آ جاتے حشر سے پہلے ہی اک حشر بپا ہو جاتا اپنے گلشن کو وہ دوزخ نہ سمجھتا شاید ایک گوشہ بھی جو فردوس نما ہو جاتا تو نے پہچان لیا عشق کی قدروں کا مزاج یہ نہ پوچھ آج تری بزم میں کیا ہو جاتا اپنی غیرت سے بچائے رہا اپنے کو عزیزؔ ورنہ احباب کے ہاتھوں ہی فنا ہو جاتا

main agar surat-e-parvaana fidaa ho jaataa

Similar Poets