miraa dil bhi tilismi hai khazaana
ki is mein khair bhi hai aur shar band
Bashiruddin Ahmad Dehlvi
Bashiruddin Ahmad Dehlvi
Bashiruddin Ahmad Dehlvi
Popular Shayari
12 totalcharaagh us ne bujhaa bhi diyaa jalaa bhi diyaa
ye meri qabr pe manzar nayaa dikhaa bhi diyaa
bandhan saa ik bandhaa thaa rag-o-pai se jism mein
marne ke baa'd haath se moti bikhar gae
zor se saans jo letaa huun to akasr shab-e-gham
dil ki aavaaz ajab dard bhari aati hai
kabhi dar par kabhi hai raste mein
nahin thakti hai intizaar se aankh
vo apne matlab ki kah rahe hain zabaan par go hai baat meri
hai chit bhi un ki hai paT bhi un ki hai jiit un ki hai maat meri
ye un kaa khel to dekho ki ek kaaghaz par
likhaa bhi naam miraa aur phir miTaa bhi diyaa
ahd ke saath ye bhi ho irshaad
kis tarah aur kab mileinge aap
shaam bhi hai subh bhi hai aur din bhi raat bhi
maah-e-taabaan ab bhi hai mahr-e-darakhshaan ab bhi hai
rihaai jiite ji mumkin nahin hai
qafas hai aahani dar-band par band
ye chheD kyaa hai ye kyaa mujh se dil-lagi hai koi
jagaayaa niind se jaagaa to phir sulaa bhi diyaa
kahte hain arz-e-vasl par vo kaho
dusri baat dusraa matlab
Ghazalغزل
کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہے نکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہے شوق سے ظلم کرو شوق سے دو تم آزار یہ سمجھ لو مجھے بھی نوحہ گری آتی ہے کوئی کہتا ہے کہ آتا ہے دکھانا دل کا کوئی کہتا ہے تمہیں چارہ گری آتی ہے درد الفت کو بڑھا کر وہ گھٹا دیتے ہیں چاک دل کیوں نہ کریں بخیہ گری آتی ہے جھوٹ سے مجھ کو نہ مطلب نہ بناوٹ سے کام بات جو آتی ہے منہ پر وہ کھری آتی ہے زور سے سانس جو لیتا ہوں تو اکثر شب غم دل کی آواز عجب درد بھری آتی ہے دست وحشت کا مرے شغل وہ کیا پوچھتے ہیں کچھ نہیں آتا فقط جامہ دری آتی ہے کام کرنے کے سلیقے سے ہم آگاہ نہیں اور کیا آتا ہے بس بے ہنری آتی ہے دل پژمردہ کھلا جاتا ہے کیوں آج بشیرؔ آ گئی ہے کوئی یا خوش خبری آتی ہے
kaun kahtaa hai nasim-e-sahari aati hai
ہے دنیا میں زباں میری اگر بند مگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بند جو سب نامہ کیا آتا ہے دیکھیں لکھا نامہ دیا قاصد کو سر بند خدا جانے ہے اس میں مصلحت کیا کھلی ہے راہ لیکن ہے خبر بند رہائی جیتے جی ممکن نہیں ہے قفس ہے آہنی دربند پر بند کہیں بھی اب نہیں میرا ٹھکانا کہ اک اک گھر ہے بند ایک ایک در بند نہ کیوں تکلیف ہو ارماں کو دل میں کہاں جائے کدھر جائے ہے گھر بند مجھے آتا نہیں کیا کام کرنا مگر باب دعا بند اور اثر بند کہیں بھولے سے کوئی آ تو جائے ہم اپنے دل میں رکھیں گے نظر بند دعا یہ ہے کہ یارب مطمئن ہوں ہو الفت میں کسی صورت سے شر بند وہ رازق رزق پہنچاتا ہے سب کو کھلیں ستر اگر ہو ایک در بند برادر قوت بازو ہے مانا مگر فرزند ہوتا ہے جگر بند مرا دل بھی طلسمی ہے خزانہ کہ اس میں خیر بھی ہے اور شر بند بشیرؔ اچھی زباں پائی ہے تو نے تری درج دہن میں ہیں گہر بند
hai duniyaa mein zabaan meri agar band
چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیا یہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیا یہ چھیڑ کیا ہے یہ کیا مجھ سے دل لگی ہے کوئی جگایا نیند سے جاگا تو پھر سلا بھی دیا ادھر تھا لطف و کرم ان کا اس طرف تھا عتاب چراغ امید کا روشن کیا بجھا بھی دیا یہ شوخیاں نئی دیکھیں تمہاری چتون میں کہ پردہ رخ پہ لیا اور پھر اٹھا بھی دیا ادھر لگاؤ ادھر برہمی کے ہیں آثار مجھے پھنسا بھی لیا اور پھر چھڑا بھی دیا نکل گئے مری آنکھوں سے سیکڑوں آنسو خزانہ جمع کیا اور پھر لٹا بھی دیا نیا ہے حسن کے بازار کا اتار چڑھاؤ چڑھایا سر پہ نگاہوں سے پھر گرا بھی دیا ذرا تو پاس طلب عاشقوں کا تم کرتے بلایا پاس بھی پھر پاس سے ہٹا بھی دیا یہ ان کا کھیل تو دیکھو کہ ایک کاغذ پر لکھا بھی نام مرا اور پھر مٹا بھی دیا اگرچہ راہ محبت ہے تنگ و تار مگر اسی کے ساتھ ہمیں عقل کا دیا بھی دیا بشیرؔ سینگ کٹا کر ملے ہیں بچھڑوں میں بنے جوان بڑھاپے کا غم بھلا بھی دیا
