SHAWORDS
Haneef Najmi

Haneef Najmi

Haneef Najmi

Haneef Najmi

poet
49Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

49 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

گو تجھ سے کبھی صرف نظر ہم نہیں کرتے تیرے لیے دنیا سے مفر ہم نہیں کرتے حالانکہ اثر میں ترے رہتے ہیں شب و روز ہر کام ترے زیر اثر ہم نہیں کرتے وہ شہر میں یوں ہی کہیں مل جاتا ہے اکثر ملنے کے لیے اس سے سفر ہم نہیں کرتے اٹھ جائے کم و بیش معانی کا تکلف کیوں اپنی خموشی کو ہنر ہم نہیں کرتے طے کیسے کریں وادئ جاں کے یہ مراحل اب جسم کی منزل کو بھی سر ہم نہیں کرتے ہم جیتے ہیں بس اپنی ہی مرضی کے مطابق اوروں کی طرح عمر بسر ہم نہیں کرتے نجمیؔ ہم اسے قبلۂ جاں کہتے ہیں لیکن افسوس کہ رخ اپنا ادھر ہم نہیں کرتے

go tujh se kabhi sarf-e-nazar ham nahin karte

غزل · Ghazal

وصل کی دھن میں سدا محو بکا رہتا ہوں میں بہتے پانی پر لکیریں کھینچتا رہتا ہوں میں بے وفا وہ ہے نہ میں ہوں لیکن اس دل کے سبب کتنے اندیشوں میں اکثر مبتلا رہتا ہوں میں مجھ کو یہ دھن ہے کہ نکلے صلح کا رستہ کوئی وہ سمجھتے ہیں کہ دشمن سے ملا رہتا ہوں میں کر دیا بے گھر مجھے اک خانہ بر انداز نے عشق کی دولت سے لیکن جابجا رہتا ہوں میں ہاں تری خاطر ہی کرتا ہوں زمانے بھر سے پیار ہاں تری خاطر ہی دنیا سے خفا رہتا ہوں میں کیسی دنیا ہے کہ برسوں سے ہے اس سے اختلاط آج بھی حیرت سے لیکن دیکھتا رہتا ہوں میں تو خدا ہے عرش و کرسی ہے ترے شایان شان میں ہوں بندہ فرش خاکی پر پڑا رہتا ہوں میں

vasl ki dhun mein sadaa mahv-e-bukaa rahtaa huun main

غزل · Ghazal

مری نظر کو عبث تو برائی دیتی ہے جو شے بری ہے بری ہی دکھائی دیتی ہے یہ خاک کیسی بنائی ہے اے خدا تو نے ہر ایک رنگ میں یکتا دکھائی دیتی ہے ہمارے دل ہیں سلامت تو پھر ہر اک لمحہ یہ ٹوٹنے کی صدا کیوں سنائی دیتی ہے یہ روز روز کا ملنا بھی ٹھیک ہے لیکن مزا تو یار تری کم نمائی دیتی ہے سنائی دیتی نہ تھی جن کو کل مری فریاد اب ان کو میری خموشی سنائی دیتی ہے ہزار گرد اڑاتا پھرے وہ نفرت کی مجھے تو صرف محبت دکھائی دیتی ہے کسی لحاظ سے مجرم نہیں اگر دنیا تو بار بار یہ پھر کیوں صفائی دیتی ہے دل اس کا جرم تو کرتا ہے ہر گھڑی نجمیؔ اور اس کی آنکھ برابر صفائی دیتی ہے

miri nazar ko 'abas tu buraai deti hai

غزل · Ghazal

دو دن سے اقتدار میں کیا آ گیا خدا ہر آدمی پکار رہا ہے خدا خدا نکلے گا کب اندھیروں کے نرغے سے آدمی ٹوٹے گا کب برائی کا یہ دائرہ خدا الجھا ہوں جانے کب سے تذبذب کے جال میں منظر دکھا دے مجھ کو تو اس پار کا خدا ہر لمحہ سب کے حال کی رکھتا ہے تو خبر کچھ اپنا حال بھی تو کسی کو بتا خدا ہے کتنی قیمتی یہ مری بندگی نہ پوچھ صدیوں کے باد مجھ کو ملا ہے مرا خدا موسیٰ کی فکر اور ہے فرعون کی کچھ اور چھوٹا کسی سے ہے تو کسی سے بڑا خدا سہما ہوا تھا جس کی بلندی سے میں بہت وہ آسمان سر پہ مرے آ گرا خدا تسکین ہو یہاں کے نظاروں سے کیا مجھے منظر مری نگاہ میں ہے دور کا خدا نجمیؔ جمال سنگ غزل کو تراش کر اک بت بنا رہا تھا مگر بن گیا خدا

do din se eqtidaar mein kyaa aa gayaa khudaa

غزل · Ghazal

یہ مت سمجھو حقیقت سے کنارہ کرنے والا ہوں میں سب خوابوں کو اپنے پارہ پارہ کرنے والا ہوں جسے میں نے کبھی آدھا ادھورا کر کے چھوڑا تھا وہ کام اب کے بہ طرز نو دوبارہ کرنے والا ہوں کیا تھا کل مسخر بس ذرا سا ہی جسے میں نے اسے اپنا میں اب سارے کا سارا کرنے والا ہوں ملی فرصت تو پھر اس کو کبھی سورج میں ڈھالوں گا ابھی تو اس شرر کو میں ستارہ کرنے والا ہوں جسے دیکھو یہاں اوروں کے نقصاں کا ہی باعث ہے بس اک میں ہوں جو آپ اپنا خسارہ کرنے والا ہوں جہاں والو مری ان ان کھلی آنکھوں پہ مت جاؤ میں بند آنکھوں سے دنیا کا نظارہ کرنے والا ہوں سن اے فرعون عالم میں کوئی موسیٰ نہیں لیکن میں تیری سلطنت کو پارہ پارہ کرنے والا ہوں زباں سے کچھ نہ کہنا حسن کی فطرت سہی لیکن یہ خاموشی بھلا کب میں گوارا کرنے والا ہوں اگر سمجھے تو بس اہل نظر سمجھیں گے کچھ نجمیؔ میں غزلوں میں بہت نازک اشارہ کرنے والا ہوں

ye mat samjho haqiqat se kinaara karne vaalaa huun

غزل · Ghazal

ورزش عشق میں حالانکہ بہت تیز ہے وہ اپنی فطرت سے مگر دلبر انگریز ہے وہ کیا غزل سے بھی مری رام نہ ہوگا وہ غزال یوں اگر ہے تو عجب آہوئے رم خیز ہے وہ عشق نے پھر سے جواں کر دیا اس کو شاید سن رسیدہ ہے مگر پھر بھی بہت تیز ہے وہ میں تو سمجھا تھا ہوس نے کیا بنجر اس کو اس سے مل کر یہ کھلا آج بھی زرخیز ہے وہ اے خدا کھول دے سب راز نہانی اس کے لوگ جانیں تو سہی کتنا شر انگیز ہے وہ کیا کروں وصف بیاں خوش بدنی کا اس کی شاخ گل سا ہے مگر کتنا شرربیز ہے وہ بس یہی سوچ کے سب اس پہ فدا ہیں نجمیؔ ہے تہی مہر تو کیا حسن سے لبریز ہے وہ

varzish-e-'ishq mein haalaanki bahut tez hai vo

Similar Poets