"un ke honTon par aaya tabassum udhar nabz-e-alam idhar tez-tar ho ga.i"

JaiKrishn Chaudhry Habeeb
JaiKrishn Chaudhry Habeeb
JaiKrishn Chaudhry Habeeb
Sherشعر
See all 57 →un ke honTon par aaya tabassum udhar
ان کے ہونٹوں پر آیا تبسم ادھر نبض عالم ادھر تیز تر ہو گئی
jahan kahin bhi koi dil-figar hota hai
جہاں کہیں بھی کوئی دل فگار ہوتا ہے وہیں پہ سایۂ پروردگار ہوتا ہے
donon hathon se masarrat ko luTaya hai 'habib'
دونوں ہاتھوں سے مسرت کو لٹایا ہے حبیبؔ غم کی دولت تو مگر تم سے لٹائی نہ گئی
jahan hasin hai mohabbat ki dil-navazi se
جہاں حسیں ہے محبت کی دل نوازی سے مگر یہ راز کوئی خال خال ہی جانے
har ik fasurda qalb pe chha.i shaguftagi
ہر اک فسردہ قلب پہ چھائی شگفتگی جب چھڑ گئی ہے بزم میں اس گل بدن کی بات
TuuT jaate hain jo duniya ke sahare saare
ٹوٹ جاتے ہیں جو دنیا کے سہارے سارے پردۂ غیب سے ہوتا ہے سہارا پیدا
Popular Sher & Shayari
114 total"jahan kahin bhi koi dil-figar hota hai vahin pe saya-e-parvardigar hota hai"
"donon hathon se masarrat ko luTaya hai 'habib' gham ki daulat to magar tum se luTa.i na ga.i"
"jahan hasin hai mohabbat ki dil-navazi se magar ye raaz koi khal-khal hi jaane"
"har ik fasurda qalb pe chha.i shaguftagi jab chhiD ga.i hai bazm men us gul-badan ki baat"
"TuuT jaate hain jo duniya ke sahare saare parda-e-ghaib se hota hai sahara paida"
bichhDe mujh se is tarah vo zindagi ke ham-safar
bujh gae hon jalte jalte jaise raste ke charaagh
'habib' khud hi banaaeinge roz-o-shab apne
huaa hi kyaa jo zamaane ne saath chhoD diyaa
har ik fasurda qalb pe chhaai shaguftagi
jab chhiD gai hai bazm mein us gul-badan ki baat
baDhti gaiin jafaaein jahaan raah-e-shauq mein
josh-e-junun baDhaataa gayaa tez-tar mujhe
paa ke ik teraa tabassum muskuraai kaaenaat
jhuum uTThaa vo bhi dil jiine se jo bezaar thaa
nikhat vahi surur vahi dil-kashi vahi
aamad ye aap ki hai ki jhonkaa bahaar kaa
Ghazalغزل
mire hi dil se tu puchh kitni tiri adaaon mein zindagi hai
مرے ہی دل سے تو پوچھ کتنی تری اداؤں میں زندگی ہے ترا ستم بھی کرم ہے مجھ پر تری جفاؤں میں زندگی ہے جو تیرے جلوؤں سے ہے فروزاں جو تیری نکہت سے جھومتی ہے جو تیرے نغموں سے گونج اٹھے انہیں فضاؤں میں زندگی ہے انہیں سے رنگیں ہے بزم ہستی انہیں سے نکھر ہے حسن دنیا جو چاہیں سمجھیں جہان والے مری خطاؤں میں زندگی ہے خوشی میں سر دھننے والو سن لو کہ کتنا شیریں ہے نغمۂ غم جو ٹوٹے دل سے صدائیں اٹھی انہیں صداؤں میں زندگی ہے رچی ہے سرگوشیاں سی جن میں ہمارے راز و نیاز کی ہی جو حسن و الفت سے ہی بسی ہے انہیں ہواؤں میں زندگی ہے غرور کتنا بھی تم کو اپنے ہو ذہن و بازو کی قوتوں پر ذرا تو بے کس دلوں سے پوچھو کہ کیا دعاؤں میں زندگی ہے تری حسیں کا ہو ساز بجتا کہ آبشاروں کا ہو ترنم ہو رقص گل یا نوائے بلبل انہیں نواؤں میں زندگی ہے جو بے نیاز زر زمیں ہے جو دل کی دولت سے ہی غنی ہے حبیبؔ ان کو سمجھ نہ کمتر انہیں اداؤں میں زندگی ہے
tiri mohabbat mein gham jo aae to us se baDh kar khushi nahin hai
تری محبت میں غم جو آئے تو اس سے بڑھ کر خوشی نہیں ہے وفا کی منزل کے خار میں بھی گلوں سے کم دل کشی نہیں ہے نہ تجھ میں جرأت ہے رند کی سی نہ تجھ میں وسعت دل و نظر کی عظیم شے ہے یہ رسم رندی یہ صرف بادہ کشی نہیں ہے لباس نو میں ہوس نے آ کر مذاق حسن و نظر ہیں بدلے وہ عشق میں ہے نہ سرفروشی وہ حسن میں دلبری نہیں ہے تجھی سے گرمی تھی محفلوں کی تجھی سے تھی وہ چمن کی سیریں نہیں وہ محفل میں لطف باقی گلوں کے لب پر ہنسی نہیں ہے نہیں یہ ممکن کہ اس کے در سے تو خالی دامن ہی لوٹ جائے طلب ہی تیری ہے خام اب تک نظر بھی در پر جمی نہیں ہے خرد کی گو ہیں ہزار آنکھیں ہے دل کی صرف ایک آنکھ لیکن جو دل کی بجھ جائے شمع الفت تو پھر کہیں روشنی نہیں ہے غم آشنا تیرا دل نہیں ہے تو آئے اس میں گداز کیسے جو ساز دل کا نہیں ہے ٹوٹا تو اس میں پھر نغمگی نہیں ہے کرو گے کیا تم حبیبؔ آخر حیات طول و طویل لے کر تبسم گل کے ایک لمحے میں کیا کوئی زندگی نہیں ہے
