SHAWORDS
JaiKrishn Chaudhry Habeeb

JaiKrishn Chaudhry Habeeb

JaiKrishn Chaudhry Habeeb

JaiKrishn Chaudhry Habeeb

poet
57Sher
57Shayari
68Ghazal

Sherشعر

See all 57

Popular Sher & Shayari

114 total

Ghazalغزل

See all 68
غزل · Ghazal

mire hi dil se tu puchh kitni tiri adaaon mein zindagi hai

مرے ہی دل سے تو پوچھ کتنی تری اداؤں میں زندگی ہے ترا ستم بھی کرم ہے مجھ پر تری جفاؤں میں زندگی ہے جو تیرے جلوؤں سے ہے فروزاں جو تیری نکہت سے جھومتی ہے جو تیرے نغموں سے گونج اٹھے انہیں فضاؤں میں زندگی ہے انہیں سے رنگیں ہے بزم ہستی انہیں سے نکھر ہے حسن دنیا جو چاہیں سمجھیں جہان والے مری خطاؤں میں زندگی ہے خوشی میں سر دھننے والو سن لو کہ کتنا شیریں ہے نغمۂ غم جو ٹوٹے دل سے صدائیں اٹھی انہیں صداؤں میں زندگی ہے رچی ہے سرگوشیاں سی جن میں ہمارے راز و نیاز کی ہی جو حسن و الفت سے ہی بسی ہے انہیں ہواؤں میں زندگی ہے غرور کتنا بھی تم کو اپنے ہو ذہن و بازو کی قوتوں پر ذرا تو بے کس دلوں سے پوچھو کہ کیا دعاؤں میں زندگی ہے تری حسیں کا ہو ساز بجتا کہ آبشاروں کا ہو ترنم ہو رقص گل یا نوائے بلبل انہیں نواؤں میں زندگی ہے جو بے نیاز زر زمیں ہے جو دل کی دولت سے ہی غنی ہے حبیبؔ ان کو سمجھ نہ کمتر انہیں اداؤں میں زندگی ہے

غزل · Ghazal

tiri mohabbat mein gham jo aae to us se baDh kar khushi nahin hai

تری محبت میں غم جو آئے تو اس سے بڑھ کر خوشی نہیں ہے وفا کی منزل کے خار میں بھی گلوں سے کم دل کشی نہیں ہے نہ تجھ میں جرأت ہے رند کی سی نہ تجھ میں وسعت دل و نظر کی عظیم شے ہے یہ رسم رندی یہ صرف بادہ کشی نہیں ہے لباس نو میں ہوس نے آ کر مذاق حسن و نظر ہیں بدلے وہ عشق میں ہے نہ سرفروشی وہ حسن میں دلبری نہیں ہے تجھی سے گرمی تھی محفلوں کی تجھی سے تھی وہ چمن کی سیریں نہیں وہ محفل میں لطف باقی گلوں کے لب پر ہنسی نہیں ہے نہیں یہ ممکن کہ اس کے در سے تو خالی دامن ہی لوٹ جائے طلب ہی تیری ہے خام اب تک نظر بھی در پر جمی نہیں ہے خرد کی گو ہیں ہزار آنکھیں ہے دل کی صرف ایک آنکھ لیکن جو دل کی بجھ جائے شمع الفت تو پھر کہیں روشنی نہیں ہے غم آشنا تیرا دل نہیں ہے تو آئے اس میں گداز کیسے جو ساز دل کا نہیں ہے ٹوٹا تو اس میں پھر نغمگی نہیں ہے کرو گے کیا تم حبیبؔ آخر حیات طول و طویل لے کر تبسم گل کے ایک لمحے میں کیا کوئی زندگی نہیں ہے

غزل · Ghazal

khamosh nazron se husn-e-butaan ki baat karein

خموش نظروں سے حسن بتاں کی بات کریں نہ لب پہ آئی جو اس داستاں کی بات کریں رہ جنوں میں بھٹکتے کہاں کہاں پہنچے کہاں کہاں کی سنائیں کہاں کی بات کریں جگر کے داغ دکھانے سے فائدہ کیا ہے عبث ہے محض کے زور زماں کی بات کریں نہ بھول جائے زمانہ وفا کی قدروں کو مٹے جو عشق میں ان کے نشاں کی بات کریں جبین شوق کا سجدہ یہاں وہاں کیوں ہو جہاں ہو عظمت سر ہم وہاں کی بات کریں قدم قدم پہ گزرتے ہیں امتحاں کتنے چلو کہ آج نئے امتحاں کی بات کریں یہ یاد لطف بہاراں بھی کم نہیں ہے حبیبؔ بھری خزاں میں بھی کیا ہم خزاں کی بات کریں

