aagahi karb vafaa sabr tamannaa ehsaas
mere hi siine mein utre hain ye khanjar saare

Bashir Farooqi
Bashir Farooqi
Bashir Farooqi
Popular Shayari
6 totalchale bhi aao ki ye Dubtaa huaa suraj
charaagh jalne se pahle mujhe bujhaa degaa
ajab si aag thi jaltaa rahaa badan saaraa
tamaam umr vo honTon pe ban ke pyaas rahaa
ham tere paas aa ke pareshaan hain bahut
ham tujh se duur rahne ko tayyaar bhi nahin
tazkire mein tire ik naam ko yuun joD diyaa
doston ne mujhe shishe ki tarah toD diyaa
pahle ham ne ghar banaa kar faasle paidaa kiye
phir uThaa diin aur divaarein gharon ke darmiyaan
Ghazalغزل
مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا وہ جسم پھول ہے لیکن مجھے جلا دے گا تمہارے مہرباں ہاتھوں کو میرے شانے سے مجھے گماں بھی نہ تھا وقت یوں ہٹا دے گا ہے اور کون مرے گھر میں یہ سوال نہ کر مرا جواب ترا رنگ رخ اڑا دے گا چلے بھی آؤ کہ یہ ڈوبتا ہوا سورج چراغ جلنے سے پہلے مجھے بجھا دے گا کھڑے ہوئے ہیں یہاں تو بلند ہمت لوگ تھکے ہوؤں کو بھلا کون راستہ دے گا دروں کو بند کرو ورنہ آندھیوں کا یہ زور تمہارے کچے گھروں کی چھتیں اڑا دے گا جہاں سب اپنے ہی دامن کو دیکھتے ہوں بشیرؔ اس انجمن میں بھلا کون کس کو کیا دے گا
mire badan mein chhupi aag ko havaa degaa
یوںہی ملتے رہیں ہم تم کوئی وعدہ نہ کریں ہم کو جینا ہے تو خوابوں پہ بھروسا نہ کریں میں بھی اس دور کا انساں ہوں فرشتہ تو نہیں آپ اس طرح مری آنکھوں سے الجھا نہ کریں پھر ادھر جائیں اسی شخص کو دیکھیں دکھ ہو اس سے بہتر ہے کہ اس راہ سے گزرا نہ کریں کون جانے کہ مجھے کب کہاں جانا ہوگا گردشوں سے یہ بتا دو مرا پیچھا نہ کریں کچھ خیالات لٹیرے بھی ہوا کرتے ہیں دل کے دروازے کھلے چھوڑ کے سویا نہ کریں اب یہ انداز بیاں کوئی نہ سمجھے گا بشیرؔ غالبؔ و میرؔ کے انداز میں سوچا نہ کریں
yunhi milte rahein ham tum koi vaa'da na karein
دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے عمر بھر آگ میں جلتے رہے شانے میرے میں ترے نام کا عامل ہوں وہ اب جان گئے حادثے اب نہیں ڈھونڈھیں گے ٹھکانے میرے چاند سی ان کی وہ خوش رنگ قبا وہ دستار ان کی درویشی پہ قربان خزانے میرے موج رنگ آئی کچھ اس طور کہ دل جھوم اٹھا ہوش گم کر دئے سرمست حنا نے میرے پھر کوئی لمس مرے جسم میں شعلے بھر دے پھر سے یوں ہو کہ پلٹ آئیں زمانے میرے جا تجھے چھوڑ دیا اے غم دوراں میں نے ورنہ خالی نہیں جاتے ہیں نشانے میرے ایسا لگتا تھا کہ لوٹ آئے ہیں گزرے ہوئے دن مل گئے تھے مجھے کچھ دوست پرانے میرے زندگی دیکھ لی میں نے تری دنیا کہ جہاں وقت نے چھین لئے خواب سہانے میرے اب میں ساحل پہ نہیں میں ہوں تہہ آب رواں شہر در شہر ہیں ہونٹوں پہ فسانے میرے گر پڑا سیل حوادث مرے قدموں پہ بشیرؔ ہاتھ تھامے جو بزرگوں کی دعا نے میرے
dhuup rakh di thi muqaddar ne sirhaane mere
کر گیا میرے دل و جاں کو معطر کوئی چھو کے اس طرح سے گزرا مجھے اکثر کوئی جتنی نظریں تھیں اسی شخص میں الجھی ہوئی تھیں جا رہا تھا سر بازار سنبھل کر کوئی کون سا حادثہ گزرا نہیں اس پر اس بار اور وہ ہے کہ شکایت نہیں لب پر کوئی دل کو دل ان کی نگاہوں نے بنایا ورنہ ایسا بے درد تھا دل جیسے کہ پتھر کوئی چاند تاروں پہ نظر ٹھہرے تو یوں لگتا ہے تیرے جیسا ہے پس پردۂ منظر کوئی وقت ٹھہرا ہوا لگتا تھا سر رہ گزر اس طرح دیکھ رہا تھا مجھے مڑ کر کوئی حسن شیریں میں بھی تھا حسن تو عذرا میں بھی تھا نہ ہوا میرے طرحدار کا ہمسر کوئی آئنہ اپنے مقدر پہ نہ کیوں ناز کرے مڑ کے اک بار اسے دیکھے جو سنور کر کوئی کتنے طوفان چھپے ہیں تہہ ہر موج بشیرؔ آج کا دور ہے یا جیسے سمندر کوئی
kar gayaa mere dil-o-jaan ko moattar koi
اب کے جنوں میں لذت آزار بھی نہیں زخم جگر میں سرخئ رخسار بھی نہیں ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں یہ حکم ہے کہ سونپ دو نظم چمن انہیں نظم چمن سے جن کو سروکار بھی نہیں توڑا ہے اس نے دل کو مرے کتنے حسن سے آواز بھی نہیں کوئی جھنکار بھی نہیں ہم پارسا ہیں پھر بھی ترے دست ناز سے مل جائے کوئی جام تو انکار بھی نہیں ٹھہرے اگر تو دور نکل جائے گی حیات چلتے رہو کہ فرصت دیدار بھی نہیں جشن بہار دیکھنے والوں کو دیکھیے دامن میں جن کے پھول تو کیا خار بھی نہیں
ab ke junun mein lazzat-e-aazaar bhi nahin
یوں تو جہاں پناہ کے مداح کم نہ تھے اچھا ہوا ضمیر فروشوں میں ہم نہ تھے جو رنج میر شہر کو پہنچا وہ رنج تھا جو غم کسی غریب نے جھیلے وہ غم نہ تھے آواز دے رہی تھیں انہیں منزلیں مگر وہ کیا قدم بڑھاتے جو ثابت قدم نہ تھے اک دور وہ تھا جب تہ تیغ اثر تھے ہم یوں ہاتھ میں قلم تھے کہ جیسے قلم نہ تھے اپنی حدوں میں اپنا اجالا رہا کہ ہم دہلیز کا دیا تھے چراغ حرم نہ تھے فکر جہاں نے توڑ دیا ورنہ اے بشیرؔ آئینہ ساز ہم بھی زمانے میں کم نہ تھے
yuun to jahaan-panaah ke maddaah kam na the





