SHAWORDS
Humaira Rahat

Humaira Rahat

Humaira Rahat

Humaira Rahat

poet
19Sher
19Shayari
15Ghazal

Sherشعر

See all 19

Popular Sher & Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

har ek khvaab ki taabir thoDi hoti hai

ہر ایک خواب کی تعبیر تھوڑی ہوتی ہے محبتوں کی یہ تقدیر تھوڑی ہوتی ہے کبھی کبھی تو جدا بے سبب بھی ہوتے ہیں سدا زمانے کی تقصیر تھوڑی ہوتی ہے پلک پہ ٹھہرے ہوئے اشک سے کہا میں نے ہر ایک درد کی تشہیر تھوڑی ہوتی ہے سفر یہ کرتے ہیں اک دل سے دوسرے دل تک دکھوں کے پاؤں میں زنجیر تھوڑی ہوتی ہے دعا کو ہاتھ اٹھاؤ تو دھیان میں رکھنا ہر ایک لفظ میں تاثیر تھوڑی ہوتی ہے

غزل · Ghazal

vaqt aisaa koi tujh par aae

وقت ایسا کوئی تجھ پر آئے خشک آنکھوں میں سمندر آئے میرے آنگن میں نہیں تھی بیری پھر بھی ہر سمت سے پتھر آئے راستہ دیکھ نہ گوری اس کا کب کوئی شہر میں جا کر آئے ذکر سنتی ہوں اجالے کا بہت اس سے کہنا کہ مرے گھر آئے نام لے جب بھی وفا کا کوئی جانے کیوں آنکھ مری بھر آئے

غزل · Ghazal

tumhaare ishq pe dil ko jo maan thaa na rahaa

تمہارے عشق پہ دل کو جو مان تھا نہ رہا ستارہ ایک سر آسمان تھا نہ رہا وہ اور تھے کہ جو ناخوش تھے دو جہاں لے کر ہمارے پاس تو بس اک جہان تھا نہ رہا تو اپنی فتح کا اعلان کر میں ہار گئی وہ حوصلہ کہ مجھے جس پہ مان تھا نہ رہا وہی کہانی ہے کردار بھی وہی ہیں مگر جو ایک نام سر داستان تھا نہ رہا صدائیں دوگے پلٹ کر کبھی تو دیکھوگے ہمارے دل میں یہ مبہم گمان تھا نہ رہا

غزل · Ghazal

havaa ke saath ye kaisaa moaamla huaa hai

ہوا کے ساتھ یہ کیسا معاملہ ہوا ہے بجھا چکی تھی جسے وہ دیا جلا ہوا ہے حضور آپ کوئی فیصلہ کریں تو سہی ہیں سر جھکے ہوئے دربار بھی لگا ہوا ہے کھڑے ہیں سامنے کب سے مگر نہیں پڑھتے وہ ایک لفظ جو دیوار پر لکھا ہوا ہے ہے کس کا عکس جو دیکھا ہے آئینے سے الگ یہ کیسا نقش ہے جو روح پر بنا ہوا ہے یہ کس کا خواب ہے تعبیر کے تعاقب میں یہ کیسا اشک ہے جو خاک میں ملا ہوا ہے یہ کس کی یاد کی بارش میں بھیگتا ہے بدن یہ کیسا پھول سر شاخ جاں کھلا ہوا ہے ستارہ ٹوٹتے دیکھا تو ڈر گئی راحتؔ خبر نہ تھی یہی تقدیر میں لکھا ہوا ہے

غزل · Ghazal

kisi bhi raaegaani se baDaa hai

کسی بھی رائیگانی سے بڑا ہے یہ دکھ تو زندگانی سے بڑا ہے نہ ہم سے عشق کا مفہوم پوچھو یہ لفظ اپنے معانی سے بڑا ہے ہماری آنکھ کا یہ ایک آنسو تمہاری راجدھانی سے بڑا ہے گزر جائے گی ساری رات اس میں مرا قصہ کہانی سے بڑا ہے ترا خاموش سا اظہار راحتؔ کسی کی لن ترانی سے بڑا ہے

غزل · Ghazal

aankhon se kisi khvaab ko baahar nahin dekhaa

آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا پھر عشق نے ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا یہ شہر صداقت ہے قدم سوچ کے رکھنا شانے پہ کسی کے بھی یہاں سر نہیں دیکھا ہم عمر بسر کرتے رہے میرؔ کی مانند کھڑکی کو کبھی کھول کے باہر نہیں دیکھا وہ عشق کو کس طرح سمجھ پائے گا جس نے صحرا سے گلے ملتے سمندر نہیں دیکھا ہم اپنی غزل کو ہی سجاتے رہے راحتؔ آئینہ کبھی ہم نے سنور کر نہیں دیکھا

Similar Poets