SHAWORDS
Ghulam Mohammad Qasir

Ghulam Mohammad Qasir

Ghulam Mohammad Qasir

Ghulam Mohammad Qasir

poet
48Sher
48Shayari
42Ghazal

Sherشعر

See all 48

Popular Sher & Shayari

96 total

Ghazalغزل

See all 42
غزل · Ghazal

siina madfan ban jaataa hai jiite jaagte raazon kaa

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا جانچنا زخموں کی گہرائی کام نہیں اندازوں کا ساری چابیاں میرے حوالے کیں اور اس نے اتنا کہا آٹھوں پہر حفاظت کرنا شہر ہے نو دروازوں کا سامنے کی آواز سے میرے ہر اک رابطے میں حائل دائیں بائیں پھیلا لشکر انجانی آوازوں کا آنکھیں آگے بڑھنا چاہیں پیچھے رہ جاتی ہے نظر پلکوں کی جھالر پہ نمایاں کام ستارہ سازوں کا یوں تو ایک زمانہ گزرا دل دریا کو خشک ہوئے پھر بھی کسی نے سراغ نہ پایا ڈوبے ہوئے جہازوں کا

غزل · Ghazal

khvaab kahaan se TuuTaa hai taabir se puchhte hain

خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیں قیدی سب کچھ بھول گیا زنجیر سے پوچھتے ہیں جام جم لایا ہے گھر گھر دنیا کے حالات دل کی باتیں ہم تیری تصویر سے پوچھتے ہیں دنیا کب کروٹ بدلے گی کب جاگیں گے شہر کیسی باتیں سوئے ہوئے ضمیر سے پوچھتے ہیں ہم سے نہ پوچھو کس جذبے نے تمہیں کیا ناکام بادشاہ ایسی باتیں اپنے وزیر سے پوچھتے ہیں عہد سے کون مکر جائے گا تاروں کو کیا علم لکھی نہیں جو تو نے اس تحریر سے پوچھتے ہیں قاصرؔ نے تو دیکھا ہے اب تک فاقوں کا رقص جوہری طاقت کیا ہے جوہر میرؔ سے پوچھتے ہیں

غزل · Ghazal

milne ki har aas ke pichhe an-dekhi majburi thi

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی راہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلے پہلے نشاں زد کر لینا تھا جتنی بات ضروری تھی تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کی شاید ماہ و سال وفا کی بس اتنی مزدوری تھی پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی ایک غزال کو دور سے دیکھا اور غزل تیار ہوئی سہمے سہمے سے لفظوں میں ہلکی سی کستوری تھی

غزل · Ghazal

ye jahaan-navard ki daastaan ye fasaana Dolte saae kaa

یہ جہاں نورد کی داستاں یہ فسانہ ڈولتے سائے کا مرے سر بریدہ خیال ہیں کہ دھواں ہے سونی سرائے کا وہ ہوا کا چپکے سے جھانکنا کسی بھولے بسرے مدار سے کہیں گھر میں شہر کی ظلمتیں کہیں چھت پہ چاند کرائے کا گل ماہ گھومتے چاک پر کف کوزہ گر سے پھسل گئی کہ بساط گردش سال و سن یہی فرق اپنے پرائے کا مرا نطق بھی ہے نگاہ بھی مری شاعری کا گواہ بھی تری دوستی کے محاذ پر وہ لرزتا عکس کنائے کا کہ اسی کے نام تک آئے تھے یہ صدا و صدق کے سلسلے وہی شخص جس نے ترے لیے کیا قتل سوچتی رائے کا

غزل · Ghazal

ban se fasil-e-shahr tak koi savaar bhi nahin

بن سے فصیل شہر تک کوئی سوار بھی نہیں کس کو بٹھائیں تخت پر گرد و غبار بھی نہیں برگ و گل و طیور سب شاخوں کی سمت اڑ گئے قصر جہاں پناہ میں نقش و نگار بھی نہیں سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں میلے لباس کی دعا پہنچے شبیہ شاخ تک شاہوں کے پائیں باغ میں ایسا مزار بھی نہیں کل ہمہ تن جمال تھے آئنے حسب حال تھے سنتے ہیں اب وہ خال و خد عکس کے پار بھی نہیں

غزل · Ghazal

baghair us ke ab aaraam bhi nahin aataa

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے وہ ماہ رخ جو لب بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر جدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا چرا کے خواب وہ آنکھوں کو رہن رکھتا ہے اور اس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا

Similar Poets