"laDkhaDa kar gir paDi unchi imarat daf.atan daf.atan ta.amir ki kursi pe khanDar jam gaya"

Ehteram Islam
Ehteram Islam
Ehteram Islam
Sherشعر
See all 8 →laDkhaDa kar gir paDi unchi imarat daf.atan
لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی عمارت دفعتاً دفعتاً تعمیر کی کرسی پہ کھنڈر جم گیا
saath rakhiye kaam aa.ega bahut nam-e-khuda
ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خدا خوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گی
sher ke ruup men dete rahna
شعر کے روپ میں دیتے رہنا احترامؔ اپنی خبر آگے بھی
is baar bhi sho.alon ne macha Daali tabahi
اس بار بھی شعلوں نے مچا ڈالی تباہی اس بار بھی شعلوں کو ہوا دی گئی شاید
usi se mujh ko mila ishtiyaq manzil ka
اسی سے مجھ کو ملا اشتیاق منزل کا مرے سفر کو فضائے سفر اسی سے ملی
ahl-e-duniya se mujhe to koi andesha na tha
اہل دنیا سے مجھے تو کوئی اندیشہ نہ تھا نام تیرا کس لئے مرے لبوں پر جم گیا
Popular Sher & Shayari
16 total"saath rakhiye kaam aa.ega bahut nam-e-khuda khauf gar jaaga to phir kis ko sada di ja.egi"
"sher ke ruup men dete rahna 'ehtiram' apni khabar aage bhi"
"is baar bhi sho.alon ne macha Daali tabahi is baar bhi sho.alon ko hava di ga.i shayad"
"usi se mujh ko mila ishtiyaq manzil ka mire safar ko faza-e-safar usi se mili"
"ahl-e-duniya se mujhe to koi andesha na tha naam tera kis liye mire labon par jam gaya"
ahl-e-duniyaa se mujhe to koi andesha na thaa
naam teraa kis liye mire labon par jam gayaa
yaad thaa 'suqraat' kaa qissa sabhi ko 'ehtiraam'
sochiye aise mein baDh kar sach ko sach kahtaa to kaun
tauqir andheron ki baDhaa di gai shaayad
ik shama jo raushan thi bujhaa di gai shaayad
laDkhaDaa kar gir paDi unchi imaarat dafatan
dafatan taamir ki kursi pe khanDar jam gayaa
saath rakhiye kaam aaegaa bahut naam-e-khudaa
khauf gar jaagaa to phir kis ko sadaa di jaaegi
is baar bhi shoalon ne machaa Daali tabaahi
is baar bhi shoalon ko havaa di gai shaayad
Ghazalغزل
bazm-e-tanhaai mein aks-e-shoala-paikar thaa koi
بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی یا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئی قربتوں کے گھاٹ پر سوکھی ندی ثابت ہوا فاصلوں کے دشت میں گہرا سمندر تھا کوئی اس کی ساری التجائیں حکم ٹھہرائی گئیں جس گھڑی دیکھا گیا جامے سے باہر تھا کوئی دیوتا ہے اب وہی مندر کے آسن پر جما ٹھوکریں کھاتا ہوا رستے کا پتھر تھا کوئی اس کی خواہش تھی کہ سطح آب پر چل کر دکھائے کیا مقدر تھا کہ دریا کا مقدر تھا کوئی کرب اپنے بونے پن کا جھیلتا ہوں آج تک سوچ ابھری تھی بجھی میرے برابر تھا کوئی سامنے اس کے اگر سورج نہیں تھا احترامؔ پانی پانی آخرش کیوں شعلہ پیکر تھا کوئی
fazaa-e-shaam ziyaa-e-sahar usi se mili
فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی کشش حیات کو المختصر اسی سے ملی اسی سے مجھ کو ملا اشتیاق منزل کا مرے سفر کو فضائے سفر اسی سے ملی بلند مرتبۂ مشت خاک اسی نے کیا تمام فہم و ذکا و نظر اسی سے ملی غرور خود پہ جسے جس قدر بھی ہو لیکن ملی جسے بھی متاع ہنر اسی سے ملی اسی نے ظلمت گم گشتگی کو دور کیا تلاش حق کو رہ معتبر اسی سے ملی عطا کرے گا ہمیں بھی وہی ردائے ضیا کہ جگنوؤں کو قبائے شرر اسی سے ملی وہ بے خبر ہے نہیں احترام جس کو خبر کہ آدمی کو ملی ہر خبر اسی سے ملی