charaagh us ne bujhaa bhi diyaa jalaa bhi diyaa
لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھ کاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھ کچھ محبت ہے کچھ مروت ہے آج پڑتی ہے مجھ پہ پیار سے آنکھ چلتے رہتے ہیں خوب تیر نگاہ باز آتی نہیں شکار سے آنکھ ٹکٹکی سے کہاں ملی فرصت آ گئی عاجز انتظار سے آنکھ کیا پڑی ہے بلا کو اس کی عرض کیوں ملائے امیدوار سے آنکھ کوئی تدبیر بن نہیں پڑتی کیا ملے چشم شرمسار سے آنکھ نیچی نظروں سے دیکھ لیتے ہیں کیا ملائیں وہ بے قرار سے آنکھ دید بازی کا جس کو لپکا ہے کب ٹھہرتی ہے اضطرار سے آنکھ نظروں نظروں میں باتیں ہوتی ہیں خوب ملتی ہے رازدار سے آنکھ کیوں یہ ملتی ہے بے وفاؤں سے کاش لڑتی وفا شعار سے آنکھ کبھی در پر کبھی ہے رستے میں نہیں تھکتی ہے انتظار سے آنکھ مرنے کے بعد بھی تھی شرم ان کو کہ چرائی مرے مزار سے آنکھ صبح محشر اٹھا نہیں جاتا اب بھی کھلتی نہیں خمار سے آنکھ دل غنی ہے مرا تو کیا پروا کب ملاتا ہوں مال دار سے آنکھ کیوں جھکاؤں نظر بشیرؔ اپنی کبھی جھپکی نہیں ہزار سے آنکھ
laD hi jaae kisi nigaar se aankh
ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے دل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہے کب سنبھالے سے سنبھلتا ہے دل پر اضطراب آہ سوزاں لب پر اب بھی سینہ بریاں اب بھی ہے سعی کوشش کے لیے میدان ہے اب بھی فراخ عزم راسخ کی ضرورت ہم کو ہاں ہاں اب بھی ہے تخم میں روئیدگی ہر نخل میں بالیدگی موسم سرما و گرما باد و باراں اب بھی ہے خلق میں موجود ہیں اب بھی وہی لعل و گہر تشنہ کامیٔ صدف کو ابر نیساں اب بھی ہے شام بھی ہے صبح بھی ہے اور دن بھی رات بھی ماہ تاباں اب بھی ہے مہر درخشاں اب بھی ہے عاشق و معشوق بھی ہیں وصل و ہجر و رشک بھی مہر الفت تیغ و خنجر تیر پیکاں اب بھی ہے ہے وہی دیوانگی اب بھی وہی شوریدگی جیب و دامن ہدیۂ خار بیاباں اب بھی ہے شوق و ذوق اب بھی ہے باقی مردہ دل ہم ہیں تو ہیں اپنے دل کو حسرت سیر گلستاں اب بھی ہے عشق کی صورت جو بدلے تو ہو عاشق بھی کچھ اور یہ جفا و جور کا ہر وقت خواہاں اب بھی ہے آ گئی پیری مگر اب تک ہے تو محو خیال ہم سبق طفلوں کا تو طفل دبستاں اب بھی ہے گرمئ محفل وہی ہے جمع ہیں احباب بھی ہستیٔ پروانہ و شمع شبستاں اب بھی ہے غیرممکن ہے بدل جائے کبھی قانون حق حکم یزداں اب بھی ہے اجرائے فرماں اب بھی ہے کیوں مسلمانوں نے بدلا حال اپنی قوم کا تھا جو قرآں بس وہی موجود قرآں اب بھی ہے قشقہ بالائے جبیں زنار ہے بالائے دوش یہ بتا ایمان سے کیا تو مسلماں اب بھی ہے اتقا و زہد سے دل بستگی باقی نہیں دعویٰ اسلام جیسا پہلے تھا ہاں اب بھی ہے کھو دیئے ایام پیری نے تیرے ہوش و حواس اے بشیرؔ بے نوا کچھ دل میں ارماں اب بھی ہے
zauq-e-ulfat ab bhi hai raahat kaa armaan ab bhi hai
پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلب اب نکل جائے گا مرا مطلب اس پہ ظاہر ہوا مرا مطلب کاش پورا کرے خدا مطلب کہہ دیا ان سے برملا مطلب اب خدا چاہے تو ہوا مطلب بات پوری ابھی نہیں نکلی منہ سے تم لے اڑے مرا مطلب کہتے ہیں عرض وصل پر وہ کہو دوسری بات دوسرا مطلب ہے یہ مطلب نہ کچھ زباں سے کہوں میں سمجھتا ہوں آپ کا مطلب جو تمنا ہے تم پہ ظاہر ہے ہر گھڑی پوچھنے سے کیا مطلب دل میں جو کچھ تھا ان سے کہہ نہ سکا لب پہ آ آ کے رہ گیا مطلب مدعا ہے وہی جو پہلے تھا اور میں کیا کہوں نیا مطلب روبرو ان کے بات کر نہ سکا خط میں آخر کو لکھ دیا مطلب بات کیا ہے وہ مجھ سے پوچھتے ہیں واقعہ قصہ ماجرا مطلب واسطہ غیر کا نہیں اچھا خوب بنتا ہے برملا مطلب تم جو مل جاؤ کام بن جائے اور اس کے سوا ہی کیا مطلب آج خوش خوش بشیرؔ پھرتے ہیں نکلا ارمان مدعا مطلب
puchhte hain vo ishq kaa matlab