غزل · Ghazal

tumhaari aarzu tum se kahin baDh kar hasin nikli

تمہاری آرزو تم سے کہیں بڑھ کر حسیں نکلی کہ دنیا کی ہر اک شے سے یہی دل کے قریں نکلی میں سمجھا یاد بھی ترک تعلق پر تو آئے گی مگر جب دل ٹٹولا ہے وہیں یہ جاگزیں نکلی ابھی کچھ اور بھی کھیلو مرے چاہت بھرے دل سے ابھی بھی زخم کم کم ہیں ابھی حسرت نہیں نکلی سر محفل کیا رسوا مجھے تیری محبت نے جھکی جو نام پر تیرے وہ میری ہی جبیں نکلی نگاہوں نے تجھے ڈھونڈا تجھے دل سے پکارا ہے نظر آئی نہ جو صورت وہ صورت دل نشیں نکلی ہے دو ہی دن کی عمر گل مگر زندہ دلی دیکھو تبسم لب پہ رقصاں ہے فضا ہرگز نہیں نکلی جہاں پر سرحدیں دیر و حرم کی ختم ہوتی ہیں وہیں پر نور ایماں ہے وہیں راہ یقیں نکلی ہماری زندگی دریا کی موج مضطرب سی ہے کہیں ابھری کہیں مچلی کہیں ڈوبی کہیں نکلی اٹھا کرتی ہیں موجوں کی طرح ہی حسرتیں دل میں نئی کتنی ابھر آئیں جو اک حسرت کہیں نکلی شب فرقت حبیبؔ اپنا نہ کوئی کام کا نکلا نہ آنسو با اثر نکلے نہ آہ آتشیں نکلی

غزل · Ghazal

shikva nahin gila nahin rabt koi baham nahin

شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیں رسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیں گو کہ نہیں نگاہ میں دل سے نہیں ہو دور تم دیدۂ دل کے واسطے فاصلہ بیش و کم نہیں بزم سے آپ کیا گئے رونق بزم لے گئے اب وہ سرور دل کہاں آپ گئے تو ہم نہیں آپ کی یاد آ گئی دل پہ خوشی سی چھا گئی اب مجھے غم سے واسطہ اب مجھے کوئی غم نہیں پہلا سا وہ کرم کہاں لطف کی وہ نظر کہاں ہے یہ ستم کی انتہا کوئی نیا ستم نہیں اس کی نگاہ مست کا اب بھی خمار ہے مگر ساقیٔ دل نواز کا پہلا سا وہ کرم نہیں دامن ادھر ہے تار تار رخ پہ نہیں ادھر نقاب عشق اگر ہے بے وقار حسن کا بھی بھرم نہیں منزل زندگی نہ پوچھ صرف سفر ہے زندگی پاؤں اٹھا قدم بڑھا ہوش سنبھال تھم نہیں دیکھ کر ان کے التفات رہ گئی دل کی دل میں بات ہوش گیا جو وہ گئے آئے تو دم میں دم نہیں منتیں شیخ و برہمن کیجئے کس لئے حبیبؔ دل ہے مری نگاہ میں دیر نہیں حرم نہیں

غزل · Ghazal

kyaa kahun kyaa kyaa gayaa jab apnaa kaashaana gayaa

کیا کہوں کیا کیا گیا جب اپنا کاشانہ گیا خم گیا ساقی گیا اور ہم سے مے خانہ گیا ہو گئے کتنے ہی گم عقل و خرد کی راہ میں منزل مقصود تک تو صرف دیوانہ گیا گوشۂ تہذیب میں بھی گھات میں صیاد ہے اب کبھی کا فرق آبادی و ویرانہ گیا آج کی اس زندگی کے تیز رو طوفان میں وقت ذکر ساغر و مینا و پیمانہ گیا جیت لے قلب و جگر قدرت کا اب وہ وقت ہے اب صنم کے جیتنے کا لطف افسانہ گیا زندگی نے اب تراشے نو بتان دل ربا وہ پرانا طرز سجدہ اور بت خانہ گیا ہم زمانے کے رخر و فتار کی باتیں کریں اب وہ لطف گرمیٔ رفتار جانانا گیا آہن و تیشہ کی ہے جھنکار نغمہ وقت کا ہو گیا خاموش مطرب شعر رندانہ گیا خیر مقدم ہم نئے دل سے کریں اب اے حبیبؔ رات گزری شمع رخصت اور پروانہ گیا

Similar Poets