SHAWORDS
Haseeb Soz

Haseeb Soz

Haseeb Soz

Haseeb Soz

poet
9Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

ہمارے خواب سب تعبیر سے باہر نکل آئے وہ اپنے آپ کل تصویر سے باہر نکل آئے یہ اہل ہوش تو گھر سے کبھی باہر نہیں نکلے مگر دیوانے ہر زنجیر سے باہر نکل آئے کوئی آواز دے کر دیکھ لے مڑ کر نہ دیکھیں گے محبت تیرے اک اک تیر سے باہر نکل آئے در و دیوار بھی گھر کے بہت مایوس تھے ہم سے سو ہم بھی رات اس جاگیر سے باہر نکل آئے بڑی مشکل زمینوں میں گلابی رنگ بھرنا تھا بہت جلدی بیاض میرؔ سے باہر نکل آئے

hamaare khvaab sab taabir se baahar nikal aae

غزل · Ghazal

درد آسانی سے کب پہلو بدل کر نکلا آنکھ کا تنکا بہت آنکھ مسل کر نکلا تیرے مہماں کے سواگت کا کوئی پھول تھے ہم جو بھی نکلا ہمیں پیروں سے کچل کر نکلا شہر کی آنکھیں بدلنا تو مرے بس میں نہ تھا یہ کیا میں نے کہ میں بھیس بدل کر نکلا میرے رستے کے مسائل تھے نوکیلے اتنے میرا دشمن بھی مرے پیروں سے چل کر نکلا ڈگمگانے نہ دیئے پاؤں روا داری نے میں شرابی تھا مگر روز سنبھل کر نکلا

dard aasaani se kab pahlu badal kar niklaa

غزل · Ghazal

امیر شہر سے مل کر سزائیں ملتی ہیں اس ہسپتال میں نقلی دوائیں ملتی ہیں ہم ایک پارٹی مل کر چلو بناتے ہیں کہ تیری میری بہت سی خطائیں ملتی ہیں پرانی دلی میں دل کا لگانا ٹھیک نہیں نہ دھوپ اور نہ تازہ ہوائیں ملتی ہیں اب ان کا نام و نسب دوسرے بتاتے ہیں عروج ملتے ہی کیا کیا ادائیں ملتی ہیں کسی غریب کی امداد کر کے دیکھ کبھی ذرا سے کام کی کتنی دعائیں ملتی ہیں

amir-e-shahr se mil kar sazaaein milti hain

غزل · Ghazal

شوق سے آپ یہ انگریزی دوا بھی لیتے ہم فقیروں سے مگر تھوڑی دعا بھی لیتے اس لئے ہنسنے ہنسانے کی بنا لی عادت میں جو روتا تو کئی لوگ مزا بھی لیتے تیرے بکنے کی خبر کاش کہ پہلے ہوتی اتنی دولت تو مری جان کما بھی لیتے اب کوئی بیس برس بعد یہ احساس ہوا چاہتے ہم تو کہیں ہاتھ چھڑا بھی لیتے اس قدر بوجھ تھا دل پر ہمیں مرنا ہی پڑا زہر تھوڑا سا جو ہوتا تو پچا بھی لیتے

shauq se aap ye angrezi davaa bhi lete

غزل · Ghazal

کھلا یہ راز کہ یہ زندگی بھی ہوتی ہے بچھڑ کے تجھ سے ہمیں اب خوشی بھی ہوتی ہے وہ فون کر کے مرا حال پوچھ لیتا ہے نمک حراموں کی کیٹگری بھی ہوتی ہے مزاج پوچھنے والے مزا بھی لیتے ہیں کبھی جو درد میں تھوڑی کمی بھی ہوتی ہے یہی تو کھولتی ہے دشمنی کا دروازہ خراب چیز میاں دوستی بھی ہوتی ہے تم اپنے قدموں کی رفتار پر بہت خوش ہو یہ ریل گاڑی کہیں پر کھڑی بھی ہوتی ہے

khulaa ye raaz ki ye zindagi bhi hoti hai

غزل · Ghazal

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا لباس پہنے رہا اور بدن اتار گیا حسب نسب بھی کرائے پہ لوگ لانے لگے ہمارے ہاتھ سے اب یہ بھی کاروبار گیا اسے قریب سے دیکھا تو کچھ شفا پائی کئی برس میں مرے جسم سے بخار گیا تمہاری جیت کا مطلب ہے جنگ پھر ہوگی ہماری ہار کا مطلب ہے انتشار گیا تو ایک سال میں اک سانس بھی نہ جی پایا میں ایک سجدے میں صدیاں کئی گزار گیا

vo ek raat ki gardish mein itnaa haar gayaa

Similar Poets