"but-e-kafir jo tu mujh se khafa ho nahin kuchh khauf mera bhi khuda hai"

Bhartendu Harishchandra
Bhartendu Harishchandra
Bhartendu Harishchandra
Sherشعر
See all 20 →but-e-kafir jo tu mujh se khafa ho
بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہو نہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہے
aa jaa.e na dil aap ka bhi aur kisi par
آ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر دیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا
gulabi gaal par kuchh rang mujh ko bhi jamane do
گلابی گال پر کچھ رنگ مجھ کو بھی جمانے دو منانے دو مجھے بھی جان من تیوہار ہولی میں
na bosa lene dete hain na lagte hain gale mere
نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے ابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں
ye chaar din ke tamashe hain aah duniya ke
یہ چار دن کے تماشے ہیں آہ دنیا کے رہا جہاں میں سکندر نہ اور نہ جم باقی
mar ga.e ham par na aa.e tum khabar ko ai sanam
مر گئے ہم پر نہ آئے تم خبر کو اے صنم حوصلہ اب دل کا دل ہی میں مری جاں رہ گیا
Popular Sher & Shayari
40 total"aa jaa.e na dil aap ka bhi aur kisi par dekho miri jaan aankh laDana nahin achchha"
"gulabi gaal par kuchh rang mujh ko bhi jamane do manane do mujhe bhi jan-e-man tyauhar holi men"
"na bosa lene dete hain na lagte hain gale mere abhi kam-umr hain har baat par mujh se jhijakte hain"
"ye chaar din ke tamashe hain aah duniya ke raha jahan men sikandar na aur na jam baaqi"
"mar ga.e ham par na aa.e tum khabar ko ai sanam hausla ab dil ka dil hi men miri jaan rah gaya"
aa jaae na dil aap kaa bhi aur kisi par
dekho miri jaan aankh laDaanaa nahin achchhaa
gulaabi gaal par kuchh rang mujh ko bhi jamaane do
manaane do mujhe bhi jaan-e-man tyauhaar holi mein
jahaan dekho vahaan maujud meraa kirshn pyaaraa hai
usi kaa sab hai jalva jo jahaan mein aashkaaraa hai
rukh-e-raushan pe us ki gesu-e-shab-gun laTakte hain
qayaamat hai musaafir raasta din ko bhaTakte hain
kisi pahlu nahin chain aataa hai ushshaaq ko tere
taDapte hain fughaan karte hain aur karvaT badalte hain
qabr mein raahat se soe the na thaa mahshar kaa khauf
baaz aae ai masihaa ham tire eajaaz se
Ghazalغزل
but-e-kaafir jo tu mujh se khafaa ho
بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہو نہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہے یہ در پردہ ستاروں کی صدا ہے گلی کوچہ میں گر کہیے بجا ہے رقیبوں میں وہ ہوں گے سرخ رو آج ہمارے قتل کا بیڑا لیا ہے یہی ہے تار اس مطرب کا ہر روز نیا اک راگ لا کر چھیڑتا ہے شنیدہ کے بود مانند دید تجھے دیکھا ہے حوروں کو سنا ہے پہنچتا ہوں جو میں ہر روز جا کر تو کہتے ہیں غضب تو بھی رساؔ ہے
fasaad-e-duniyaa miTaa chuke hain husul-e-hasti miTaa chuke hain
فساد دنیا مٹا چکے ہیں حصول ہستی مٹا چکے ہیں خدائی اپنے میں پا چکے ہیں مجھے گلے یہ لگا چکے ہیں نہیں نزاکت سے ہم میں طاقت اٹھائیں جو ناز حور جنت کہ ناز شمشیر پر نزاکت ہم اپنے سر پر اٹھا چکے ہیں نجات ہو یا سزا ہو میری ملے جہنم کہ پاؤں جنت ہم اب تو ان کے قدم پہ اپنا گنہ بھرا سر جھکا چکے ہیں نہیں زباں میں ہے اتنی طاقت جو شکر لائیں بجا ہم ان کا کہ دام ہستی سے مجھ کو اپنے اک ہاتھ میں وہ چھڑا چکے ہیں وجود سے ہم عدم میں آ کر مکیں ہوئے لا مکاں کے جا کر ہم اپنے کو ان کی تیغ کھا کر مٹا مٹا کر بنا چکے ہیں یہی ہیں ادنیٰ سی اک ادا سے جنہوں نے برہم ہے کہ خدائی یہی ہیں اکثر قضا کے جن سے فرشتے بھی زک اٹھا چکے ہیں یہ کہہ دو بس موت سے ہو رخصت کیوں ناحق آئی ہے اس کی شامت کہ در تلک وہ مسیح خصلت مری عیادت کو آ چکے ہیں جو بات مانے تو عین شفقت نہ مانے تو عین حسن خوبی رساؔ بھلا ہم کو دخل کیا اب ہم اپنی حالت سنا چکے ہیں
