"tum ne kyuun dil men jagah di hai buton ko 'sabir' tum ne kyuun kaaba ko but-khana bana rakkha hai"

Fazal Husain Sabir
Fazal Husain Sabir
Fazal Husain Sabir
Sherشعر
tum ne kyuun dil men jagah di hai buton ko 'sabir'
تم نے کیوں دل میں جگہ دی ہے بتوں کو صابرؔ تم نے کیوں کعبہ کو بت خانہ بنا رکھا ہے
tu jafaon se jo badnam kiye jaata hai
تو جفاؤں سے جو بدنام کئے جاتا ہے یاد آئے گی تجھے میری وفا میرے بعد
shagufta bagh-e-sukhan hai hamin se ai 'sabir'
شگفتہ باغ سخن ہے ہمیں سے اے صابرؔ جہاں میں مثل نسیم بہار ہم بھی ہیں
un ki manind koi sahab-e-idrak kahan
ان کی مانند کوئی صاحب ادراک کہاں جو فرشتے نہیں سمجھے وہ بشر سمجھے ہیں
'sabir' tera kalam sunen kyuun na ahl-e-fan
صابرؔ ترا کلام سنیں کیوں نہ اہل فن بندش عجب ہے اور عجب بول چال ہے
Popular Sher & Shayari
10 total"tu jafaon se jo badnam kiye jaata hai yaad aa.egi tujhe meri vafa mere baad"
"shagufta bagh-e-sukhan hai hamin se ai 'sabir' jahan men misl-e-nasim-e-bahar ham bhi hain"
"un ki manind koi sahab-e-idrak kahan jo farishte nahin samjhe vo bashar samjhe hain"
"'sabir' tera kalam sunen kyuun na ahl-e-fan bandish ajab hai aur ajab bol chaal hai"
tu jafaaon se jo badnaam kiye jaataa hai
yaad aaegi tujhe meri vafaa mere baad
un ki maanind koi saahab-e-idraak kahaan
jo farishte nahin samjhe vo bashar samjhe hain
'saabir' teraa kalaam sunein kyuun na ahl-e-fan
bandish ajab hai aur ajab bol chaal hai
shagufta baagh-e-sukhan hai hamin se ai 'saabir'
jahaan mein misl-e-nasim-e-bahaar ham bhi hain
tum ne kyuun dil mein jagah di hai buton ko 'saabir'
tum ne kyuun kaaba ko but-khaana banaa rakkhaa hai
Ghazalغزل
thi umid-e-mahr un ko mehrbaan samjhaa thaa main
تھی امید مہر ان کو مہرباں سمجھا تھا میں وہ ستم ڈھائیں گے مجھ پر یہ کہاں سمجھا تھا میں عرش سے بڑھ چڑھ کے ان کا آستاں سمجھا تھا میں ان کے کوچہ کی زمیں کو آسماں سمجھا تھا میں کیوں نہ ہو دشوار جانا منزل مقصود تک تھا بگولا جس کو گرد کارواں سمجھا تھا میں اضطراب دل نے افشا درد الفت کر دیا ہائے نادانی کہ اس کو راز داں سمجھا تھا میں ہو گئی تم پر تصدق ہو گئی تم پر نثار ورنہ اپنی زندگی کو رائیگاں سمجھا تھا میں وہ نہ اس گھر میں ملے مجھ کو نہ اس گھر میں ملے کعبہ بھی بت خانہ بھی ان کا مکاں سمجھا تھا میں آج وہ ایک ایک کی سو سو سنانے بیٹھے ہیں جن کو کل تک بے دہان و بے زباں سمجھا تھا میں کہہ رہے تھے جب وہ میرے درد دل کا ماجرا گویا ان کے منہ میں اپنی ہی زباں سمجھا تھا میں بحر عالم میں تھی میری زندگی مثل حباب حیف کیوں اس کو حیات جاوداں سمجھا تھا میں وحشت دل بڑھ گئی کیا خاک بہلے دل یہاں گلشن آفاق کو باغ جناں سمجھتا تھا میں خال روئے دوست کی مدحت نہ تم سے ہو سکے شاعروں میں تم کو صابرؔ نکتہ داں سمجھا تھا میں
