"kaha us ne batao mere bin ye zindagi kya hai kaha main ne vahi jo paniyon main jhaag hote hain"

Fauziya Rabab
Fauziya rabab
Fauziya rabab
Sherشعر
See all 17 →kaha us ne batao mere bin ye zindagi kya hai
کہا اس نے بتاؤ میرے بن یہ زندگی کیا ہے کہا میں نے وہی جو پانیوں میں جھاگ ہوتے ہیں
mujh se puchha jo kisi ne tiri pahchan bata
مجھ سے پوچھا جو کسی نے تری پہچان بتا میں پکاری میں تمہاری میں تمہاری مولا
tirgi jo baDhti hai ik diya jalati huun
تیرگی جو بڑھتی ہے اک دیا جلاتی ہوں یوں بھی اپنی ہستی کو آئنہ بناتی ہوں
kuza-gar main tiri mohabbat men
کوزہ گر میں تری محبت میں اپنی صورت بگاڑ لیتی ہوں
aks jo asman pe rakkha hai
عکس جو آسماں پہ رکھا ہے ایک دن آئنہ میں اترے گا
vaqt jab aa.ina dikhata hai
وقت جب آئنہ دکھاتا ہے آدمی خود کو بھول جاتا ہے
Popular Sher & Shayari
34 total"mujh se puchha jo kisi ne tiri pahchan bata main pukari main tumhari main tumhari maula"
"tirgi jo baDhti hai ik diya jalati huun yuun bhi apni hasti ko aa.ina banati huun"
"kuza-gar main tiri mohabbat men apni surat bigaD leti huun"
"aks jo asman pe rakkha hai ek din aa.ine men utrega"
"vaqt jab aa.ina dikhata hai aadmi khud ko bhuul jaata hai"
vaqt jab aaina dikhaataa hai
aadmi khud ko bhuul jaataa hai
aaj phir tum ko ham ne dekhaa hai
aaj mahshar bani hain ye aankhein
mujh ko har lamha miri maan se mohabbat hai 'rabaab'
main kisi roz bhulaa duun use mumkin hi nahin
dekh suqraat ne bas zahr piyaa thaa lekin
zindagi main to tujhe ghol ke pi jaaungi
kuchh is liye bhi mujhe kaamyaabi milti hai
main apne baabaa ke naqsh-e-qadam pe chalti huun
jab vo kahti hai yuun ki uf tauba
meri tauba hi TuuT jaati hai
Ghazalغزل
ajiib chhaayaa hai khauf-o-hiraas aankhon mein
عجیب چھایا ہے خوف و ہراس آنکھوں میں تمہارا درد نہیں ہے اداس آنکھوں میں تمام دشت پہ طاری ہے وجد کا عالم جنوں کا رقص ستارہ شناس آنکھوں میں گئے زمانوں سے رشتہ مرا نہیں ٹوٹا ادھورے خوابوں کی رکھی ہے باس آنکھوں میں ہر ایک چہرے سے ایسا دھواں نہیں اٹھتا یہ خاص روشنی ہوتی ہے خاص آنکھوں میں یہ کیسا خواب سجا ہے ربابؔ کچھ دن سے کہ کم نہیں کبھی ہوتی مٹھاس آنکھوں میں
ghaayal hai teri shahzaadi shahzaade
گھائل ہے تیری شہزادی شہزادے تو نے جو ہر بات بھلا دی شہزادے ہر جانب ہو ایک منادی شہزادے تیری ہو گئی یہ شہزادی شہزادے ہنستے ہنستے روتی ہوں پھر ہنستی ہوں عشق نے کیسی مجھ کو سزا دی شہزادے آج بھی عرش کو دیکھا تیرا نام لیا آج بھی میں نے تجھ کو دعا دی شہزادے شام ڈھلے تو درد بھی اپنی آمد کی کر دیتا ہے روز منادی شہزادے ہم نے تو بس پیار کیا تھا پاپ نہیں لوگوں نے تو بات بڑھا دی شہزادے تجھ کو چاہا تو پھر ٹوٹ کے چاہا ہے شعلوں کو بھی خوب ہوا دی شہزادے قبر پہ روتے رہنے سے سکھ پاؤ گے تم نے کتنی دیر لگا دی شہزادے بولو آخر دل پر کیا کچھ بیتے گی تم نے جو ہر یاد مٹا دی شہزادے جتنی عمر ہے باقی وہ بھی تیرے نام جتنی تھی وہ تجھ پہ لٹا دی شہزادے آج ربابؔ کے لب پر چیخی خاموشی خاموشی نے تجھ کو صدا دی شہزادے