khamosh nazron se husn-e-butaan ki baat karein
خموش نظروں سے حسن بتاں کی بات کریں نہ لب پہ آئی جو اس داستاں کی بات کریں رہ جنوں میں بھٹکتے کہاں کہاں پہنچے کہاں کہاں کی سنائیں کہاں کی بات کریں جگر کے داغ دکھانے سے فائدہ کیا ہے عبث ہے محض کے زور زماں کی بات کریں نہ بھول جائے زمانہ وفا کی قدروں کو مٹے جو عشق میں ان کے نشاں کی بات کریں جبین شوق کا سجدہ یہاں وہاں کیوں ہو جہاں ہو عظمت سر ہم وہاں کی بات کریں قدم قدم پہ گزرتے ہیں امتحاں کتنے چلو کہ آج نئے امتحاں کی بات کریں یہ یاد لطف بہاراں بھی کم نہیں ہے حبیبؔ بھری خزاں میں بھی کیا ہم خزاں کی بات کریں
tumhaari aarzu tum se kahin baDh kar hasin nikli
تمہاری آرزو تم سے کہیں بڑھ کر حسیں نکلی کہ دنیا کی ہر اک شے سے یہی دل کے قریں نکلی میں سمجھا یاد بھی ترک تعلق پر تو آئے گی مگر جب دل ٹٹولا ہے وہیں یہ جاگزیں نکلی ابھی کچھ اور بھی کھیلو مرے چاہت بھرے دل سے ابھی بھی زخم کم کم ہیں ابھی حسرت نہیں نکلی سر محفل کیا رسوا مجھے تیری محبت نے جھکی جو نام پر تیرے وہ میری ہی جبیں نکلی نگاہوں نے تجھے ڈھونڈا تجھے دل سے پکارا ہے نظر آئی نہ جو صورت وہ صورت دل نشیں نکلی ہے دو ہی دن کی عمر گل مگر زندہ دلی دیکھو تبسم لب پہ رقصاں ہے فضا ہرگز نہیں نکلی جہاں پر سرحدیں دیر و حرم کی ختم ہوتی ہیں وہیں پر نور ایماں ہے وہیں راہ یقیں نکلی ہماری زندگی دریا کی موج مضطرب سی ہے کہیں ابھری کہیں مچلی کہیں ڈوبی کہیں نکلی اٹھا کرتی ہیں موجوں کی طرح ہی حسرتیں دل میں نئی کتنی ابھر آئیں جو اک حسرت کہیں نکلی شب فرقت حبیبؔ اپنا نہ کوئی کام کا نکلا نہ آنسو با اثر نکلے نہ آہ آتشیں نکلی
shikva nahin gila nahin rabt koi baham nahin
شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیں رسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیں گو کہ نہیں نگاہ میں دل سے نہیں ہو دور تم دیدۂ دل کے واسطے فاصلہ بیش و کم نہیں بزم سے آپ کیا گئے رونق بزم لے گئے اب وہ سرور دل کہاں آپ گئے تو ہم نہیں آپ کی یاد آ گئی دل پہ خوشی سی چھا گئی اب مجھے غم سے واسطہ اب مجھے کوئی غم نہیں پہلا سا وہ کرم کہاں لطف کی وہ نظر کہاں ہے یہ ستم کی انتہا کوئی نیا ستم نہیں اس کی نگاہ مست کا اب بھی خمار ہے مگر ساقیٔ دل نواز کا پہلا سا وہ کرم نہیں دامن ادھر ہے تار تار رخ پہ نہیں ادھر نقاب عشق اگر ہے بے وقار حسن کا بھی بھرم نہیں منزل زندگی نہ پوچھ صرف سفر ہے زندگی پاؤں اٹھا قدم بڑھا ہوش سنبھال تھم نہیں دیکھ کر ان کے التفات رہ گئی دل کی دل میں بات ہوش گیا جو وہ گئے آئے تو دم میں دم نہیں منتیں شیخ و برہمن کیجئے کس لئے حبیبؔ دل ہے مری نگاہ میں دیر نہیں حرم نہیں
kyaa kahun kyaa kyaa gayaa jab apnaa kaashaana gayaa
کیا کہوں کیا کیا گیا جب اپنا کاشانہ گیا خم گیا ساقی گیا اور ہم سے مے خانہ گیا ہو گئے کتنے ہی گم عقل و خرد کی راہ میں منزل مقصود تک تو صرف دیوانہ گیا گوشۂ تہذیب میں بھی گھات میں صیاد ہے اب کبھی کا فرق آبادی و ویرانہ گیا آج کی اس زندگی کے تیز رو طوفان میں وقت ذکر ساغر و مینا و پیمانہ گیا جیت لے قلب و جگر قدرت کا اب وہ وقت ہے اب صنم کے جیتنے کا لطف افسانہ گیا زندگی نے اب تراشے نو بتان دل ربا وہ پرانا طرز سجدہ اور بت خانہ گیا ہم زمانے کے رخر و فتار کی باتیں کریں اب وہ لطف گرمیٔ رفتار جانانا گیا آہن و تیشہ کی ہے جھنکار نغمہ وقت کا ہو گیا خاموش مطرب شعر رندانہ گیا خیر مقدم ہم نئے دل سے کریں اب اے حبیبؔ رات گزری شمع رخصت اور پروانہ گیا





