SHAWORDS
I

Ibrat Machlishahri

Ibrat Machlishahri

Ibrat Machlishahri

poet
7Sher
7Shayari
4Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

apne ehsaanon kaa niilaa saaebaan rahne diyaa

اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیا چھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیا آج اس کی بے زبانی نے مجھے سمجھا دیا کس لئے فطرت نے گل کو بے زباں رہنے دیا زندگی تو کیا اثاثہ تک نہیں باقی بچا قاتلوں نے اب کے بس خالی مکاں رہنے دیا خوف رسوائی سے میں نے خط جلا ڈالا مگر جانے کیوں اس چاند سے لب کا نشاں رہنے دیا دوستی کو اپنی مجبوری نہیں سمجھا کبھی فاصلہ میں نے برابر درمیاں رہنے دیا بے گناہی کی صفائی دے بھی سکتا تھا مگر کچھ سمجھ کر میں نے اس کو بد گماں رہنے دیا آگ کے بازی گروں نے اب کے کھیل ایسا کھیلا شہر کی تقدیر میں خالی دھواں رہنے دیا کیا سیاسی چال ہے یہ ظالمان وقت کی لے لیا سب کچھ مگر اک خوف جاں رہنے دیا چونک چونک اٹھتا ہوں میں راتوں کو عبرتؔ خوف سے خواب اس نے میری آنکھوں میں کہاں رہنے دیا

غزل · Ghazal

ye takalluf ye mudaaraat samajh mein aae

یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے ہو جدائی تو ملاقات سمجھ میں آئے روح کی پیاس پھواروں سے کہیں بجھتی ہے ٹوٹ کے برسے تو برسات سمجھ میں آئے جاگتے لب مرے اور اس کی جھپکتی آنکھیں نیند آئے تو کہاں بات سمجھ میں آئے لی تھی موہوم تحفظ کے گھروندے میں پناہ ریت جب بکھری تو حالات سمجھ میں آئے انگلیاں جسم کے سب عیب و ہنر جانتی ہیں لمس جاگے تو اک اک بات سمجھ میں آئے سیکڑوں ہاتھ مرے قتل میں ٹھہرے ہیں شریک ایک دو ہوں تو کوئی بات سمجھ میں آئے کبھی اترا ہی نہیں اس کے تکلف کا لباس ہو برہنہ تو ملاقات سمجھ میں آئے کوئی آساں نہیں جل جل کے سحر کر لینا شمع بن جاؤ تو پھر رات سمجھ میں آئے تم کسی ریت کے ٹیلے پہ کھڑے ہو عبرتؔ اٹھے طوفاں تو پھر اوقات سمجھ میں آئے

غزل · Ghazal

havaadisaat zaruri hain zindagi ke liye

حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئے کہ موڑ ہوتے ہیں ہر راہ ہر گلی کے لئے نہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے بس ایک لفظ ندامت ہوں زندگی کے لئے وہ تتلیوں کی طرح مجھ سے اور دور ہوا بڑھایا جس کی طرف ہاتھ دوستی کے لئے یہ عضو عضو مرا پیاس سے سلگتا ہے مجھے لہو کی ضرورت ہے تشنگی کے لئے اب اس سے بڑھ کے مرا امتحان کیا ہوگا میں زہر پی کے جیا ہوں تری خوشی کے لئے جو ہو سکے تو خود اشکوں کو پونچھ لو عبرتؔ کسی کے پاس کہاں وقت دل دہی کے لئے

غزل · Ghazal

ai mausam-e-junun ye ajab tarz-e-qatl hai

اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہے انسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہے اپنے لہو کا رنگ بھی پہچانتی نہیں انسان کے نصیب میں اندھوں کی نسل ہے منصف تو فیصلوں کی تجارت میں لگ گئے اب جانے کس سے ہم کو تقاضائے عدل ہے دشمن کا حوصلہ کبھی اتنا قوی نہ تھا میرے تباہ ہونے میں تیرا بھی دخل ہے لڑتے بھی ہیں تو پیار سے منہ موڑتے نہیں ہم سے کہیں زیادہ تو بچوں میں عقل ہے تاریخ کہہ رہی ہے کہ چہرہ بدل گیا انسان ہے مصر کہ وہی اپنی شکل ہے دعویٔ خوں بہا نہ تظلم نہ احتجاج کس بے نوائے وقت کا عبرتؔ یہ قتل ہے

Similar Poets