"ye jazba-e-talab to mira mar na ja.ega tum bhi agar miloge to ji bhar na ja.ega"
Hayat Lakhnavi
Hayat Lakhnavi
Hayat Lakhnavi
Sherشعر
See all 8 →ye jazba-e-talab to mira mar na ja.ega
یہ جذبۂ طلب تو مرا مر نہ جائے گا تم بھی اگر ملوگے تو جی بھر نہ جائے گا
khuda ke vaste mohr-e-sukut toD bhi de
خدا کے واسطے مہر سکوت توڑ بھی دے تمام شہر تری گفتگو کا پیاسا ہے
ye iltija dua ye tamanna fuzul hai
یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا
ab dilon men koi gunja.ish nahin milti 'hayat'
اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا
silsila khvabon ka sab yunhi dhara rah ja.ega
سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا
mudda.a ham apna kaghaz par raqam kar ja.enge
مدعا ہم اپنا کاغذ پر رقم کر جائیں گے وقت کے ہاتھوں میں اپنا فیصلا رہ جائے گا
Popular Sher & Shayari
16 total"khuda ke vaste mohr-e-sukut toD bhi de tamam shahr tiri guftugu ka pyasa hai"
"ye iltija dua ye tamanna fuzul hai sukhi nadi ke paas samundar na ja.ega"
"ab dilon men koi gunja.ish nahin milti 'hayat' bas kitabon men likkha harf-e-vafa rah ja.ega"
"silsila khvabon ka sab yunhi dhara rah ja.ega ek din bistar pe koi jagta rah ja.ega"
"mudda.a ham apna kaghaz par raqam kar ja.enge vaqt ke hathon men apna faisla rah ja.ega"
khudaa ke vaaste mohr-e-sukut toD bhi de
tamaam shahr tiri guftugu kaa pyaasaa hai
ab dilon mein koi gunjaaish nahin milti 'hayaat'
bas kitaabon mein likkhaa harf-e-vafaa rah jaaegaa
silsila khvaabon kaa sab yunhi dharaa rah jaaegaa
ek din bistar pe koi jaagtaa rah jaaegaa
ye jazba-e-talab to miraa mar na jaaegaa
tum bhi agar miloge to ji bhar na jaaegaa
muddaaa ham apnaa kaaghaz par raqam kar jaaeinge
vaqt ke haathon mein apnaa faislaa rah jaaegaa
har sadaa se bach ke vo ehsaas-e-tanhaai mein hai
apne hi divaar-o-dar mein gunjtaa rah jaaegaa
Ghazalغزل
ik shakhs paa gayaa hai andheron mein kyaa charaagh
اک شخص پا گیا ہے اندھیروں میں کیا چراغ سب اس سے پوچھتے ہیں کہاں سے ملا چراغ مانا کہ ظلمتوں سے بہت دور تھا چراغ لیکن مرے خیال کا روشن رہا چراغ ناکامیوں کا منہ تو اسے دیکھنا ہی تھا وہ بھی تو آندھیوں میں جلانے چلا چراغ یہ سلسلہ بھی بزم تمنا کا خوب ہے جب ایک بجھ گیا تو جلا دوسرا چراغ اب روشنی ہے ماند پرانے چراغ کی اب لاؤ روشنی کے لیے اک نیا چراغ کیا اس کو راستوں میں اندھیروں کا خوف ہو جس کی مسافرت کے لیے کربلا چراغ جس کی ضیا ہے عالم امکاں کی روشنی غار حرا میں ایسا جلایا گیا چراغ میں نے سپر بچھائی ہے چاروں طرف حیاتؔ دیکھوں گا اب بجھاتی ہے کیسے ہوا چراغ
