SHAWORDS
Himayat Ali Shayar

Himayat Ali Shayar

Himayat Ali Shayar

Himayat Ali Shayar

poet
27Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

27 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

پندار زہد ہو کہ غرور برہمنی اس دور بت شکن میں ہے ہر بت شکستنی صرصر چلے کہ تند بگولوں کا رقص ہو موج نمو رواں ہے تو ہر گل شگفتنی گل‌‌ چین و گل فروش کی خاطر ہے فصل گل اور قسمت جنوں ہے فقط چاک دامنی دیوار ابر کھینچیے کرنوں کی راہ میں ذروں میں قید کیجیئے سورج کی روشنی موج نفس سے لرزے ہے تار رگ حیات پھیلی ہے شہر دل میں وہ پر ہول سنسنی

pindaar-e-zohd ho ki ghurur-e-barhamani

غزل · Ghazal

میرا شعور مجھ کو یہ آزار دے گیا سورج کی طرح دیدۂ بے دار دے گیا ہر پھول اک شرر ہے تو ہر شاخ ایک برق جنت کا خواب دوزخ گلزار دے گیا لب‌ بستگی میں حسرت گفتار جاگ اٹھی خوف سکوت جرأت اظہار دے گیا جلتا ہوں اپنی آگ میں خورشید کی طرح کیسی سزا یہ شعلۂ‌ پندار دے گیا محو سخن تھا میں کہ مرا عکس ہنس پڑا آئینے سے نکل کے یہ اشعار دے گیا

meraa shuur mujh ko ye aazaar de gayaa

غزل · Ghazal

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم منسوب ہو سکے نہ تری انجمن سے ہم بیزار آ نہ جائیں غم جان و تن سے ہم اپنے وطن میں رہ کے بھی ہیں بے وطن سے ہم یوں بے رخی سے پیش نہ آ اہل دل کے ساتھ اٹھ کر چلے نہ جائیں تری انجمن سے ہم یہ سرکشی جنوں نہیں پندار عشق ہے گزرے ہیں دار سے بھی اسی بانکپن سے ہم مہر و مہ و نجوم کی مانند روز و شب ہر جور آسماں پہ رہے خندہ زن سے ہم ملتے ہیں روز دست صبا سے پیام گل زنداں میں بھی قریب ہیں اہل چمن سے ہم شاعرؔ ادب کے محتسبوں کو خبر نہیں کیا کام لے رہے ہیں تغزل کے فن سے ہم

aae the tere shahr mein kitni lagan se ham

غزل · Ghazal

اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے سورج کے اجالے میں چراغاں نہیں ممکن سورج کو بجھا دو کہ زمیں جشن منائے مہتاب کا پرتو بھی ستاروں پہ گراں ہے بیٹھے ہیں شب تار سے امید لگائے ہر موج ہوا شمع کے در پے ہے ازل سے دل سے کہو لو اپنی ذرا اور بڑھائے کس کوچۂ طفلاں میں چلے آئے ہو شاعرؔ آوازہ کسے ہے تو کوئی سنگ اٹھائے

is dasht-e-sukhan mein koi kyaa phuul khilaae

غزل · Ghazal

کیا کیا نہ زندگی کے فسانے رقم ہوئے لیکن جو حاصل غم دل تھے وہ کم ہوئے اے تشنگیٔ درد کوئی غم کوئی کرم مدت گزر گئی ہے ان آنکھوں کو نم ہوئے ملنے کو ایک اذن تبسم تو مل گیا کچھ دل ہی جانتا ہے جو دل پر ستم ہوئے دامن کا چاک چاک جگر سے نہ مل سکا کتنی ہی بار دست و گریباں بہم ہوئے کس کو ہے یہ خبر کہ بہ عنوان زندگی کس حسن اہتمام سے مصلوب ہم ہوئے ارباب عشق و اہل ہوس میں ہے فرق کیا سب ہی تری نگاہ میں جب محترم ہوئے شاعرؔ تمہیں پہ تنگ نہیں عرصۂ حیات ہر اہل فن پہ دہر میں ایسے کرم ہوئے

kyaa kyaa na zindagi ke fasaane raqam hue

غزل · Ghazal

چاند نے آج جب اک نام لیا آخر شب دل نے خوابوں سے بہت کام لیا آخر شب ہائے وہ خواب کہ تعبیر سے سرشار بھی تھا اس کی آنکھوں سے جو انعام لیا آخر شب ہائے کیا پیاس تھی جب اس کے لبوں سے میں نے مسکراتا ہوا اک جام لیا آخر شب میں جو گرتا بھی تو قدموں میں اسی کے گرتا اس نے خود بڑھ کے مجھے تھام لیا آخر شب زندگی بھر کی مسافت کا مداوا کہیے اس کی باہوں میں جو آرام لیا آخر شب

chaand ne aaj jab ik naam liyaa aakhir-e-shab

Similar Poets