baal bikhere aaj pari turbat par mere aaegi
بال بکھیرے آج پری تربت پر میرے آئے گی موت بھی میری ایک تماشہ عالم کو دکھلائے گی محو ادا ہو جاؤں گا گر وصل میں وہ شرمائے گی بار خدایا دل کی حسرت کیسے پھر بر آئے گی کاہیدہ ایسا ہوں میں بھی ڈھونڈا کرے نہ پائے گی میری خاطر موت بھی میری برسوں سر ٹکرائے گی عشق بتاں میں جب دل الجھا دین کہاں اسلام کہاں واعظ کالی زلف کی الفت سب کو رام بنائے گی چنگا ہوگا جب نہ مریض کاکل شب گوں حضرت سے آپ کی الفت عیسیٰ کی اب عظمت آج مٹائے گی بہر عیادت بھی جو نہ آئیں گے نہ ہمارے بالیں پر برسوں میرے دل کی حسرت سر پر خاک اڑائے گی دیکھوں گا محراب حرم یاد آئے گی ابروئے صنم میرے جانے سے مسجد بھی بت خانہ بن جائے گی غافل اتنا حسن پہ غرہ دھیان کدھر ہے توبہ کر آخر اک دن صورت یہ سب مٹی میں مل جائے گی عارف جو ہیں ان کے ہیں بس رنج و راحت ایک رساؔ جیسے وہ گزری ہے یہ بھی کسی طرح نبھ جائے گی
dil miraa tir-e-sitamgar kaa nishaana ho gayaa
دل مرا تیر ستم گر کا نشانہ ہو گیا آفت جاں میرے حق میں دل لگانا ہو گیا ہو گیا لاغر جو اس لیلیٰ ادا کے عشق میں مثل مجنوں حال میرا بھی فسانہ ہو گیا خاکساری نے دکھایا بعد مردن بھی عروج آسماں تربت پر میرے شامیانہ ہو گیا خواب غفلت سے ذرا دیکھو تو کب چونکے ہیں ہم قافلہ ملک عدم کو جب روانہ ہو گیا فصل گل میں بھی رہائی کی نہ کچھ صورت ہوئی قید میں صیاد مجھ کو اک زمانہ ہو گیا دل جلایا صورت پروانہ جب سے عشق میں فرض تب سے شمع پر آنسو بہانہ ہو گیا آج تک اے دل جواب خط نہ بھیجا یار نے نامہ بر کو بھی گئے کتنا زمانہ ہو گیا پاس رسوائی سے دیکھو پاس آ سکتے نہیں رات آئی نیند کا تم کو بہانہ ہو گیا ہو پریشانی سر مو بھی نہ زلف یار کو اس لیے میرا دل صدچاک شانہ ہو گیا بعد مردن کون آتا ہے خبر کو اے رساؔ ختم بس کنج لحد تک دوستانہ ہو گیا
ghazab hai surma de kar aaj vo baahar nikalte hain
غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں ابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیں ذرا دیکھو تو اے اہل سخن زور صناعت کو نئی بندش ہے مجنوں نور کے سانچے میں ڈھلتے ہیں برا ہو عشق کا یہ حال ہے اب تیری فرقت میں کہ چشم خونچکاں سے لخت دل پیہم نکلتے ہیں ہلا دیں گے ابھی اے سنگ دل تیرے کلیجے کو ہماری آہ آتش بار سے پتھر پگھلتے ہیں ترا ابھرا ہوا سینہ جو ہم کو یاد آتا ہے تو اے رشک پری پہروں کف افسوس ملتے ہیں کسی پہلو نہیں چین آتا ہے عشاق کو تیرے تڑپتے ہیں فغاں کرتے ہیں اور کروٹ بدلتے ہیں رساؔ حاجت نہیں کچھ روشنی کی کنج مرقد میں بجائے شمع یاں داغ جگر ہر وقت جلتے ہیں
phir aai fasl-e-gul phir zakhm-e-dil rah rah ke pakte hain
پھر آئی فصل گل پھر زخم دل رہ رہ کے پکتے ہیں مگر داغ جگر پر صورت لالہ لہکتے ہیں نصیحت ہے عبث ناصح بیاں ناحق ہی بکتے ہیں جو بہکے دخت رز سے ہیں وہ کب ان سے بہکتے ہیں کوئی جا کر کہو یہ آخری پیغام اس بت سے ارے آ جا ابھی دم تن میں باقی ہے سسکتے ہیں نہ بوسہ لینے دیتے ہیں نہ لگتے ہیں گلے میرے ابھی کم عمر ہیں ہر بات پر مجھ سے جھجکتے ہیں وہ غیروں کو ادا سے قتل جب بے باک کرتے ہیں تو اس کی تیغ کو ہم آہ کس حیرت سے تکتے ہیں اڑا لائے ہو یہ طرز سخن کس سے بتاؤ تو دم تقدیر گویا باغ میں بلبل چہکتے ہیں رساؔ کی ہے تلاش یار میں یہ دشت پیمائی کہ مثل شیشہ میرے پاؤں کے چھالے جھلکتے ہیں





