SHAWORDS
Gulshan Mehra

Gulshan Mehra

Gulshan Mehra

Gulshan Mehra

poet
9Shayari
8Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ایک بت کی بے تحاشہ بندگی کا شوق تھا کیا بتائیں کس قدر ہم کو کسی کا شوق تھا مجھ کو اس کی تھی تمنا ہر کسی کو چھوڑ کر اور اسے میرے علاوہ ہر کسی کا شوق تھا ہم یوں افسردہ نہیں تھے تیری دنیا میں خدا کچھ دنوں پہلے تلک تو زندگی کا شوق تھا ہو سکے تو دور رہنا اس بلا سے ہم کو بھی مے کشی کی لت سے پہلے مے کشی کا شوق تھا یہ غزل جن کو سنانا ان کو بتلانا ضرور میری بربادی کے پیچھے شاعری کا شوق تھا

ek but ki be-tahaasha bandagi kaa shauq thaa

غزل · Ghazal

وہ بھی رک کر آزمانا چاہتا تھا میں بھی مڑ کر مسکرانا چاہتا تھا اس جہاں میں آپ کے آنے سے پہلے کس کو یہ سارا زمانہ چاہتا تھا اس کو تو منظور تھی ہر شرط لیکن میں کہاں موقع گنوانا چاہتا تھا تم کو رتی بھر بھی اندازہ نہیں ہے کس طرح تم کو دوانہ چاہتا تھا آ رہا ہوں پھر تری باتوں میں یعنی پھر تری باتوں میں آنا چاہتا تھا

vo bhi ruk kar aazmaanaa chaahtaa thaa

غزل · Ghazal

خود ہی کے حصے کی خوشی پانے سے رہ گئے اپنے ہی ساتھ وقت بتانے سے رہ گئے وہ سب بنے جو آپ بناتے گئے ہمیں ہم یار خود کو کچھ بھی بنانے سے رہ گئے یہ دنیا ہم سے روٹھ گئی آپ کے سبب اور اس پہ آپ کو بھی منانے سے رہ گئے اس نے اشارہ ہی نہیں سمجھا کبھی مرا ہر بار میرے تیر نشانے سے رہ گئے اک روز اس نے ہم کو دوانا سا کہہ دیا پھر اس کے بعد ہم بھی دوانے سے رہ گئے

khud hi ke hisse ki khushi paane se rah gae

غزل · Ghazal

ہم سمجھتے ہیں سیاست اور شہادت سو ہمیں سرفروشوں پہ یقیں ہے سرفرازوں پر نہیں آپ نے دنگوں پہ کر تو لی سیاست فطرتاً اب خدا کے واسطے اٹھتے جنازوں پر نہیں آپ سے اک التجا ہے داور محشر مرا فیصلہ اعمال پر کرنا نمازوں پر نہیں

ham samajhte hain siyaasat aur shahaadat so hamein

غزل · Ghazal

سعادت چھوڑنی ہوگی رفاقت چھوڑنی ہوگی وہ اک بت ہے تو پھر اس کی عبادت چھوڑنی ہوگی نشہ کرنے لگا ہوں آپ کا میں آج کل بے حد یہ عادت جان لیوا ہے یہ عادت چھوڑنی ہوگی کہ اب جب رابطہ ہی کچھ نہیں ہم میں تو دکھنے پر ہمیں یہ مسکرا دینے کہ فطرت چھوڑنی ہوگی میں جو برباد ہوں جاناں غلط صحبت ہی سے تو ہوں تو سمجھو نا تمہیں بھی میری صحبت چھوڑنی ہوگی میں گلشنؔ ہوں سو مجھ پہ فرض ہے ہر گل کہ رعنائی فقط اک رات رانی ہی کہ خدمت چھوڑنی ہوگی

sa'aadat chhoDni hogi rifaaqat chhoDni hogi

غزل · Ghazal

زمیں پر وقت رہتے آسماں سے لوٹ آیا میں خدا کا شکر ہے شہر گماں سے لوٹ آیا میں مجھے تم کیا بتاؤگے حدوں سے پار کیا کیا ہے جہاں تم جا رہے ہو نا وہاں سے لوٹ آیا میں کوئی منزل نہیں ہے مرحلے ہی مرحلے ہیں بس جہاں یہ سچ کھلا مجھ پر وہاں سے لوٹ آیا میں

zamin par vaqt rahte aasmaan se lauT aayaa main

Similar Poets