SHAWORDS
Humaira Rahman

Humaira Rahman

Humaira Rahman

Humaira Rahman

poet
9Sher
9Shayari
40Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 40
غزل · Ghazal

hangaamon kaa saaya suuni aankh mein hai

ہنگاموں کا سایہ سونی آنکھ میں ہے کیسا بدن ہے اور کیسی پوشاک میں ہے گویائی تالو سے چپکی بیٹھی ہے اور سناٹا آوازوں کی تاک میں ہے یاد بجھے تو ساری عمارت ڈھہ نہ جائے پچھلا ایک اک لمحہ میری ساکھ میں ہے ایک سمندر ہے جو آنکھیں دیتا ہے تہہ میں جانے کی ہمت پیراک میں ہے کوئی شناسا چہرہ کوئی میٹھی بات چنگاری ہے اور ابھی تک راکھ میں ہے شاخوں پر انہونی پت جھڑ آئی ہے پھول کی خوشبوؤں کا منظر خاک میں ہے میں اس کی ہر بات حمیراؔ لکھ پاؤں ایسا لفظ کہاں میرے ادراک میں ہے

غزل · Ghazal

jaagti aankhon se kaisaa saaniha dekhaa gayaa

جاگتی آنکھوں سے کیسا سانحہ دیکھا گیا بادلوں کا غول کچھ قطرے لہو برسا گیا جس نے اپنی روشنی دے کر خریدی تیرگی لوگ کہتے ہیں سفر پر موت کے زندہ گیا اس کی خاطر دشمنی کس کس کی تو نے مول لی چاند آخر کار تیرے حسن کا گہنا گیا جب کبھی عورت کی آزادی کا اٹھا غلغلہ وقت عورت کو نئی ہی بیڑیاں پہنا گیا جلد اس کی ختم ہو جائے گی ساری آب و تاب جو ادب تہذیب اپنی بھول کر لکھا گیا میں نے تجھ پر آنکھ موندے کر لیا تھا اعتماد شیشہ یہ ٹوٹا تو ہر سو کرچیاں بکھرا گیا جو اداکاری کے فن میں با کمال و طاق تھا سب سے بڑھ کر اس زمانے میں وہی چاہا گیا کتنی رعنائی تھی کتنا حسن تھا اس یاد میں رفتہ رفتہ ذہن جس کو منتشر کرتا گیا جس نے اپنی حد سے بڑھ کر کیں حمیراؔ خواہشیں بارہا وہ پورا دریا پی کے بھی پیاسا گیا

غزل · Ghazal

vo ek shakhs jo miltaa thaa doston ki tarah

وہ ایک شخص جو ملتا تھا دوستوں کی طرح بدل کے رہ گیا رنگین موسموں کی طرح تھا انتظار مجھے جس کا اتنی مدت سے وہ میرے سامنے آیا تو دشمنوں کی طرح بہار آئی کہ تو آیا ہے یہ علم نہیں مہک اٹھی ہے فضا تیرے گیسوؤں کی طرح سمٹ کے رہ گئی میری بھی شخصیت جس میں وہ ایسا چھانے لگا مجھ پہ وسعتوں کی طرح جو تیرا نام کسی نے لیا شرارت سے اڑا کے لے گیا سکھ چین آنچلوں کی طرح حمیراؔ اتنا بھی پاگل جہاں میں کوئی نہ ہو کسی کا درد لگے جس کو راحتوں کی طرح

غزل · Ghazal

dhuup jali to basti ki basti taarik hui

دھوپ جلی تو بستی کی بستی تاریک ہوئی اندھے گھر کے لوگوں کی بینائی ٹھیک ہوئی میری عمارت جھوٹی بنیادوں پہ قائم تھی پھر کیوں میرے ملبے سے سچ کی تحریک ہوئی جو تحریریں میں نے تجھ سے چھپ کر لکھی تھیں ان کی نمائش میرے ہی گھر کے نزدیک ہوئی کمرے میں روشن سناٹوں کا وہ عالم تھا کرن جھروکے سے اندر آ کر باریک ہوئی کچھ تو حمیراؔ آنگن میں تھی سوندھے پن کی باس اور کچھ اب کی رت میں پھلواری بھی ٹھیک ہوئی

غزل · Ghazal

utar aate hain 'alaamaat ke baadal mujh mein

اتر آتے ہیں علامات کے بادل مجھ میں کوئی چنتا ہے کئی رنگ کے چاول مجھ میں ایک حملے سے تو بچ جاؤں گی لیکن آگے خواہشوں کے کئی دستے ہیں ہراول مجھ میں پھر مرے دیس کے بچوں کی خبر لایا کوئی پھر کھلے ہیں کئی انداز کے مقتل مجھ میں روز اگ آتے ہیں اندیشے نئے پیڑوں کے بڑھ رہا ہے مرے انکار کا جنگل مجھ میں اتنے خوش نام بزرگوں میں بڑھا ہے مرا قد کیسے اترے گی حمیراؔ کوئی دلدل مجھ میں

غزل · Ghazal

meri ungli ki anguThi mein lagi patthar ki aankh

میری انگلی کی انگوٹھی میں لگی پتھر کی آنکھ اور دریچوں میں سمٹ آئی محلے بھر کی آنکھ میں تو پگلی تھی مجھے تو تھا ہی رنگوں کا جنوں قصر میں اس شخص کے چندھیائی تھی اکثر کی آنکھ اس شب خود آگہی میں آئنے بولا کیے جیسے پتھرانے لگی خود میرے ہی اندر کی آنکھ ہم اسے اپنے لیے محدود سمجھے تھے مگر اب کھلا اس چاند پر عرصے سے تھی گھر گھر کی آنکھ سادگی میں ہم حمیراؔ جانے کیا کیا کہہ گئے کس قدر آہستگی سے ہنس پڑی پتھر کی آنکھ

Similar Poets