khvaab kaa kyaa hai raat ke naqsh-o-nigaar banaao
raat ke naqsh-o-nigaar banaao khvaab kaa kyaa hai

Daniyal Tareer
Daniyal Tareer
Daniyal Tareer
Popular Shayari
7 totalshelf pe ulTaa kar ke rakh do aur bisraa do
gul-daanon mein phuul sajaao khvaab kaa kyaa hai
darinde saath rahnaa chaahte hain aadmi ke
ghanaa jangal makaanon tak pahunchnaa chaahtaa hai
ek be-chehra musaafir rang oDhe
dhund mein chalte hue dekhaa gayaa hai
khvaab jazira ban sakte the nahin bane
ham bhi qissa ban sakte the nahin bane
dekhnaa ye hai ki jangal ko chalaane ke liye
mashvara richh se aur chiil se hogaa ki nahin
aakhir jism bhi divaaron ko saunp gae
darvaazon mein aankhein dharne vaale log
Ghazalغزل
ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہے آنکھوں میں رکھ کر سو جاؤ خواب کا کیا ہے پاؤں تلے ہے روند کے گزرو کچل کے دیکھو پیچھے جاؤ آگے آؤ خواب کا کیا ہے شیلف پہ الٹا کر کے رکھ دو اور بسرا دو گل دانوں میں پھول سجاؤ خواب کا کیا ہے خواب کا کیا ہے رات کے نقش و نگار بناؤ رات کے نقش و نگار بناؤ خواب کا کیا ہے نیند ملی ہے گڑ سے میٹھی شہد سے شیریں گاؤ ناچو ناچو گاؤ خواب کا کیا ہے لا یعنی ہے سب لا یعنی یعنی یعنی اور کہانی لکھ کر لاؤ خواب کا کیا ہے ایک کباڑی گلیوں گلیوں واج لگائے راکھ خریدو آگ کے بھاؤ خواب کا کیا ہے
ek bujhaao ek jalaao khvaab kaa kyaa hai
کوئی سوائے بدن ہے نہ ہے ورائے بدن بدن میں گونج رہی ہے ابھی صدائے بدن عجب ہے شہر مگر شہر سے بھی لوگ عجب ادھار مانگ رہے ہیں بدن برائے بدن جہاں ٹھٹھرتی تمنا کو آگ تک نہ ملے وہاں پہ کون ٹھہرتا ہے اے سرائے بدن کہیں چمکتی ہوئی ریت بھی دکھائی نہ دی کہاں گیا وہ سمندر سراب کھائے بدن چراغ بن کے چمکتے ہیں روز شام ڈھلے ہمارے پہلو میں سوئے ہوئے پرائے بدن ہر ایک راہ میں بکھرے پڑے ہیں برگ نفس یہاں چلی ہے بہت دن تلک ہوائے بدن وہ اپنی قوس قزح لے گیا تو کیا ہوگا طریرؔ غور طلب ہے تری فضائے بدن
koi sivaa-e-badan hai na hai varaa-e-badan
خاموشی کی قرأت کرنے والے لوگ ابو جی اور سارے مرنے والے لوگ روشنیوں کے دھبے ان کے بیچ خلا اور خلاؤں سے ہم ڈرنے والے لوگ مٹی کے کوزے اور ان میں سانس کی لو رب رکھے یہ برتن بھرنے والے لوگ میرے چاروں جانب اونچی اونچی گھاس میرے چاروں جانب چرنے والے لوگ آخر جسم بھی دیواروں کو سونپ گئے دروازوں میں آنکھیں دھرنے والے لوگ
khaamoshi ki qirat karne vaale log
آگ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے آسماں گلتے ہوئے دیکھا گیا ہے ایک بے چہرہ مسافر رنگ اوڑھے دھند میں چلتے ہوئے دیکھا گیا ہے مٹھیاں بھر کر اسے تاریکیوں سے شکل پر ملتے ہوئے دیکھا گیا ہے گھر میں بھی ہوں اور مجھ کو دشت میں بھی دھوپ میں جلتے ہوئے دیکھا گیا ہے چودھویں کے چاند میں اس کا سراپا صبح دم ڈھلتے ہوئے دیکھا گیا ہے
aag mein jalte hue dekhaa gayaa hai
گیا کہ سیل رواں کا بہاؤ ایسا تھا وہ ایک خواب جو کاغذ کی ناؤ ایسا تھا کسی کو بھی نہ تھا آسان سانس کا لینا مری زمیں پہ ہوا کا دباؤ ایسا تھا لہو کی دھار سلامت رہی نہ سانس کا تار مجھے جو کاٹ گیا وہ کٹاؤ ایسا تھا وہ ٹمٹماتا تو اس کی ضیا بھی کم پڑتی کسی دیے سے لہو کا لگاؤ ایسا تھا وہ ایک تھا جو مجھے چار سو دکھائی دیا میں جنگ ہار گیا ہوں کہ داؤ ایسا تھا مجھے تو لاج کے اجلے لباس میں وہ بدن گلاب برف میں جیسے چھپاؤ ایسا تھا بنے ہیں ناگ مرے بن میں پیڑ جتنے تھے لگی ہے آگ صبا کا سبھاؤ ایسا تھا
gayaa ki sail-e-ravaan kaa bahaav aisaa thaa
خواب کاری وہی کمخواب وہی ہے کہ نہیں شعر کا حسن ابد تاب وہی ہے کہ نہیں کیا پری کو مجھے مچھلی میں بدلنا ہوگا دیکھنے کے لیے تالاب وہی ہے کہ نہیں میں جہاں آیا تھا پیڑوں کی تلاوت کرنے سامنے قریۂ شاداب وہی ہے کہ نہیں آنکھ کو نیند میں معلوم نہیں ہو سکتا رات وہ ہے کہ نہیں خواب وہی ہے کہ نہیں جس کو چھونے سے مرا جسم چمک اٹھے گا دیکھ یہ شیشۂ مہتاب وہی ہے کہ نہیں یہ کہانی کے الاؤ سے چرائی ہوئی آگ محو حیرت ہے کہ برفاب وہی ہے کہ نہیں سر جھکانے سے جہاں اشک تپاں جاگا تھا سوچتا ہوں کہ یہ محراب وہی ہے کہ نہیں
khvaab-kaari vahi kamkhvaab vahi hai ki nahin





