SHAWORDS
Haidar Ali Aatish

Haidar Ali Aatish

Haidar Ali Aatish

Haidar Ali Aatish

poet
97Sher
97Shayari
95Ghazal

Sherشعر

See all 97

Popular Sher & Shayari

194 total

Ghazalغزل

See all 95
غزل · Ghazal

koi achchhaa nahin hotaa hai bari chaalon se

کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے لب بام آ کے کھڑے ہو نہ کھلے بالوں سے روز و شب کس لیے رہتا ہوں الٰہی بیتاب نہ تو گوروں سے محبت نہ مجھے کالوں سے جوش وحشت میں جو جنگل کی طرف جا نکلا تپ چڑھی شیر نیستاں کو مرے نالوں سے کوئی کچھ عشق کا کرتا ہے بیاں کوئی کچھ تنگ آیا ہوں میں اس قضیہ کے دلالوں سے بیشتر صبح شب وصل سے ہم گزریں گے زور ادبار چلے گا نہ خوش اقبالوں سے مست ہاتھی ہے تری چشم سیہ مست اے یار صف مژگاں اسے گھیرے ہوے ہے بھالوں سے روئے خوباں سے ملے گا ہمیں بوسہ کہ نہیں حال ان شکلوں کا کچھ پوچھیے رمالوں سے عارضی حسن سے نفرت یہ ہوئی ہے دل کو رتبہ زلفوں کو نہیں مکڑیوں کے جالوں سے خط شب گوں نے نکل کر عبث اندھیر کیا کافرستاں تو وہ رخ آگے ہی تھا خالوں سے دو جہاں حشر کے دن ہوویں گے باہم موجود متفق ہوں گے اِدھر والے اُدھر والوں سے دل حسینوں کے تصور سے بنایا خالی آئینہ خانوں میں کثرت رہی تمثالوں سے کچھ تو ہلکا کریں خار رہ صحرائے جنوں بوجھ لنگر کا ہوئے ہیں کف پا چھالوں سے ان کے بوسوں کی تمنا ہے لبوں کو آتشؔ آئنہ کسب صفا کرتے ہیں جن گالوں سے

غزل · Ghazal

khaar matlub jo hove to gulistaan maangun

خار مطلوب جو ہووے تو گلستاں مانگوں بجلی گرنے کو جو جی چاہے تو باراں مانگوں شمع گل ہووے جو صبح شب ہجراں مانگوں اوس پڑنی بھی ہو موقوف جو یاراں مانگوں خاک میں بھی جو ملوں میں تو کسی صحرا میں تم سے مٹی بھی نہ اے گبر و مسلماں مانگوں بخت واژوں نے زباں کو یہ اثر بخشا ہے تلخیٔ مرگ مزا دے جو نمک داں مانگوں خانۂ دل میں کروں داغ محبت کو طلب روشنی کے لیے اس گھر کے جو مہماں مانگوں پادشاہی سے فقیری کا ہے پایا بالا بوریا چھوڑ کے کیا تخت سلیماں مانگوں رنج سے عشق کے ہے راحت دنیا بد تر زخم خنداں ہوں اگر میں گل خنداں مانگوں دے دیا کیجئے سودائی تمہارا ہوں میاں سونگھنے کو جو کبھی زلف پریشاں مانگوں عاشق دست نگاریں ہوں عجب کیا اس کا بھیک دریا سے اگر پنجۂ مرجاں مانگوں میوے پر باغ جہاں میں ہو جو دل کو رغبت شجر حسن سے میں سیب زنخداں مانگوں جامۂ جسم بھی رکھنے کا نہیں دست جنوں پیرہن خاک میں دیوانۂ عریاں مانگوں یاس و حرماں ہوں جو لوہے کے چنے بھی تو چباؤں نعمت عشق کے قابل لب و دنداں مانگوں ملتی ہو مانگنے سے باغ جہاں میں جو مراد گل سے بلبل کے کفن کے لئے داماں مانگوں کب سے در پر ترے سائل ہوں میں آتشؔ کی طرح وہ ملے مجھ کو جو کچھ اے شہ خوباں مانگوں

غزل · Ghazal

sar shama saan kaTaaiye par dam na maariye

سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے منزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سے پھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے طالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوار زر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے تنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہے کون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے تم فاتحہ بھی پڑھ چکے ہم دفن بھی ہوئے بس خاک میں ملا چکے چلئے سدھاریے