ye jazba-e-talab to miraa mar na jaaegaa
یہ جذبۂ طلب تو مرا مر نہ جائے گا تم بھی اگر ملوگے تو جی بھر نہ جائے گا یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا جس زاویے سے چاہو مری سمت پھینک دو مجھ سے ملے بغیر یہ پتھر نہ جائے گا دم بھر کے واسطے ہیں بہاریں سمیٹ لو ویرانیوں کو چھوڑ کے منظر نہ جائے گا یوں خوش ہے اپنے گھر کی فضاؤں کو چھوڑ کر جیسے وہ زندگی میں کبھی گھر نہ جائے گا اس کو بلندیوں میں مسلسل اچھالیے لیکن وہ اپنی سطح سے اوپر نہ جائے گا شہر مراد مل بھی گیا اب تو کیا حیاتؔ مایوسیوں کا دل سے کبھی ڈر نہ جائے گا
silsila khvaabon kaa sab yunhi dharaa rah jaaegaa
سلسلہ خوابوں کا سب یوں ہی دھرا رہ جائے گا ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا ایک خواہش دل کو غیر آباد کرتی جائے گی اک پرندہ دور تک اڑتا ہوا رہ جائے گا چار سو پھیلی ہوئی بے چہرگی کی دھند میں ایک دن بے عکس ہو کر آئنہ رہ جائے گا ہر صدا سے بچ کے وہ احساس تنہائی میں ہے اپنے ہی دیوار و در میں گونجتا رہ جائے گا مدعا ہم اپنا کاغذ پر رقم کر جائیں گے وقت کے ہاتھوں میں اپنا فیصلا رہ جائے گا دو گھڑی کے واسطے آ کر چلے جاؤ گے تم پھر مری تنہائیوں کا سلسلا رہ جائے گا اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیاتؔ بس کتابوں میں لکھا حرف وفا رہ جائے گا
zindagi aur ho rusvaa nahin dekhaa jaataa
زندگی اور ہو رسوا نہیں دیکھا جاتا مجھ سے اب اپنا تماشا نہیں دیکھا جاتا پہلے آنکھوں میں سجاتا ہوں تری رعنائی مجھ سے منظر کوئی تنہا نہیں دیکھا جاتا آئنہ قد کے برابر ہو کبھی خواہش تھی اب یہ عالم ہے کہ چہرہ نہیں دیکھا جاتا میری آنکھوں میں ہے کس پیاس کا منظر نامہ مجھ سے بہتا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا حسن تعبیر سے عنوان نہیں ملتا حیاتؔ خواب کوئی بھی ادھورا نہیں دیکھا جاتا
shab-e-zindagi jo guzarti rahi
شب زندگی جو گزرتی رہی نئے خواب آنکھوں میں بھرتی رہی تقدس کے پہرے فضا پر رہے گناہوں کی خوشبو بکھرتی رہی کوئی اس میں موسم کا محرم نہ تھا حوادث سے کشتی گزرتی رہی میں پیاسی نگاہیں بچاتا پھرا مری تشنگی کام کرتی رہی فلک سے زمیں پر ہمیشہ حیاتؔ نوائے مقدس اترتی رہی
kab qaabil-e-taqlid hai kirdaar hamaaraa
کب قابل تقلید ہے کردار ہمارا ہر لمحہ گزرتا ہے خطا وار ہمارا مرنا بھی جو چاہیں تو وہ مرنے نہیں دے گا جینا بھی کیے رہتا ہے دشوار ہمارا اچھا ہے ادھر کچھ نظر آتا نہیں ہم کو جو کچھ بھی ہے وہ سب پس دیوار ہمارا اک روز تو یہ فاصلہ طے کر کے رہیں گے ہے کب سے کوئی منتظر اس پار ہمارا ہم کو یہ خوشی ہے کہ ادھر آئے تو پتھر ہے شہر میں کوئی تو طلب گار ہمارا کوئی تو یہ تنہائی کا احساس مٹائے کوئی تو نظر آئے طرفدار ہمارا ہم نے تو حیاتؔ آس لگائی ہے خدا سے ہے اس کے سوا کون مددگار ہمارا