log karte hain faqat vaqt guzaari paagal
لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل بات کرتا ہے یہاں کون ہماری پاگل اس نے اک بار کہا کوئی نہیں تم جیسا تب سے میں لگنے لگی خود کو بھی پیاری پاگل وہ بھی ہنس ہنس کے کیا کرتا تھا باتیں اور میں اس کی باتوں میں چلی آئی بچاری پاگل ایک مدت سے تری راہ میں آ بیٹھی ہے عشق میں تیرے ہوئی راجکماری پاگل میں نے پوچھا کہ کوئی مجھ سے زیادہ ہے حسیں آئنہ ہنس کے یہ بولا اری جا ری پاگل یوں نہیں ہے کہ فقط نین ہوئے ہیں میرے دیکھ کر تجھ کو ہوئی ساری کی ساری پاگل اس نے پوچھا کہ مری ہو ناں تو پھر میں نے کہا ہاں تمہاری میں تمہاری میں تمہاری پاگل میں ربابؔ اس سے زیادہ تجھے اب کیا دیتی زندگی میں نے ترے نام پہ واری پاگل
kis ko apnaa haal sunaaein aap bataaein
کس کو اپنا حال سنائیں آپ بتائیں کیسے دل کو ہم سمجھائیں آپ بتائیں آپ کہیں میں بعد میں اپنی کہہ لوں گی آپ کہیں پھر بھول نہ جائیں آپ بتائیں آپ کی اس اکتاہٹ کو اب ہم کیا سمجھیں کیا اب ہم ملنے نہیں آئیں آپ بتائیں آپ بنا اب کون ہمارے ناز اٹھائے کس سے روٹھیں کس کو ستائیں آپ بتائیں آنکھیں رستہ تکنے پر مامور ہوئیں ہیں دل سے کیسے یاد مٹائیں آپ بتائیں بولیں آپ پہ کوئی قیامت گزرے گی کیا آپ کے جیسے ہم ہو جائیں آپ بتائیں فرق کہاں رہ جائے گا پھر ہم دونوں میں ہم بھی گر احسان جتائیں آپ بتائیں خاموشی نے سب کچھ ہی تو کہہ ڈالا ہے بولیں ناں اب کیا بتلائیں آپ بتائیں آپ نے خود کو خود ہی شہر میں عام کیا ہے کیوں نہیں اب یہ لوگ ستائیں آپ بتائیں کب تک تنہا قول نبھاتے جائیں گے ہم کب تک ہوں مجروح وفائیں آپ بتائیں مجھ بیچاری کا کہنا کس گنتی میں ہے آپ بھلے کچھ بھی فرمائیں آپ بتائیں عشق پڑا ہے پیچھے ہاتھ ہی دھو کر جیسے کیسے اپنی جان بچائیں آپ بتائیں کون ربابؔ سنے اب لوگوں کی باتوں کو چھوڑیں جو بھی لوگ سنائیں آپ بتائیں
tum bhi ab shahr se Dar jaate ho had karte ho
تم بھی اب شہر سے ڈر جاتے ہو حد کرتے ہو دیکھ کر مجھ کو گزر جاتے ہو حد کرتے ہو نین تو یوں ہی تمہارے ہیں بلا کے قاتل اس پہ تم روز سنور جاتے ہو حد کرتے ہو میری آنکھوں سے بھی آنسو نہیں گرنے پاتے میری آنکھوں میں ٹھہر جاتے ہو حد کرتے ہو میرے جذبات میں تم بہہ تو لیا کرتے ہو کیسے دریا ہو اتر جاتے ہو حد کرتے ہو میں بھی ہر روز تری مان لیا کرتی ہوں تم بھی ہر روز مکر جاتے ہو حد کرتے ہو تیری خوشبو کو زمانے سے چھپاؤں کیسے تم جو چپ چاپ بکھر جاتے ہو حد کرتے ہو تم تو کہتے تھے رباب اب میں تری مانوں گا پھر بھی تم دیر سے گھر جاتے ہو حد کرتے ہو
thi us ke liye khvaab ki taabir koi hiir
تھی اس کے لیے خواب کی تعبیر کوئی ہیر کرتی تھی نہ رانجھے کو جو تسخیر کوئی ہیر ہوتی ہے وہ عزت بھی وہ بیٹی بھی حیا بھی کیوں پہنے فقط عشق کی زنجیر کوئی ہیر اس درجہ تمہیں پاس زمانہ ہے بھلا کیوں کیا تم نہ کرو گے کبھی تعمیر کوئی ہیر الزام تو آتا ہے فقط عشق کے سر ہی رانجھن کی تو کرتی نہیں تحقیر کوئی ہیر تو بھی تو کبھی سوچ مری ذات کے محور کیا آپ ہی کرتی رہے تدبیر کوئی ہیر اب کون سنائے گا ربابؔ عشق صحیفہ کرتی جو نہیں اب کوئی تفسیر کوئی ہیر





