SHAWORDS
Dil Ayubi

Dil Ayubi

Dil Ayubi

Dil Ayubi

poet
9Shayari
25Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

یادش بخیر ہے وہی چہرہ خیال میں سو جنتیں جوان ہیں گویا خیال میں کس شان سے شریک تری انجمن میں ہیں بیٹھے ہوں جیسے ہم کہیں تنہا خیال میں گزرا ہے عشق ہی میں یہ عالم بھی مدتوں تھی شام ذہن میں نہ سویرا خیال میں دیکھا تھا خواب میں انہیں نادم تو کیا کہیں کیوں اب تک آ رہا ہے پسینہ خیال میں اللہ رے یہ مقام ترے تشنہ کام کا سوکھے پڑے ہیں سارے ہی دریا خیال میں جگنو سے یک بہ یک جو فضا میں چمک اٹھے یہ کون تھا ابھی ابھی کیا تھا خیال میں اے دلؔ عجب وہ شہر ستم تھا کہ آج تک ہے کوئی ادھ کھلا سا دریچہ خیال میں

yaadash-ba-khair hai vahi chehra khayaal mein

غزل · Ghazal

کتنے ہوئے ہیں خون یہاں اک اصول کے آئیں گے اب نہ شہر تمنا میں بھول کے ساری مسافرت کی تھکن دور ہو گئی پیش آئے کتنے پیار سے کانٹے ببول کے چہرے ہوئے جو گرد تو آئینہ بن گئے کیا طرفہ معجزات تھے صحرا کی دھول کے کتنا حسیں تھا جرم غم دل کہ دو جہاں در پہ ہیں آج تک مرے رنگ قبول کے نازاں ہے زندگی مری اب ان کی موت پر جو لوگ رہ گئے تری باہوں میں جھول کے آنے کو تھی بس آخری ہچکی مریض کو قربان جائیے تری شان نزول کے اے دلؔ یہ حال عشق میں ہوگا خبر نہ تھی پچھتائے ہم تو روگ لگا کر فضول کے

kitne hue hain khuun yahaan ik usuul ke

غزل · Ghazal

کہاں میں ابھی تک نظر آ سکا ہوں خدا جانے کتنی تہوں میں چھپا ہوں یہ کس نے صدا دی مجھے زندگی نے مگر میں تو صدیاں ہوئیں مر چکا ہوں یہ کہہ کر تو منزل نے دل توڑ ڈالا جہاں سے چلا تھا وہی مرحلہ ہوں یہ دلچسپ وعدے یہ رنگیں دلاسے عجب سازشیں ہیں کہاں آ گیا ہوں ترا قرب حاصل ہوا بھی تو کیا ہے وہی فاصلہ تھا وہی فاصلہ ہوں

kahaan main abhi tak nazar aa sakaa huun

غزل · Ghazal

نقد دل ہے کہ گریبان کے ہر تار میں ہے حوصلہ اب بھی بہت تیرے خریدار میں ہے یاں کوئی شعلہ بجاں اور بھی ٹھہرا ہوگا کس قیامت کی تپش سایۂ دیوار میں ہے کتنا ملتا ہے مرے قلب کی کیفیت سے یہ جو ہنگامہ ترے کوچہ و بازار میں ہے زخم احساس کو جو زہر ہرا ہی رکھے تیغ آہن میں نہیں بات کی تلوار میں ہے سارے گلشن کو جلانے کے لئے کافی ہے ایک شعلہ جو دل مرغ گرفتار میں ہے ضامن نشوونمائے گل تر ہے اے دلؔ درد مندی کی خلش سی جو دل خار میں ہے

naqd-e-dil hai ki garebaan ke har taar mein hai

غزل · Ghazal

کون بھلا ہے کون برا ہے آئنہ سب کو دیکھ رہا ہے چھپنے والے تجھ کو پتہ ہے اہل نظر نے دیکھ لیا ہے چند شہید ناز تمہارے ورنہ مر کے کون جیا ہے دیکھ کے میرا عالم حیرت آئنہ اس نے توڑ دیا ہے جب سے میں چپ ہوں مہر بہ لب ہوں ذرہ ذرہ بول رہا ہے کھیل نہیں ہے ہوش میں رہنا ہوش گنوا کر درس ملا ہے کان ہیں عادی آہ و فغاں کے دل کا رونا کس نے سنا ہے

kaun bhalaa hai kaun buraa hai

غزل · Ghazal

سارے چمن کو دشت میں تبدیل کر گئے بے درد تھے جو عین جوانی میں مر گئے ملبوس اہل ہوش کا معیار دیکھ کر دیوانے بے لباس درختوں سے ڈر گئے شاید اداسیوں پہ ترس آ گیا مری کل رات شہر جاں میں فرشتے اتر گئے سنتے ہیں ان پہ نور برستا ہے آج تک جن وادیوں سے ہو کے ترے خوش نظر گئے ہم سر پھرے بھی خوب تھے اے دلؔ کہ عشق میں ناموس و ننگ و نام بھی قربان کر گئے

saare chaman ko dasht mein tabdil kar gae

Similar Poets