SHAWORDS
Badr Muneer

Badr Muneer

Badr Muneer

Badr Muneer

poet
60Shayari
32Ghazal

Popular Shayari

60 total

Ghazalغزل

See all 32
غزل · Ghazal

نیند اڑنے کا سبب اور چین کھونے کا جواز پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے عشق ہونے کا جواز لڑ رہا ہوں میں اکیلا کارزار ہستی میں کر فراہم تو بھی ظالم اپنے ہونے کا جواز ڈھونڈتے ہیں لوگ کیسے حرف تند و تیز سے دوسروں کی روح میں کانٹے چبھونے کا جواز یہ ضروری تو نہیں ہم بھی فراہم کر سکیں بیٹھے بیٹھے اپنے دامن کو بھگونے کا جواز ساحلوں پر عافیت معدوم ہو جانے کے بعد اور کیا ہوگا بھلا کشتی ڈبونے کا جواز ضبط کے بندھن کو جس نے توڑ ڈالا ہے منیرؔ پوچھتا ہے دوسروں سے میرے رونے کا جواز

niind uDne kaa sabab aur chain khone kaa javaaz

غزل · Ghazal

آگ جلتی ہے خار و خس سے پرے کوئی بیٹھا ہے دسترس سے پرے کاش ایسا کبھی تو ممکن ہو اس کو لے جائیں پیش و پس سے پرے قید ایسی ہے کچھ نہیں کھلتا ہم قفس میں ہیں یا قفس سے پرے عمر میں کس طرح شمار کریں وقت گزرا جو ہم نفس سے پرے الجھنیں دل کی ہو گئیں معدوم جا کے دیکھا جو داد رس سے پرے اس کی قربت میں رہ کے بدر منیرؔ عشق رہتا ہے ہر ہوس سے پرے

aag jalti hai khaar-o-khas se pare

غزل · Ghazal

بوڑھے کمزور والدین کے ساتھ جی رہا ہوں میں کتنے چین کے ساتھ سر کٹانے کی رسم صدیوں سے جڑ گئی ہے مرے حسین کے ساتھ پیار دے گا بھلا وہ کیا ہم کو جو ستم کر رہا ہے دین کے ساتھ اب چکا چوند میں نہیں ملتی روشنی تھی جو لالٹین کے ساتھ

buDhe kamzor vaaldain ke saath

غزل · Ghazal

خیال اپنا ادھر لگا کے پڑا ہوں اب دل کو ڈر لگا کے وہ آپ روپوش ہو گیا ہے ہمارے ذمے سفر لگا کے کلام ہم سے کرے گا لیکن اگر لگا کے مگر لگا کے کسی کے بارے میں سوچتا ہے کسی کے سینے سے سر لگا کے ہوئے ہیں سپنے عزیز جب سے اڑی مری نیند پر لگا کے منیرؔ رخ پر شکست دل کی میں پھر رہا ہوں خبر لگا کے

khayaal apnaa udhar lagaa ke

غزل · Ghazal

پڑ جاتے ہیں کتنے چھالے ہاتھوں میں آتے ہیں پھر چند نوالے ہاتھوں میں یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کیا لکھا ہے مہندی والے ہاتھوں میں کچھ تو اپنی خاطر کرنا پڑتا ہے پتھر ہوں جب دیکھے بھالے ہاتھوں میں ہم بھی اپنی کوشش کا آغاز کریں ہاتھ کوئی تو آ کر ڈالے ہاتھوں میں اور نہیں تو بس اک روشن سی امید ایسا کچھ اسباب اٹھا لے ہاتھوں میں

paD jaate hain kitne chhaale haathon mein

غزل · Ghazal

تری آنکھوں سے میں خود پر عیاں ہونے لگا تھا مجھے بھی اپنے ہونے کا گماں ہونے لگا تھا میں اپنی ذات کا صحرا جو تیرے پاس لایا مرے اندر بھی بارش کا سماں ہونے لگا تھا عطا مجھ کو ہوئی صد شکر تھوڑی سی اداسی وگرنہ مفت میں جی کا زیاں ہونے لگا تھا کہاں جاتے مری آنکھوں سے یہ آنسو نکل کر دریدہ دامنی کا امتحاں ہونے لگا تھا سراپا گوش ہو کر جو مجھے سنتا تھا پہروں مرا لہجہ بھی اب اس پر گراں ہونے لگا تھا جدائی کی گھڑی سے پیشتر سے رنگ موسم پھر اس کے بعد ہر منظر دھواں ہونے لگا تھا

tiri aankhon se main khud par ayaan hone lagaa thaa

Similar Poets