tauqir andheron ki baDhaa di gai shaayad
توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید اک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شاید پھر در بدری ہونے لگی اس کا مقدر پھر شوق کے شعلوں کو ہوا دی گئی شاید موہوم نظر آتا ہے اب جوش ملاقات کچھ گرمیٔ احساس گھٹا دی گئی شاید اس بار بھی شعلوں نے مچا ڈالی تباہی اس بار بھی شعلوں کو ہوا دی گئی شاید ٹکتیں نہیں دنیائے حقیقت پہ نگاہیں خوابوں کی کوئی بزم سجا دی گئی شاید آ ٹھہری تھی جو ضبط کے اسرار سے بچ کر آنکھوں سے وہی بوند گرا دی گئی شاید قاتل کو بٹھایا گیا سر پر مرے ہوتے مجھ کو میری اوقات بتا دی گئی شاید
haadson kaa silsila manzar-ba-manzar jam gayaa
حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا ہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیا خاک کی کشتی تلے سونے کا ساغر جم گیا دیدۂ بے خواب میں خواب سکندر جم گیا موسموں کے بیچ کی دوری کا اندازہ لگاؤ بہہ گئے پربت پگھل کر اور سمندر جم گیا لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی عمارت دفعتاً دفعتاً تعمیر کی کرسی پہ کھنڈر جم گیا رفعت چرخ بریں محدود ہو کر رہ گئی جب سروں پر دھند کا سفاک لشکر جم گیا دیدۂ گربہ سے کیا پھوٹی شعاع جاں گزا پھڑپھڑایا تک نہیں زندہ کبوتر جم گیا اہل دنیا سے مجھے تو کوئی اندیشہ نہ تھا نام تیرا کس لئے میرے لبوں پر جم گیا
surkh mausam ki kahaani hai puraani ho na ho
سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو آسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہو خواب میں مجھ کو نظر آتی ہیں بھیگی سیپیاں آنکھ کھلنے پر تری آنکھوں میں پانی ہو نہ ہو ساتھ ہوتی ہے مرے ہر گام پر سنجیدگی ہو رہی ہے دور اب مجھ سے جوانی ہو نہ ہو ہر جگہ نکلے گی تیری بات مجھ کو دیکھ کر تذکرہ تیرا کہیں میری زبانی ہو نہ ہو روشنی دیتے رہیں گے مجھ کو زخموں کے چراغ اب اندھیرے میں کہیں سے ضو فشانی ہو نہ ہو اک طرف میری انا ہے اک طرف تیری خوشی آ گیا میرے لیے پل امتحانی ہو نہ ہو زہر کا پانی میں ہونا طے شدہ ہے احترامؔ آگہی کے گھاٹ پر دریا میں پانی ہو نہ ہو
muntashir har shai qarine se sajaa di jaaegi
منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی یا مرے کمرے کی شخصیت مٹا دی جائے گی ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خدا خوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گی آگ بھڑکے گی ہوا پا کر بڑا سچ یہ نہیں سچ بڑا یہ ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے گی بے ٹھکانہ یوں کیا جائے گا اک جلتا چراغ طاقچے میں موم کی گڑیا بٹھا دی جائے گی آئنہ حالات کا آئے گا جو بھی دیکھنے کوئی عمدہ سی غزل اس کو سنا دی جائے گی بولنے پر کوئی پابندی نہیں کچھ بولئے ہاں مگر آواز اٹھے گی دبا دی جائے گی سر بکف ہو جائیں گے پیر و جواں سب دیکھنا دیش کی خاطر متاع جاں لٹا دی جائے گی غیرممکن کچھ نہیں دنیا میں لیکن احترامؔ آپ کی صحبت بھلا کیسے بھلا دی جائے گی