غزل · Ghazal

bargashta-taalai kaa tamaashaa dikhaaun main

برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں گھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میں جنس گراں بہا کا خریدار کون ہے یکتا نہیں الٰہی جو چوری ہی جاؤں میں لالہ رخوں کے حسن کا بھوکا ہوں اس قدر دل ہو نہ سیر لاکھ اگر داغ کھاؤں میں آنکھیں مری کرے جو منور جمال یار گھی کے چراغ طور کے اوپر جلاؤں میں مردے کی طرح سوتے ہیں کیسے مرے نصیب ٹھوکر سے پائے یار کے ان کو جگاؤں میں بوسہ ملے کماں کا جو ابروئے یار کی محراب بیت کعبہ میں چلا چڑھاؤں میں جی چاہتا ہے شوق شہادت میں قبل مرگ بنوا کے قبر لالہ کو اس پر لگاؤں میں گھر میں جو مجھ فقیر کے وہ شاہ حسن آئے مژگاں کے بوریے جو کھڑے ہیں بچھاؤں میں کانٹا سکھا کے ہجر نے ہر چند کر دیا وہ گل بدن ملے تو نہ پھولا سماؤں میں تم تو غریب خانہ میں آئے نہ ایک روز فرمائیے تو شب کو کسی وقت آؤں میں باریک بیں ہوں شاعر نازک خیال ہوں مضموں جہاں کمر کا ملے باندھ لاؤں میں آتشؔ غلام ساقی کوثر ہوں چاہئے فردوس کا کھلا ہوا دروازہ پاؤں میں

غزل · Ghazal

qad-e-sanam saa agar aafrida honaa thaa

قد صنم سا اگر آفریدہ ہونا تھا نہ سرو باغ کو اتنا کشیدہ ہونا تھا ہوا ہے زلف سے گستاخ کس قدر شانہ ہمارے پاس بھی دست بریدہ ہونا تھا نہ کھینچنا تھا زلیخا کو دامن یوسف اسی کا پردۂ عصمت دریدہ ہونا تھا دیا نہ ساتھ جو صبر و قرار نے نہ دیا روانہ ملک عدم کو جریدہ ہونا تھا مٹائے سے کوئی مٹتا ہے باطلوں کے حق کچھ اختیار سے کیا برگزیدہ ہونا تھا نہ جانتا تھا غضب ہے نگہ کا تیر اے دل تجھی کو سامنے آفت رسیدہ ہونا تھا رلاتا شام و سحر کس طرح نہ طالع پست بلند سر سے مرے آب دیدہ ہونا تھا گریز یار نے برباد کر دیا ہم کو غبار راہ غزال رمیدہ ہونا تھا نہ آئی دامن دایہ میں نیند اے آتشؔ درون دامن خاک آرمیدہ ہونا تھا

غزل · Ghazal

shohra-e-aafaaq mujh saa kaun saa divaana hai

شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے ہند میں میں ہوں پرستاں میں مرا افسانہ ہے صید گاہ مرغ دل رخسارۂ جانانہ ہے دام زلف عنبریں ہے خال مشکیں دانہ ہے حسن سے رتبہ ہے اپنے عشق کامل کا بلند آستانہ پر پری ہے بام پر دیوانہ ہے اس میں رہتا ہے صفائے روئے جاناں کا خیال دل نہیں پہلو میں اپنے آئینہ کا خانہ ہے بیچتا ہوں دل کو جو محبوب چاہے مول لے بوسہ قیمت ہے توجہ کی نظر بیعانہ ہے پھوٹیں وہ آنکھیں نگاہ بد سے جو دیکھیں تجھے آتشیں رخسار مجمر خال کالا دانہ ہے روز و شب اس شمع رو کو بھیجتا ہوں خط شوق نامہ بر دن کو کبوتر رات کو پروانہ ہے خار خار دل غنیمت جانتا ہوں عشق میں زلف دود آہ کی آراستگی کاشانہ ہے شرح لکھا چاہئے اس کی بیاض صبح پر مطلع خورشید بیت ابرو جانانہ ہے حالت آئینہ رکھتا ہے صفا سے دل مرا آشنا سے آشنا بیگانہ سے بیگانہ ہے قتل سے مجھ سخت جاں کے منکر اے قاتل نہ ہو حجت قاطع تری تلوار کا دندانہ ہے واسطے ہر شے کے دنیا میں مقرر ہیں محل شہر میں جب تک ہے مجنوں گنج بے ویرانہ ہے باغ عالم میں نہیں اس شوخ سا کوئی حسیں گل ہے اپنا یار یوسف سبزۂ بیگانہ ہے اب نہیں اے یار جوبن کو ترے بیم زوال خط مشکیں حسن کی جاگیر کا پروانہ ہے حال ہے جس کا اسی کے واسطے ہے خوش نما نقص ہے تلوار کا وصف ارہ کا دندانہ ہے یار کھینچے تیغ تیرے قتل کرنے کے لیے سر جھکا آتشؔ یہ جائے سجدۂ شکرانہ ہے

Similar Poets