SHAWORDS
Hayat Amrohvi

Hayat Amrohvi

Hayat Amrohvi

Hayat Amrohvi

poet
5Sher
5Shayari
20Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

sharaab pi kar diyaa hai tum ne jo ham ko jaam-e-sharaab aadhaa

شراب پی کر دیا ہے تم نے جو ہم کو جام شراب آدھا ازل سے لکھا ہوا تھا شاید کہ پائیں ہم تم ثواب آدھا گلے لگا کر لیا تھا بوسہ ہوئے تھے راضی وصال پر بھی تڑپ نے دل کو جگا دیا کیوں ابھی تو دیکھا تھا خواب آدھا فلک سے کہہ دو سحر قریں ہے گئی وہ ظلمت ہوئی شب آخر شفق حنا لے کے آپ آئے کہ اڑ گیا ہے خضاب آدھا یہاں ہے زوروں پہ ناتوانی وہاں نزاکت سے بات مشکل نہ کس طرح ہو سوال آدھا نہ کس طرح ہو جواب آدھا میں اپنی الفت کا حال لکھوں بیان حسن صنم کو پڑھ کر اشارہ یہ ہے جو سادہ رکھا ورق میان کتاب آدھا چھپا لیں ہاتھوں سے اس نے آنکھیں الٹ جو دی ہے نقاب رخ سے رکے نہ دست ہوس کی شوخی رہے یہ جب تک حجاب آدھا تمہاری اٹھتی ہوئی جوانی جو دیکھ پائی شناوری میں وفور حیرت سے رہ گیا ہے ابھر کے ہر اک حباب آدھا حیاتؔ غفلت نہیں مناسب بتوں کی طاعت کو چھوڑ دو اب ذرا تو چونکو چلی جوانی گزر گیا ہے شباب آدھا

غزل · Ghazal

mere hone se pahunch jaaegaa aaraam ke saath

میرے ہونے سے پہنچ جائے گا آرام کے ساتھ نامہ بر مجھ کو بھی لے چل مرے پیغام کے ساتھ وہ جو دیوانہ سا گلیوں میں پھرا کرتا ہے یاد کرتے ہیں وہ مجھ کو مگر الزام کے ساتھ یوں نظر کا ہوا ٹکراؤ کہ توبہ توبہ ہوش بھی ہو گیا رخصت دل ناکام کے ساتھ کس لیے اپنے مقدر پہ مجھے فخر نہ ہو ان کا دیوانہ لکھا ہو جو مرے نام کے ساتھ اے حیاتؔ ان کی نگاہوں کے تبسم پہ نثار زندگی اور نہ گزرے گی اب آرام کے ساتھ

غزل · Ghazal

tabibon se nazar ki choT pahchaani nahin jaati

طبیبوں سے نظر کی چوٹ پہچانی نہیں جاتی پریشاں ہیں کہ کیوں میری پریشانی نہیں جاتی کسی صورت مری آشفتہ سامانی نہیں جاتی بیاباں بس گئے اور گھر کی ویرانی نہیں جاتی فنا کے گھاٹ تک غم کی ستم رانی نہیں جاتی بہی جاتی ہیں آنکھیں اشک افشانی نہیں جاتی تمہارا حکم ہے وہ حکم جو ٹالا نہیں جاتا ہماری بات ہے وہ بات جو مانی نہیں جاتی خدا شاہد ہے میں اپنی تباہی کا ہوں خود باعث اب اس کو کیا کروں اس کی پریشانی نہیں جاتی حیاتؔ غم زدہ کے دل کی ویرانی کو مت پوچھو ہوا ہے ایسا ویراں جس کی ویرانی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

ishq kaa faisla nahin hotaa

عشق کا فیصلہ نہیں ہوتا مدعا بھی ادا نہیں ہوتا بھول جاتا ہوں سب گناہ کے وقت جیسے میرا خدا نہیں ہوتا کون سمجھے گا دل کی بیتابی اس پہ جب آسرا نہیں ہوتا غیر سے ملتے ہیں وہ چھپ چھپ کر گویا مجھ کو پتا نہیں ہوتا دم آخر بھی وہ نہ آئے حیاتؔ یہ بھی مجھ سے گلہ نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

sharik-e-dard duniyaa mein baDi mushkil se miltaa hai

شریک درد دنیا میں بڑی مشکل سے ملتا ہے دعائیں جو دوا سے دل کا مارا دل سے ملتا ہے فریب آسماں غربت کی راتیں دیکھتے جاؤ کہ ہر تارہ چراغ سرحد منزل سے ملتا ہے نہ جانے روح کس ناکام کی موجوں میں بیکل سے سفینہ ڈگمگا جاتا ہے جب ساحل سے ملتا ہے تمہیں تو قدر کرنی چاہیے تھی اپنے عاشق کی گراتے ہو نظر سے تم اسے جو دل سے ملتا ہے حیاتؔ ان کا زمانہ ہے وہ جو چاہیں ستم ڈھائیں مگر عاشق بھی مجھ جیسا بڑی مشکل سے ملتا ہے

غزل · Ghazal

shama-ru jalva-kunaan thaa mujhe maalum na thaa

شمع رو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا صاف پردے سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا گل میں بلبل میں ہر اک شاخ میں پتے میں بھی جا بجا اس کا نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا یہ غلط ہستئ موہوم کو سمجھے تھے مگر اور وطن اپنا یہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا ایک مدت حرم و دیر میں ڈھونڈا ناحق سیم بر دل میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا سچ تو یہ ہے کہ سوا یار کے جو کچھ تھا حیاتؔ وہم تھا شک تھا گماں تھا مجھے معلوم نہ تھا

Similar Poets