mashriq vatan rahaa kabhi maghrib vatan rahaa
مشرق وطن رہا کبھی مغرب وطن رہا مانند مہر و ماہ ہمارا چلن رہا مصروف سیر باغ وہ گل پیرہن رہا طرفہ ہوئی یہ بات چمن میں چمن رہا عشق کمر نے کر دیا معدوم بعد مرگ کنج لحد میں نعش سے خالی کفن رہا گیسو رہے جو چار پہر روئے یار پر دن بھر مری نگاہ میں سورج گہن رہا جھانکے کنوئیں ہزاروں رہی طبع باؤلی جب تک خیال میں ترا چاہ ذقن رہا صابرؔ کو طوطیٔ شکرستاں کہیں گے لوگ یونہی جو لطف حاذقؔ شیریں سخن رہا
nairangiyaan falak ki hain mere hi ji ke saath
نیرنگیاں فلک کی ہیں میرے ہی جی کے ساتھ غم بھی اسی کے ساتھ خوشی بھی اسی کے ساتھ دامن چھڑا کے جب وہ چلے بے رخی کے ساتھ حسرت لپٹ کے رونے لگی بے رخی کے ساتھ دل چیز کیا ہے اور جگر کی ہے اصل کیا مانگیں وہ جان بھی تو میں دے دوں خوشی کے ساتھ مجھ سے کبھی ملے بھی تو منہ پھیر کر ملے کی بات بھی انہوں نے تو کی بے رخی کے ساتھ ہر وقت سامنا رہا رنج و ملال کا کوئی گھڑی نہ گزری ہماری خوشی کے ساتھ کیوں کر امید ہو کہ بر آئے گا مدعا جب دیکھتا ہوں رہتے ہیں وہ مدعی کے ساتھ غیروں کو راحت اور مصیبت ملی مجھے وہ ان کے جی کے ساتھ ہے یہ میرے جی کے ساتھ دم بھر بھی غم گسار نہ ہم کو ملا کوئی گزری تمام عمر یہاں بے کسی کے ساتھ صابرؔ کا حشر حشر میں پروردگار ہو اصحاب و آل پاک و جناب نبی کے ساتھ
kyaa khabar thi ye mohabbat kaa natija hogaa
کیا خبر تھی یہ محبت کا نتیجہ ہوگا رات دن درد جدائی میں تڑپنا ہوگا یار کی دید جو تقدیر میں ہوگی ہوگی یار کا وصل مقدر میں جو ہوگا ہوگا جان تو سیکڑوں کی تو نے نکالی ہوگی مگر ارمان کسی کا نہ نکالا ہوگا میرے رونے پہ خوشامد سے یہ کہنا ان کا چپ رہو چپ رہو دیکھو کوئی رسوا ہوگا ہوں وہ مے نوش نہ چھوٹے گی سر محشر بھی ساغر اک ہاتھ میں اک ہاتھ میں مینا ہوگا وقت رخصت جو کہا میں نے ملو گے تم کب کس شرارت سے کہا حشر میں ملنا ہوگا تم جسے اپنا سمجھتے ہو اسے اے صابرؔ کب ہوا ہے وہ کسی کا جو تمہارا ہوگا
sirat achchhi hai tiri yaar jamaal achchhaa hai
سیرت اچھی ہے تری یار جمال اچھا ہے تو بہر طور بس اے نیک خصال اچھا ہے بے قراری ہے وہ اگلی سی نہ وہ درد جگر اب تو کچھ کچھ ترے بیمار کا حال اچھا ہے کب ترے خال منور سے ہیں تارے اچھے کب ترے ابروئے پر خم سے ہلال اچھا ہے دیکھ کر آئنے میں قیامت ابرو سے کہا گلشن دہر میں اک یہ ہی نہال اچھا ہے ایک بوسہ پہ جو دل دیتا ہے صابرؔ لے لو مول کم ہے مگر اے جان یہ مال اچھا ہے
pher kar tegh-e-nazar tegh-e-jafaa se pahle
پھیر کر تیغ نظر تیغ جفا سے پہلے مار ڈالا مجھے ظالم نے قضا سے پہلے اب مرا خون جگر ہاتھوں میں ملتے ہیں وہ اس سے نفرت تھی جنہیں رنگ حنا سے پہلے زلف میں چھونے نہ پایا کہ بندھے میرے ہاتھ دی ستم گر نے سزا مجھ کو خطا سے پہلے شوق دیدار کی تیزی سے میں اکثر ہر صبح کوچۂ یار میں جاتا ہوں صبا سے پہلے ایسی تاثیر پہ سو جان سے صدمے قرباں میرے گھر آ گئے وہ میری دعا سے پہلے پاس صابرؔ کا بتو آج نہ کرنا پڑتا دور رہتے اگر اس مرد خدا سے پہلے





